تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 86. At-Taariq · Ayah 4
Tafseerاِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْهَا حَافِظٌؕ﴿4﴾
- اِنْنہیں
- كُلُّ نَفْسٍکوئی جان
- لَّمَّامگر
- عَلَيْهَا حَافِظٌاس پر نگہبان
Translation · Tafheem-ul-Quran
کوئی جان ایسی نہیں ہے جس کے اوپر کوئی نگہبان نہ ہو۔ 1
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الطَّارِق 1
نگہبان سے مراد خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو زمین و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی مخلوق کی دیکھ بھال اور حفاظت کر رہی ہے جس کے وجود میں لانے سے ہر شے وجود میں آئی ہے جس کے باقی رکھنے سے ہر شے باقی ہے، جس کے سنبھالنے سے ہر شے اپنی جگہ سنبھلی ہوئی ہے، اور جس نے ہر چیز کو اس کی ضروریات بہم پہنچانے اور اسے ایک مدت مقررہ تک آفات سے بچانے کا ذمہ لے رکھا ہے۔ اس بات پر آسمان کی اور رات کی تاریکی میں نمودار ہونے والے ہر تارے اور سیارے کی قسم کھائی گئی ہے۔ (النجم الثاقب کا لفظ اگرچہ لغت کے اعتبار سے واحد ہے، لیکن مراد اس سے ایک ہی تارا نہیں ہوتا بلکہ تاروں کی جنس ہے)۔ یہ قسم اس معنی میں ہے کہ رات کو آسمان میں یہ بےحدو حساب تارے اور سیارے جو چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں ان میں سے ہر ایک کا وجود اس امر کی شہادت دے رہا ہے کہ کوئی ہے جس نے اسے بنایا ہے، روشن کیا ہے، فضا میں معلق رکھ چھوڑا ہے، اور اس طرح اس کی حفاظت و نگہبانی کر رہا ہے کہ نہ وہ اپنے مقام سے گرتا ہے، نہ بیشمار تاروں کی گردش کے دوران میں وہ کسی سے ٹکراتا ہے اور نہ کوئی دوسرا تارا اس سے ٹکراتا ہے۔