تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 95. At-Tin · Ayah 7
Tafseerفَمَا یُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّیْنِؕ﴿7﴾
- فَمَاپس کیوں
- يُكَذِّبُكَتو جھٹلائے
- بَعْدُاس کے بعد
- بِالدِّيْنِدین (روزِ جزا وسزا)
Translation · Tafheem-ul-Quran
پس (اے نبیؐ)اِس کے بعد کون جزا و سزا کے معاملہ میں تم کو جھُٹلا سکتا ہے؟ 6
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة التِّیْن 6
دوسرا ترجمہ اس آیت کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " پس (اے انسان) اس کے بعد کیا چیز تجھے جزا و سزا کو جھٹلانے پر آمادہ کرتی ہے "۔ دونوں صورتوں میں مدعا ایک ہی رہتا ہے۔ یعنی جب یہ بات علانیہ انسانی معاشرے میں نظر آتی ہے بہترین ساخت پر پیدا کی ہوئی نوع انسانی میں سے ایک گروہ اخلاقی پستی میں گرتے گرتے سب نیچوں سے نیچ ہوجاتا ہے، اور دوسرا گروہ ایمان و عمل صالح اختیار کر کے اس گراوٹ سے بچا رہتا ہے اور اسی حالت پر قائم رہتا ہے جو بہترین ساخت پر انسان کے پیدا کیے جانے سے مطلوب تھی، تو اس کے بعد جزا و سزا کو کیسے جھٹلایا جاسکتا ہے ؟ کیا عقل یہ کہتی ہے کہ دونوں قسم کے انسانوں کا انجام یکساں ہو ؟ کیا انصاف یہی چاہتا ہے کہ نہ اسفل السافلین میں گرنے والوں کو کوئی سزا دی جائے اور نہ اس سے بچ کر پاکیزہ زندگی اختیار کرنے والوں کو کوئی جزا ؟ یہی بات دوسرے مقامات پر قرآن میں اس طرح فرمائی گئی ہے کہ " أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِينَ مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ " " کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کی طرح کردیں۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے، تم کیسے حکم لگاتے ہو ؟ " (القلم 35۔ 36)۔ " أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ أَن نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ ۚ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ " " کیا برائیوں کا ارتکاب کرنے والوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم انہیں ان لوگوں کی طرح کردیں جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ؟ دونوں کی زندگی اور موت یکساں ہو ؟ بہت برے حکم ہیں جو یہ لوگ لگاتے ہیں "۔ (الجاثیہ۔ 21)۔