تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 93. Ad-Dhuhaa · Ayah 3
Tafseerمَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰىؕ﴿3﴾
- مَانہیں
- وَدَّعَكَآپ کو چھوڑا
- رَبُّكَآپ کا رب
- وَمَا قَلٰىاور نہ بیزار ہوا
Translation · Tafheem-ul-Quran
(اے نبیؐ) تمہارے ربّ نے تم کو ہر گز نہیں چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا۔ 3
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الضُّحٰی 3
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ مدت تک رسول اللہ ﷺ پر وحی کا نزول بند رہا تھا۔ مختلف روایات میں یہ مدت مختلف بیان کی گئی ہے۔ ابن جریح نے 12 روز، کلبی نے 15 روز، ابن عباس نے 25 روز، سدی اور مقاتل نے 40 روز اس کی مدت بیان کی ہے۔ بہرحال یہ زمانہ اتنا طویل تھا کہ رسول اللہ ﷺ اس پر سخت غمگین ہوگئے تھے اور مخالفین بھی آپ کو طعنے دینے لگے تھے، کیونکہ حضور پر جو نئی سورت نازل ہوتی تھی اسے آپ لوگوں کو سنایا کرتے تھے، اس لیے جب اچھی خاصی مدت تک آپ نے کوئی نئی وحی لوگوں کو نہیں سنائی تو مخالفین نے سمجھ لیا کہ وہ سرچشمہ بند ہوگیا ہے جہاں سے یہ کلام آتا تھا۔ جندب بن عبداللہ البجلی کی روایت ہے کہ جب جبریل کے آنے کا سلسلہ رک گیا تو مشرکین نے کہنا شروع کردیا کہ محمد ﷺ کو ان کے رب نے چھوڑ دیا ہے۔ (ابن جریر، طبرانی، عبد حمید، سعید بن منصور، ابن مردویہ)۔ دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو لہب کی بیوی ام جمیل نے، جو حضور کی چچی ہوتی تھی اور جس کا گھر حضور کے مکان سے متصل تھا، آپ سے کہا " معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے شیطان نے تمہیں چھوڑ دیا ہے "۔ عونی اور ابن جریر نے ابن عباس کی روایت نقل کی ہے کہ کئی روز تک جبریل کی آمد رک جانے سے حضور پریشان ہوگئے اور مشرکین کہنے لگے کہ ان کا رب ان سے ناراض ہوگیا ہے اور اس نے انہیں چھوڑ دیا ہے۔ قتادہ اور ضحاک کی مرسل روایات سے بھی قریب قریب یہی مضمون بیان ہوا ہے۔ اس صورت حال میں حضور کے شدید رنج و غم کا حال بھی متعدد روایات میں آیا ہے۔ اور ایسا کیوں نہ ہوتا جبکہ محبوب کی طرف سے بظاہر عدم التفات، کفر و ایمان کے درمیان جنگ چھڑ جانے کے بعد اسی ذریعہ طاقت سے بظاہر محرومی جو اس جاں گسل کشمکش کے منجدھار میں آپ کے لیے واحد سہارا تھا، اور اس پر مزید دشمنوں کی شماتت، یہ ساری چیزیں مل جل کر لا محالہ حضور کے لیے سخت پریشانی کی موجب ہو رہی ہوں گی اور آپ کو بار بار یہ شبہ گزرتا ہوگا کہ کہیں مجھ سے کوئی قصور تو نہیں ہوگیا ہے کہ میرا رب مجھ سے ناراض ہوگیا ہو اور اس نے مجھے حق و باطل کی لڑائی میں تنہا چھوڑ دیا ہو۔
اسی کیفیت میں یہ سورة حضور کو تسلی دینے کے لیے نازل ہوئی۔ اس میں دن کی روشنی اور رات کے سکون کی قسم کھا کر حضور سے فرمایا گیا ہے کہ تمہارے رب نے نہ تمہیں چھوڑ دیا ہے اور نہ وہ تم سے ناراض ہوا ہے۔ اس بات پر ان دونوں چیزوں کی قسم جس مناسبت سے کھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح دن کا روشن ہونا اور رات کا تاریکی اور سکون لیے ہوئے چھا جانا کچھ اس بنا پر نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ دن کے وقت لوگوں سے خوش اور رات کے وقت ان سے ناراض ہوجاتا ہے، بلکہ یہ دونوں حالتیں ایک عظیم حکمت و مصلحت کے تحت طاری ہوئی ہیں، اسی طرح تم پر کبھی وحی بھیجنا اور کبھی اس کو روک لینا بھی حکمت و مصلحت کی بنا پر ہے اس کا کوئی تعلق اس بات سے نہیں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ تم سے خوش ہو تو وحی بھیجے اور جب وہ وحی نہ بھیجے تو اس کے معنی یہ ہوں کہ وہ تم سے ناخوش ہے اور اس نے تمہیں چھوڑ دیا ہے اس کے علاوہ دوسری مناسبت اس مضمون سے اس قسم کی یہ ہے کہ جس طرح دن کی روشنی اگر مسلسل آدمی پر طاری رہے تو وہ اسے تھکا دے، اس لیے ایک وقت خاص تک دن کے روشن رہنے کے بعد رات کا آنا ضروری ہے تاکہ اس میں انسان کو سکون ملے اسی طرح وحی کی روشنی اگر تم پر پے درپے پڑتی رہے تو تمہارے اعصاب اس کو برداشت نہ کرسکیں گے، اس لیے وقتا فوقتا فترۃ (نزول وحی کا سلسلہ رک جانے) کا ایک زمانہ بھی اللہ تعالیٰ نے مصلحت کی بنا پر رکھا ہے تاکہ وحی کے نزول سے جو بار تم پر پڑتا ہے اس کے اثرات زائل ہوجائیں اور تمہیں سکون حاصل ہوجائے۔ گویا آفتاب وحی کا طلوع بمنزلہ روز روشن ہے اور زمانہ فترۃ بمنزلہ سکون شب۔