Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 9. At-Tawba · Ayah 43

Tafseer
  1. عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ١ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِیْنَ﴿43﴾

    1. عَفَامعاف کرے
    2. اللّٰهُاللہ
    3. عَنْكَتمہیں
    4. لِمَکیوں
    5. اَذِنْتَتم نے اجازت دی
    6. لَهُمْانہیں
    7. حَتّٰيیہاں تک کہ
    8. يَتَبَيَّنَظاہر ہوجائے
    9. لَكَآپ پر
    10. الَّذِيْنَوہ لوگ جو
    11. صَدَقُوْاسچے
    12. وَتَعْلَمَاور آپ جان لیتے
    13. الْكٰذِبِيْنَجھوٹے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اے نبی ؐ ، اللہ تمہیں معاف کرے، تم نے کیوں انہیں رخصت دے دی؟ (تمہیں چاہیے تھا کہ خود رخصت نہ دیتے) تاکہ تم پر کھُل جاتا کہ کو ن لوگ سچے ہیں اورجھوٹوں کو بھی تم جان لیتے۔ 45
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة التَّوْبَة 45 بعض منافقین نے بناوٹی عذرات پیش کر کے نبی ﷺ سے رخصت مانگی تھی، اور حضور ﷺ نے بھی اپنے طبعی حلم کی بنا پر یہ جاننے کے باوجود کہ وہ محض بہانے کر رہے ہیں ان کو رخصت عطا فرمادی تھی۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے پسند نہیں فرمایا اور آپ کو تنبیہ کی کہ ایسی نرمی مناسب نہیں ہے۔ رخصت دے دینے کی وجہ سے ان منافقوں کو اپنے نفاق پر پردہ ڈالنے کا موقع مل گیا۔ اگر انہیں رخصت نہ دی جاتی اور پھر یہ گھر بیٹھے رہتے تو ان کا جھوٹا دعوٰئے ایمان بےنقاب ہوجاتا۔