تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 83. Al-Mutaffifin · Ayah 26
Tafseerخِتٰمُهٗ مِسْكٌ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَؕ﴿26﴾
- خِتٰمُهٗاس کی مہر
- مِسْكٌ ۭمشک
- وَفِيْ ذٰلِكَاور اس میں
- فَلْيَتَنَافَسِچاہیے رغبت کریں
- الْمُتَنَافِسُوْنَرغبت کرنے والے
Translation · Tafheem-ul-Quran
جو لوگ دوسروں پر بازی لے جانا چاہتے ہوں وہ اِس چیز کو حاصل کرنے میں بازی لے جانے کی کوشش کریں
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُطَفِّفِيْن 10
اصل میں الفاظ ہیں ختمہ مسک۔ اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جن برتنوں میں وہ شراب رکھی ہوگی ان پر مٹی یا موم کے بجائے مشک کی مہر ہوگی۔ اس مفہوم کے لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ شراب کی ایک نفیس ترین قسم ہوگی جو نہروں میں بہنے والی شراب سے اشرف و اعلی ہوگی اور اسے جنت کے خدام مشک کی مہر لگے ہوئے برتنوں میں لا کر اہل جنت کو پلائیں گے۔ دوسرا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ شراب جب پینے والوں کے حلق سے اترے گی تو آخر میں ان کو مشک کی خوشبو محسوس ہوگی۔ یہ کیفیت دنیا کی شرابوں کے بالکل برعکس ہے جن کی بوتل کھلتے ہی بو کا ایک بھپکا ناک میں آتا ہے، پیتے ہوئے بھی ان کی بدبو محسوس ہوتی ہے، اور حلق سے جب وہ اترتی ہے تو دماغ تک اس کی سڑانڈ پہنچ جاتی ہے جس کی وجہ سے بد مزگی کے آثار ان کے چہرے پر ظاہر ہوتے ہیں۔