تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 80. Abasa · Ayah 34
Tafseerیَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ﴿34﴾
- يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُاس دن دوڑے گا انسان
- مِنْ اَخِيْهِاپنے بھائی سے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اُس روز آدمی اپنے بھائی
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة عَبَس 22
اس سے ملتا جلتا مضمون سورة معارج آیات 10 تا 14 میں گزر چکا ہے۔ بھاگنے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے ان عزیزوں کو، جو دنیا میں اسے سب سے زیادہ پیارے تھے، مصیبت میں مبتلا دیکھ کر بجائے اس کے ان کی مدد کو دوڑے، الٹا ان سے بھاگے گا کہ کہیں وہ اسے مدد کے لیے پکار نہ بیٹھیں۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ دنیا میں خدا سے بےخوف اور آخرت سے غافل ہو کر جس طرح یہ سب ایک دوسرے کی خاطر گناہ اور ایک دوسرے کو گمراہ کرتے رہے، اس کے برے نتائج سامنے آتے دیکھ کر ان میں سے ہر ایک دوسرے سے بھاگے گا کہ کہیں وہ اپنی گمراہیوں اور گناہ گاریوں کی ذمہ داری اس پر نہ ڈالنے لگے۔ بھائی کو بھائی سے، اولاد کو ماں باپ سے، شوہر کو بیوی سے، اور ماں باپ کو اولاد سے خطرہ ہوگا کہ یہ کم بخت اب ہمارے خلاف مقدمے کے گواہ بننے والے ہیں۔