Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 93. Ad-Dhuhaa · Ayah 11

Tafseer
  1. وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠ع﴿11﴾

    1. وَاَمَّااور جو
    2. بِنِعْمَةِنعمت
    3. رَبِّكَاپنا رب
    4. فَحَدِّثْسو بیان کر
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور اپنے ربّ کی نعمت کا اظہار کرو۔ 11
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الضُّحٰی 11 نعمت کا لفظ عام ہے جس سے مراد وہ نعمتیں بھی ہیں جو اس سورة کے نزول کے وقت تک اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پاک کو عطا فرمائی تھیں، اور وہ نعمتیں بھی جو بعد میں اس نے اپنے ان وعدوں کے مطابق آپ کو عطا کیں جو اس سورة میں اس نے کیے تھے اور جن کو اس نے بدرجہ اتم پورا کیا۔ پھر حکم یہ ہے کہ اے نبی ہر نعمت جو اللہ نے تم کو دی ہے اس کا ذکر اور اس کا اظہار کرو۔ اب یہ ظاہر بات ہے کہ نعمتوں کے ذکر و اظہار کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں اور ہر نعمت اپنی نوعیت کے لحاظ سے اظہار کی ایک خاص صورت چاہتی ہے۔ مجموعی طور پر تمام نعمتوں کے اظہار کی صورت یہ ہے کہ زبان سے اللہ کا شکر ادا کیا جائے اور اس بات کا اقرار و اعتراف کیا جائے کہ جو نعمتیں بھی مجھے حاصل ہیں یہ سب اللہ کا فضل و احسان ہیں ورنہ کوئی چیز بھی میرے کسی ذاتی کمال کا نتیجہ نہیں ہے۔ نعمت نبوت کا اظہار اس طریقہ سے ہوسکتا ہے کہ دعوت و تبلیغ کا حق ادا کیا جائے۔ نعمت قرآن کے اظہار کی صورت یہ ہے کہ لوگوں میں زیادہ سے زیادہ اس کی اشاعت کی جائے اور اس کی تعلیمات لوگوں کے ذہن نشین کی جائیں۔ نعمت ہدایت کا اظہار اسی طرح ہوسکتا ہے کہ اللہ کی بھٹکی ہوئی مخلوق کو سیدھا راستہ بتایا جائے۔ اور اس کام کی ساری تلخیوں اور ترشیوں کو صبر کے ساتھ برداشت کیا جائے۔ یتیمی میں دستگیری کا جو احسان اللہ تعالیٰ نے کیا اس کا اظہار یہی صورت چاہتا ہے کہ اللہ کے محتاج بندوں کی مدد کی جائے۔ غرض یہ ایک بڑی جامع ہدایت تھی جو اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات و احسانات بیان کرنے کے بعد اس مختصر فقرے میں اپنے رسول مقبول ﷺ کو دی۔