تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 81. At-Takwir · Ayah 22
Tafseerوَ مَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنٍۚ﴿22﴾
- وَمَااور نہیں
- صَاحِبُكُمْتمہارا رفیق
- بِمَجْنُوْنٍدیوانہ
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور (اے اہلِ مکّہ) تمہارا رفیق 18 مجنون نہیں ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة التَّكْوِیْر 18
رفیق سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں، اور آپ کو اہل مکہ کا رفیق کہہ کر دراصل انہیں اس بات کا احساس دلایا گیا ہے کہ آپ ان کے لیے کوئی اجنبی شخص نہیں ہیں بلکہ انہی کے ہم قوم اور ہم قبیلہ ہیں۔ انہی کے درمیان آپ کی ساری زندگی بسر ہوئی ہے، اور ان کے شہر کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ آپ کس قدر دانا اور ہوشمند انسان ہیں۔ ایسے شخص کو جانتے بوجھتے مجنون کہتے ہوئے انہیں کچھ تو شرم آنی چاہیے (مزید تشریح کے لئے ملاحظہ ہو تفہیم ال قرآن ، جلد پنجم، النجم، حواشی 2۔ 3)۔