تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 91. Ash-Shams · Ayah 5
Tafseerوَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰىهَا۪ۙ﴿5﴾
- وَالسَّمَآءِاور آسمان کی
- وَمَا بَنٰىهَااور جس نے اسے بنایا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور آسمان کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اُسے قائم کیا، 3
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الشَّمْس 3
یعنی چھت کی طرح اسے زمین پر اٹھا کھڑا کیا۔ اس آیت اور اس کے بعد کی دو آیتوں میں ما کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی " مَا بَنَاهَا "، اور " مَا طَحَاهَا " اور " مَا سَوَّاهَا " اس لفظ ما کو مفسرین کے ایک گروہ نے مصدری معنوں میں لیا ہے اور وہ ان آیتوں کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ آسمان اور اس کے قائم کیے جانے کی قسم، زمین اور اس کے بچھائے جانے کی قسم، اور نفس اور اس کے ہموار کیے جانے کی قسم۔ لیکن یہ معنی اس لیے درست نہیں ہیں کہ ان تین فقروں کے بعد یہ فقرہ کہ " پھر اس کی بدی اور اس کی پرہیزگاری اس پر الہام کردی " اس سلسلہ کلام کے ساتھ ٹھیک نہیں بیٹھتا۔ دوسرے مفسرین نے یہاں ما کو من یا الذی کے معنی میں لیا ہے، اور وہ ان فقروں کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ جس نے آسمان کو قائم کیا، جس نے زمین کو بچھایا اور جس نے نفس کو ہموار کیا۔ یہی دوسرا مطلب ہمارے نزدیک صحیح ہے، اور اس پر یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ ما عربی زبان میں بےجان اشیاء اور بےعقل مخلوقات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ خود قرآن میں اس کی بکثرت مثالیں موجود ہیں کہ ما کو من کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ مثلاً " وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ " (اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں)۔ " فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ " (پس عورتوں میں سے جو تمہیں پسند آئیں ان سے نکاح کرلو)۔ " وَلَا تَنكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُم مِّنَ النِّسَاءِ " (اور جن عورتوں سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہو ان سے نکاح نہ کرو)۔