تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 84. Al-Inshiqaaq · Ayah 19
Tafseerلَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍؕ﴿19﴾
- لَتَرْكَبُنَّتم ضرور چڑھنا ہے
- طَبَقًاایک درجہ
- عَنْ طَبَقٍایک درجہ سے
Translation · Tafheem-ul-Quran
تم کو ضرور درجہ بدرجہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف گزرتے چلے جانا ہے۔ 11
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاِنْشِقَاق 11
یعنی تمہیں ایک حالت پر نہیں رہنا ہے بلکہ جوانی سے بڑھاپے، بڑھاپے سے موت، موت سے برزخ، برزخ سے دوبارہ زندگی، دوبارہ زندگی سے میدان حشر، پھر حساب و کتاب اور پھر جزا و سزا کی بیشمار منزلوں سے لازما تم کو گزرنا ہوگا۔ اس بات پر تین چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ سورج ڈوبنے کے بعد شفق کی سرخی، دن کے بعد رات کی تاریکی اور اس میں ان بہت سے انسانوں اور حیوانات کا سمٹ آنا جو دن کے وقت زمین پر پھیلے رہتے ہیں اور چاند کا ہلال سے درجہ بدرجہ بڑھ کر بدر کامل بننا۔ یہ گویا چند وہ چیزیں ہیں جو اس بات کی علانیہ شہادت دے رہی ہیں کہ جس کائنات میں انسان رہتا ہے اس کے اندر کہیں ٹھیراؤ نہیں ہے۔ ایک مسلسل تغیر اور درجہ بدرجہ تبدیلی ہر طرف پائی جاتی ہے، لہذا کفار کا یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ موت کی آخری ہچکی کے ساتھ معاملہ ختم ہوجائے گا۔