Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 9. At-Tawba · Ayah 39

Tafseer
  1. اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ وَ لَا تَضُرُّوْهُ شَیْئًا١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿39﴾

    1. اِلَّا تَنْفِرُوْااگر نہ نکلو گے
    2. يُعَذِّبْكُمْتمہیں عذاب دے گا
    3. عَذَابًاعذاب
    4. اَلِيْمًادردناک
    5. وَّاور
    6. يَسْتَبْدِلْبدلہ میں لے آئے گا
    7. قَوْمًااور قوم
    8. غَيْرَكُمْتمہارے سوا
    9. وَلَا تَضُرُّوْهُاور نہ بگاڑ سکو گے اس کا
    10. شَيْئًاکچھ بھی
    11. وَاللّٰهُاور اللہ
    12. عَلٰي كُلِّ شَيْءٍہر چیز پر
    13. قَدِيْرٌقدرت رکھنے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
تم نہ اُٹھو گے تو خدا تمہیں دردناک سزا دے گا،40 اور تمہاری جگہ کسی اور گروہ کو اُٹھائے گا،41 اور تم خدا کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکو گے، وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة التَّوْبَة 40 اسی سے یہ مسئلہ نکلا ہے کہ جب تک نفیر عام (جنگی خدمت کے لیے عام بلاوا) نہ ہو، یا جب تک کسی علاقے کی مسلم آبادی یا مسلمانوں کے کسی گروہ کو جہاد کے لیے نکلنے کا حکم نہ دیا جائے، اس وقت تک تو جہاد فرض کفایہ رہتا ہے، یعنی اگر کچھ لوگ اسے ادا کرتے رہیں تو باقی لوگوں پر سے اس کی فرضیت ساقط ہوجاتی ہے۔ لیکن جب امام المسلمین کی طرف سے مسلمانوں کو جہاد کا عام بلاوا ہوجائے، یا کسی خاص گروہ یا خاص علاقے کی آبادی کو بلاوا دے دیا جائے تو، پھر جنہیں بلاوا دیا گیا ہو ان پر جہاد فرض عین ہے، حتٰی کہ جو شخص کسی حقیقی معذوری کے بغیر نہ نکلے اس کا ایمان تک معتبر نہیں ہے۔ سورة التَّوْبَة 41 یعنی خدا کا کام کچھ تم منحصر نہیں ہے کہ تم کرو گے تو ہوگا ورنہ نہ ہوگا۔ درحقیقت یہ تو خدا کا فضل و احسان ہے کہ وہ تمہیں اپنے دین کی خدمت کا زرین موقع دے رہا ہے۔ اگر تم اپنی نادانی سے اس موقع کو کھو دو گے تو خدا کسی اور قوم کو اس کی توفیق بخش دے گا اور تم نامراد رہ جاؤ گے۔