Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 96. Al-Alaq · Ayah 1

Tafseer
  1. اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ﴿1﴾

    1. اِقْرَاْپڑھئیے
    2. بِاسْمِنام سے
    3. رَبِّكَاپنے رب کے
    4. الَّذِيْ خَلَقَجس نے پیدا کیا
Translation · Tafheem-ul-Quran
پڑھو 1 (اے نبیؐ) اپنے ربّ کے نام کے ساتھ 2 جس نے پیدا کیا، 3
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة العلق 1 جیسا کہ ہم نے دیباچہ میں بیان کیا ہے، فرشتے نے جب حضور سے کہا کہ پڑھو، تو حضور نے جواب دیا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے نے وحی کے یہ الفاظ لکھی ہوئی صورت میں آپ کے سامنے پیش کیے تھے اور انہیں پڑھنے کے لیے کہا تھا۔ کیونکہ اگر فرشتے کی بات کا مطلب یہ ہوتا کہ جس طرح میں بولتا جاؤں آپ اسی طرح پڑھتے جائیں، تو حضور کو یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہ ہوتی کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ سورة العلق 2 یعنی اپنے رب کا نام لے کر پڑھو، یا بالفاظ دیگر بسم اللہ کہو اور پڑھو۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ اس وحی کے آنے سے پہلے صرف اللہ تعالیٰ کو اپنا رب جانتے اور مانتے تھے۔ اسی لیے یہ کہنے کی کوئی ضرورت پیش نہیں آئی کہ آپ کا رب کون ہے، بلکہ یہ کہا گیا کہ اپنے رب کا نام لے کر پڑھو۔ سورة العلق 3 مطلقا " پیدا کیا " فرمایا گیا ہے، یہ نہیں کہا گیا کہ کس کو پیدا کیا۔ اس سے خودبخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اس رب کا نام لے کر پڑھو جو خالق ہے، جس نے ساری کائنات کو اور کائنات کی ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔