Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 9. At-Tawba · Ayah 59

Tafseer
  1. وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ۙ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۠ع﴿59﴾

    1. وَلَوْکیا اچھا ہوتا
    2. اَنَّهُمْاگر وہ
    3. رَضُوْاراضی ہوجاتے
    4. مَآجو
    5. اٰتٰىهُمُانہیں دیا
    6. اللّٰهُاللہ
    7. وَرَسُوْلُهٗاور اس کا رسول
    8. وَقَالُوْااور وہ کہتے
    9. حَسْبُنَاہمیں کافی ہے
    10. اللّٰهُاللہ
    11. سَيُؤْتِيْنَااب ہمیں دے گا
    12. اللّٰهُاللہ
    13. مِنْسے
    14. فَضْلِهٖاپنا فضل
    15. وَرَسُوْلُهٗٓاور اس کا رسول
    16. اِنَّآبیشک ہم
    17. اِلَىطرف
    18. اللّٰهِاللہ
    19. رٰغِبُوْنَرغبت رکھتے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
کیا اچھا ہو تا کہ اللہ اور رسول ؐ نے جو کچھ بھی انہیں دیا تھا اس پر وہ راضی رہتے 58اور کہتے کہ ”اللہ ہمارے لیے کافی ہے، وہ اپنے فضل سے ہمیں اور بہت کچھ دے گا اور اس کا رسول بھی ہم پر عنایت فرمائے گا،59 ہم اللہ ہی کی طرف نظر جمائے ہوئے ہیں۔60“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة التَّوْبَة 58 یعنی مال غنیمت میں دے جو حصہ نبی ﷺ ان کو دیتے ہیں اس پر قانع رہتے، اور خدا کے فضل سے جو کچھ یہ خود کماتے ہیں اور خدا کے دیے ہوئے ذرائع آمدنی سے جو خوشحالی انہیں میسر ہے اس کو اپنے لیے کافی سمجھتے۔ سورة التَّوْبَة 59 یعنی زکوٰۃ کے علاوہ جو اموال حکومت کے خزانے میں آئیں گے ان سے حسب استحقاق ہم لوگوں کو اسی طرح استفادہ کا موقع حاصل رہے گا جس طرح اب تک رہا ہے۔ سورة التَّوْبَة 60 یعنی ہماری نظر دنیا اور اس کی متاع حقیر پر نہیں بلکہ اللہ اور اس کے فضل و کرم پر ہے۔ اسی کی خوشنودی ہم چاہتے ہیں۔ اسی سے امید رکھتے ہیں۔ جو کچھ وہ دے اس پر راضی ہیں۔