Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 98. Al-Bayyina · Ayah 1

Tafseer
  1. لَمْ یَكُنِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ مُنْفَكِّیْنَ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ الْبَیِّنَةُۙ﴿1﴾

    1. لَمْ يَكُنِنہ تھے
    2. الَّذِيْنَ كَفَرُوْاوہ جو کفر کیا
    3. مِنْسے
    4. اَهْلِ الْكِتٰبِاہل کتاب
    5. وَالْمُشْرِكِيْنَاور مشرکین
    6. مُنْفَكِّيْنَباز آنے والے
    7. حَتّٰىیہاں تک کہ
    8. تَاْتِيَهُمُآئے ان کے پاس
    9. الْبَيِّنَةُکھلی دلیل
Translation · Tafheem-ul-Quran
اہلِ کتاب اور مشرکین 1 میں سے جو لوگ کافر تھے 2 (وہ اپنے کُفر سے) باز آنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے پاس دلیلِ روشن نہ آجائے 3
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة البینہ 1 کفر میں مشترک ہونے کے باوجود ان دونوں گروہوں کو دو الگ الگ ناموں سے یاد کیا گیا ہے۔ اہل کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے پاس پہلے انبیاء کی لائی ہوئی کتابوں میں سے کوئی کتاب، خواہ تحریف شدہ شکل ہی میں سہی، موجود تھی اور وہ اسے مانتے تھے۔ اور مشرکین سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی نبی کے پیرو اور کسی کتاب کے ماننے والے نہ تھے، قرآن مجید میں اگرچہ اہل کتاب کے شرک کا ذکر بہت سے مقامات پر کیا گیا ہے۔ مثلا عیسائیوں کے متعلق فرمایا گیا کہ وہ کہتے ہیں اللہ تین خداؤں میں ایک ہے (المائدہ 73) وہ مسیح ہی کو خدا کہتے ہیں (المائدہ 17) وہ مسیح کو خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں (التوبہ 30) اور یہود کے متعلق فرمایا گیا کہ وہ عزیر کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں (التوبہ 30) لیکن اس کے باوجود قرآن میں کہیں ان کے لیے " مشرک " کی اصطلاح استعمال نہیں کی گئی بلکہ ان کا ذکر اہل کتاب یا الذین اوتوا الکتب (جن کو کتاب دی گئی تھی) یا یہود اور نصاری کے الفاظ سے کیا گیا ہے، کیونکہ وہ اصل دین توحید ہی کو مانتے تھے اور پھر شرک کرتے تھے۔ بخالف اس کے غیر اہل کتاب کے لیے " مشرک " کا لفظ بطور اصطلاح استعمال کیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ اصل دین شرک ہی کو قرار دیتے تھے اور توحید کے ماننے سے ان کو قطعی انکار تھا۔ یہ فرق ان دونوں گروہوں کے درمیان صرف اصطلاح ہی میں نہیں بلکہ شریعت کے احکام میں بھی ہے۔ اہل کتاب کا ذبیحہ مسلمانوں کے لیے حلال کیا گیا ہے اگر وہ اللہ کا نام لے کر حلال جانور کو صحیح طریقہ سے ذبح کریں اور ان کی عورتوں سے نکاح کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے برعکس مشرکین کا نہ ذبیحہ حلال ہے اور نہ ان کی عورتوں سے نکاح حلال۔ سورة البینہ 2 یہاں کفر اپنے وسیع معنوں میں استعمال کیا گیا ہے جن میں کافرانہ رویہ کی مختلف صورتیں شامل ہیں۔ مثلا کوئی اس معنی میں کافر تھا کہ سرے سے اللہ ہی کو نہ مانتا تھا۔ کوئی اللہ کو مانتا تھا مگر اسے واحد معبود نہ مانتا تھا بلکہ خدا کی ذات، یا خدائی کی صفات و اختیارات میں کسی نہ کسی طور پر دوسروں کو شریک ٹھہرا کر ان کی عبادت بھی کرتا تھا۔ کوئی اللہ کی وحدانیت بھی مانتا تھا مگر اس کے باوجود کسی نوعیت کا شرک بھی کرتا تھا۔ کوئی خدا کو مانتا تھا مگر اس کے نبیوں کو نہیں مانتا تھا اور اس ہدایت کو قبول کرنے کا قائل نہ تھا جو انبیاء کے ذریعہ سے آئی ہے۔ کوئی کسی نبی کو مانتا تھا اور کسی دوسرے نبی کا انکار کرتا تھا۔ کوئی آخرت کا منکر تھا۔ غرض مختلف قسم کے کفر تھے جن میں لوگ مبتلا تھے۔ اور یہ جو فرمایا کہ " اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ کافر تھے " اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان میں سے کچھ لوگ کفر میں مبتلا نہ تھے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ کفر میں مبتلا ہونے والے دو گروہ تھے۔ ایک اہل کتاب، دوسرے مشرکین۔ یہاں من تبعیض کے لیے نہیں بلکہ بیان کے لیے ہے۔ جس طرح سورة حج آیت 30 میں فرمایا گیا فاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بتوں کی گندگی سے بچو، نہ یہ کہ بتوں میں جو گندگی ہے اس سے بچو۔ اسی طرح الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَالْمُشْرِكِيْنَ کا مطلب بھی یہ ہے کہ کفر کرنے والے جو اہل کتاب اور مشرکین میں سے ہیں، نہ یہ کہ ان دونوں گروہوں میں سے جو لوگ کفر کرنے والے ہیں۔ سورة البینہ 3 یعنی ان کے اس حالت کفر سے نکلنے کی کوئی صورت اس کے سوا نہ تھی کہ ایک دلیل روشن آکر انہیں کفر کی ہی صورت کا غلط اور خلاف حق ہونا سمجھائے اور راہ راست کو واضح اور مدلل طریقے سے ان کے سامنے پیش کردے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس دلیل روشن کے آجانے کے بعد وہ سب کفر سے باز آجانے والے تھے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دلیل کی غیر موجودگی میں تو اس کا اس حالت سے نکلنا ممکن ہی نہ تھا۔ البتہ اس کے آنے کے بعد بھی ان میں سے جو لوگ اپنے کفر قائم رہیں اس کی ذمہ داری پھر انہی پر ہے، اس کے بعد وہ اللہ سے یہ شکایت نہیں کرسکتے کہ آپ نے ہماری ہدایت کے لیے کوئی انتظام نہیں کیا۔ یہ وہی بات ہے جو قرآن مجید میں مختلف مقامات پر مختلف طریقوں سے بیان کی گئی ہے۔ مثلا سورة نحل میں فرمایا وَعَلَي اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِيْلِ " سیدھا راستہ بتانا اللہ کے ذمہ ہے " (آیت 9) سورة لیل میں فرمایا اِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدٰى " راستہ بتانا ہمارے ذمہ ہے " (آیت 12) اِنَّآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ كَمَآ اَوْحَيْنَآ اِلٰي نُوْحٍ وَّالنَّـبِيّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ۔۔۔ رُسُلًا مُّبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ لِئَلَّا يَكُوْنَ للنَّاسِ عَلَي اللّٰهِ حُجَّــةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ۔ " اے نبی ہم نے تمہارے طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور اس کے بعد کے نبیوں کی طرف بھیجی تھی۔۔۔ ان رسولوں کو بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا بنایا گیا تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے لیے اللہ پر کوئی حجت نہ رہے "۔ (النساء 163۔ 165) يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰي فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَاۗءَنَا مِنْۢ بَشِيْرٍ وَّلَا نَذِيْرٍ ۡ فَقَدْ جَاۗءَكُمْ بَشِيْرٌ وَّنَذِيْرٌ۔ " اے اہل کتاب، تمہارے پاس ہمارا رسول حقیقت واضح کرنے کے لیے رسولوں کا سلسلہ ایک مدت تک بند رہنے کے بعد آگیا ہے تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس نہ کوئی بشارت دینے والا آیا نہ خبردار کرنے والا۔ سو لو اب تمہارے پاس بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا آگیا " (المائدہ 19)