تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 99. Az-Zalzala · Ayah 3
Tafseerوَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَاۚ﴿3﴾
- وَقَالَ الْاِنْسَانُاور کہے گا انسان
- مَا لَهَااسے کیا ہوگیا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور انسان کہے گا کہ یہ اِس کو کیا ہو رہا ہے، 3
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الزلزال 3
انسان سے مراد ہر انسان بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ زندہ ہو کر ہوش میں آتے ہی پہلا تاثر ہر شخص پر یہی ہوگا کہ آخر یہ ہو کیا رہا ہے، بعد میں اس پر یہ بات کھلے گی کہ یہ روز محشر ہے۔ اور انسان سے مراد آخرت کا منکر انسان بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ جس چیز کو وہ غیر ممکن سمجھتا تھا وہ اس کے سامنے برپا ہورہی ہوگی اور وہ اس پر حیران و پریشان ہوگا۔ رہے اہل ایمان تو ان پر یہ حیرانی و پریشانی طاری نہ ہوگی، اس لیے کہ سب کچھ ان کے عقیدہ و یقین کے مطابق ہورہا ہوگا۔ ایک حد تک اس دوسرے معنی کی تائید سورة یسین کی آیت 52 کرتی ہے جس میں ذکر آیا ہے کہ اس وقت منکرین آخرت کہیں گے کہ مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا " کس نے ہمارے خواب گاہ سے ہمیں اٹھا دیا "؟ اور جواب ملے گا ۆھٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ۔ " یہ وہی چیز ہے جس کا خدائے رحمان نے وعدہ کیا تھا اور خدا کے بھیجے ہوئے رسولوں نے سچ کہا تھا "۔ یہ آیت اس معاملہ میں صریح نہیں ہے کہ کافروں کو یہ جواب اہل ایمان ہی دیں گے، کیونکہ آیت میں اس کی تصریح نہیں ہے، لیکن اس امر کا احتمال ضرور ہے کہ اہل ایمان کی طرف سے ان کو یہ جواب ملے گا۔