تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 80. Abasa · Ayah 26
Tafseerثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّاۙ﴿26﴾
- ثُمَّ شَقَقْنَاپھر پھاڑی ہم نے
- الْاَرْضَزمین
- شَقًّاپھاڑنا
Translation · Tafheem-ul-Quran
پھر زمین کو عجیب طرح پھاڑا، 19
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة عَبَس 19
زمین کو پھاڑنے سے مراد اس کو اس طرح پھاڑنا ہے کہ جو بیج یا گھٹلیاں یا نباتات کی پنیریاں انسان اس کے اندر بوئے، یا جو ہواؤں اور پرندوں کے ذریعہ سے، یا کسی اور طریقے سے اس کے اندر پہنچ جائیں، وہ کونپلیں نکال سکیں۔ انسان اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتا کہ زمین کو کھودتا ہے یا اس میں ہل چلاتا ہے اور جو تخم خدا نے پیدا کردیے ہیں، انہیں زمین کے اندر اتار دیتا ہے، اس کے سوا سب کچھ خدا کا کام ہے۔ اسی نے بیشمار اقسام کی نباتات کے تخم پیدا کیے ہیں۔ اسی نے ان تخموں میں یہ خاصیت پیدا کی ہے کہ زمین میں پہنچ کر وہ پھوٹیں اور ہر تخم سے اسی کی جنس کی نباتات اگے۔ اور اسی نے زمین میں یہ صلاحیت پیدا کی ہے کہ پانی سے مل کر وہ ان تخموں کو کھولے اور ہر جنس کی نباتات کے لیے اس کے مناسب حال غذا بہم پنچا کر اسے نشو نما دے۔ یہ تخم ان خاصیتوں کے ساتھ، اور زمین کی یہ بالائی تہیں ان صلاحیتوں کے ساتھ خدا نے پیدا نہ کی ہوتیں تو کیا انسان کوئی غذا بھی یہاں پاسکتا تھا ؟