Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 96. Al-Alaq · Ayah 10

Tafseer
  1. عَبْدًا اِذَا صَلّٰىؕ﴿10﴾

    1. عَبْدًاایک بندہ
    2. اِذَاجب
    3. صَلّٰىوہ نماز پڑھتا ہے
Translation · Tafheem-ul-Quran
جو ایک بندے کو منع کرتا ہے جبکہ  وہ نماز پڑھتا ہو؟ 10
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة العلق 10 بندے سے مراد خود رسول اللہ ﷺ ہیں۔ اس طریقے سے حضور کا ذکر قرآن مجید میں متعدد مقامات پر کیا گیا ہے، مثلا سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا (بنی اسرائیل 1) " پاک ہے وہ جو لے گیا اپنے بندے کو ایک رات مسجد حرام سے مسجد اقصی تک "۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلٰي عَبْدِهِ الْكِتٰبَ (الکہف۔ 1) " تعریف ہے اس خدا کے لیے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی " وَّاَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوْهُ كَادُوْا يَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِ لِبَدًا (الجن 19) " اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ اس کو پکارنے کے لیے کھڑا ہوا تو لوگ پر ٹوٹ پڑنے کے لیے تیار ہوگئے " اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک خاص محبت کا انداز ہے جس سے اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں اپنے رسول محمد ﷺ کا ذکر فرماتا ہے۔ علاوہ بریں اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کے منصب پر سرفراز فرمانے کے بعد رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھنے کا طریقہ سکھا دیا تھا۔ اس طریقے کا ذکر قرآن مجید میں کہیں نہیں ہے کہ اے نبی تم اس طرح نماز پڑھا کرو۔ لہذا یہ اس امر کا ایک اور ثبوت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر صرف وہی وحی نازل نہیں ہوتی تھی جو قرآن میں درج ہے، بلکہ اس کے علاوہ بھی وحی کے ذریعہ سے آپ کو ایسی باتوں کی تعلیم دی جاتی تھی جو قرآن میں درج نہیں ہیں۔