تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 92. Al-Lail · Ayah 20
Tafseerاِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰىۚ﴿20﴾
- اِلَّا ابْتِغَآءَمگر چاپئیے کہ
- وَجْهِ رَبِّهِاپنے رب کی رضا
- الْاَعْلٰىبلندو برتر
Translation · Tafheem-ul-Quran
وہ تو صرف اپنے ربِّ برتر کی رضا جوئی کے لیے یہ کام کرتا ہے۔ 10
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الَّیْل 10
یہ اس پرہیزگار آدمی کے خلوص کو مزید توضیح ہے کہ وہ اپنا مال جن لوگوں پر صرف کرتا ہے ان کا کوئی احسان پہلے سے اس پر نہ تھا کہ وہ اس کا بدلہ چکانے کے لیے، یا آئندہ ان سے مزید فائدہ اٹھانے کے لیے ان کو ہدیے اور تحفے دے رہا ہو اور ان کی دعوتیں کر رہا، بلکہ وہ اپنے رب برتر کی رضا جوئی کے لیے ایسے لوگوں کی مدد کر رہا ہے جن کا نہ پہلے اس پر کوئی احسان تھا، نہ آئندہ ان سے وہ کسی احسان کی توقع رکھتا ہے۔ اس کی بہترین مثال حضرت ابوبکر ؓ کا یہ فعل ہے کہ مکہ معظمہ میں جن بےکس غلاموں اور لونڈیوں نے اسلام قبول کیا تھا اور اس قصور میں جن کے مالک ان پر بےتحاشا ظلم توڑ رہے تھے ان کو خرید کر وہ آزاد کردیتے تھے۔ تاکہ وہ ان کے ظلم سے بچ جائیں۔ ابن جریر اور ابن عساکر نے حضرت عامر بن عبداللہ بن زبیر کی یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت ابوبکر کو اس طرح ان غریب غلاموں اور لونڈیوں کی آزادی پر روپیہ خرچ کرتے دیکھ کر ان کے والد نے ان سے کہا کہ بیٹا، میں دیکھ رہا ہوں کہ تم کمزور لوگوں کو آزاد کر رہے ہو۔ اگر مضبوط جوانوں کی آزادی پر تم یہی روپیہ خرچ کرتے تو وہ تمہارے قوت بازو بنتے۔ اس پر حضرت ابوبکر نے ان سے کہا " ای ابہ انما ارید ما عند اللہ "، " ابا جان، میں تو وہ اجر چاہتا ہوں جو اللہ کے ہاں ہے "۔