تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 85. Al-Burooj · Ayah 16
Tafseerفَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُؕ﴿16﴾
- فَعَّالٌکر ڈالنے والا
- لِّمَا يُرِيْدُجو وہ چاہے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور جو کچھ چاہے کر ڈالنے والا ہے۔ 7
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْبُرُوْج 7
" بخشنے والا ہے " کہہ کر یہ امید دلائی گئی ہے کہ کوئی اگر اپنے گناہوں سے باز آ کر توبہ کرلے تو اس کے دامن رحمت میں جگہ پاسکتا ہے۔ " محبت کرنے والا " کہہ کر یہ بتایا گیا ہے کہ اس کو اپنی خلق سے عداوت نہیں ہے کہ خواہ مخواہ اس کو مبتلائے عذاب کرے، بلکہ جس مخلوق کو اس نے پیدا کیا ہے اس سے وہ محبت رکھتا ہے اور سزا صرف اس وقت دیتا ہے جب وہ سرکشی سے باز ہی نہ آئے۔ " مالک عرش " کہہ کر انسان کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ سلطنت کائنات کا فرمانروا وہی ہے، اس سے سرکشی کرنے والا اس کی پکڑ سے بچ کر کہیں نہیں جاسکتا۔ " بزرگ و برتر " کہہ کر انسان کو اس کمینہ پن پر متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسی ہستی کے مقابلہ میں گستاخی کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ اور آخری صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ " جو کچھ چاہے کر ڈالنے والا ہے "، یعنی پوری کائنات میں کسی کی بھی طاقت نہیں ہے کہ اللہ جس کام کا ارادہ کرے اس میں وہ مانع و مزاحم ہو سکے۔