تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 9. At-Tawba · Ayah 41
Tafseerاِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴿41﴾
- اِنْفِرُوْاتم نکلو
- خِفَافًاہلکا۔ ہلکے
- وَّثِقَالًااور (یا) بھاری
- وَّجَاهِدُوْااور جہاد کرو
- بِاَمْوَالِكُمْاپنے مالوں سے
- وَاَنْفُسِكُمْاور اپنی جانوں
- فِيْمیں
- سَبِيْلِ اللّٰهِاللہ کی راہ
- ذٰلِكُمْیہ تمہارے لیے
- خَيْرٌبہتر
- لَّكُمْتمہارے لیے
- اِنْاگر
- كُنْتُمْتم ہو
- تَعْلَمُوْنَجانتے ہو
Translation · Tafheem-ul-Quran
نکلو، خواہ ہلکے ہو یا بوجھل43، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ ، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة التَّوْبَة 43
ہلکے اور بوجھل کے الفاظ بہت وسیع مفہوم رکھتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب نکلنے کا حکم ہوچکا ہے تو بہرحال تم کو نکلنا چاہیے خواہ برضا ورغبت خواہ بکراہت، خواہ خوشحالی میں خواہ تنگ دستی میں، خواہ ساز و سامان کی کثرت کے ساتھ خواہ بےسروسامانی کے ساتھ، خواہ موافق حالات میں خواہ ناموافق حالات میں، خواہ جوان و تندرست خواہ ضعیف و کمزور۔