تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 93. Ad-Dhuhaa · Ayah 5
Tafseerوَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ﴿5﴾
- وَلَسَوْفَاور عنقریب
- يُعْطِيْكَآپ کو عطا کریگا
- رَبُّكَآپ کا رب
- فَتَرْضٰىپس آپ راضی ہوجائیں گے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور عنقریب تمہارا ربّ تم کو اتنا دے گا کہ تم خوش ہو جاوٴ گے۔ 5
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الضُّحٰی 5
یعنی اگرچہ دینے میں کچھ دیر تو لگے گی۔ لیکن وہ وقت دور نہیں ہے جب تم پر تمہارے رب کی عطا و بخشش کی وہ بارش ہوگی کہ تم خوش ہوجاؤ گے۔ یہ وعدہ حضور کی زندگی ہی میں اس طرح پورا ہوا کہ سارا ملک عرب جنوب کے سواحل سے لے کر شمال میں سلطنت روم کی شامی اور سلطنت فارس کی عراقی سرحدوں تک، اور مشرق میں خلیج فارس سے لیکر مغرب میں بحر احمر تک آپ کے زیر نگین ہوگیا، عرب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ سر زمین ایک قانون اور ضابطہ کی تابع ہوگئی، جو طاقت بھی اس سے ٹکرائی وہ پاش پاش ہو کر رہ گئی، کلمہ " لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلَ اللہِ " سے وہ پورا ملک گونج اٹھا جس میں مشرکین اور اہل کتاب اپنے جھوٹے کلمے بلند رکھنے کے لیے آخری دم تک ایڑی چوٹی کا زور لگا چکے تھے، لوگوں کے سر ہی اطاعت میں نہیں جھک گئے بلکہ ان کے دل بھی مسخر ہوگئے اور عقائد، اخلاق اور اعمال میں ایک انقلاب عظیم برپا ہوگیا۔ پوری انسانی تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی کہ ایک جاہلیت میں ڈوبی قوم صرف 23 سال کے اندر اتنی بدل گئی ہو۔ اس کے بعد حضور کی برپا کی ہوئی تحریک اس طاقت کے ساتھ اٹھی کہ ایشیاء، افریقہ اور یورپ کے ایک بڑے حصے پر وہ چھا گئی اور دنیا کے گوشے گوشے میں اس کے اثرات پھیل گئے۔ یہ کچھ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دنیا میں دیا، اور آخرت میں جو کچھ دے گا اس کی عظمت کا تصور بھی کوئی نہیں کرسکتا۔ (نیز دیکھو جلد سوم، طہ حاشیہ 112)۔