تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 96. Al-Alaq · Ayah 5
Tafseerعَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْؕ﴿5﴾
- عَلَّمَ الْاِنْسَانَسکھایا انسان کو
- مَا لَمْ يَعْلَمْجو وہ نہ جانتا تھا
Translation · Tafheem-ul-Quran
انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا۔ 6
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة العلق 6
یعنی انسان اصل میں بالکل بےعلم تھا۔ اسے جو کچھ بھی علم حاصل ہوا اللہ کے دینے سے حاصل ہوا۔ اللہ ہی نے جس مرحلے پر انسان کے لیے علم کے جو دروازے کھولنے چاہے وہ اس پر کھلتے چلے گئے۔ یہی بات ہے جو آیۃ الکرسی میں اس طرح فرمائی گئی ہے کہ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ۔ " اور لوگ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے سوائے اس کے جو وہ خود چاہے "۔ (البقرہ، 255) جن جن چیزوں کو بھی انسان اپنی علمی دریافت سمجھتا ہے، درحقیقت وہ پہلے اس کے علم میں نہ تھیں، اللہ تعالیٰ ہی نے جب چاہا ان کا علم اسے دیا بغیر اس کے کہ انسان یہ محسوس کرتا کہ یہ علم اللہ اسے دے رہا ہے۔
یہاں تک وہ آیات ہیں جو سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ پر نازل کی گئیں۔ جیسا کہ حضرت عائشہ کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے، یہ پہلا تجربہ اتنا سخت تھا کہ حضور اس سے زیادہ کے متحمل نہ ہوسکتے تھے۔ اس لیے اس وقت صرف یہ بتانے پر اکتفا کیا گیا کہ وہ سب جس کو آپ پہلے سے جانتے اور مانتے ہیں، آپ سے براہ راست مخاطب ہے، اس کی طرف سے آپ پر وحی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، اور آپ کو اس نے اپنا نبی بنا لیا ہے، اس کے ایک مدت بعد سورة مدثر کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں جن میں آپ کو بتایا گیا کہ نبوت پر مامور ہونے کے بعد اب آپ کو کام کیا کرنا ہے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد ششم، المدثر، دیباچہ)