Tafseer-al-Kitaab - Saad : 6
وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ
وَانْطَلَقَ : اور چل پڑے الْمَلَاُ : سردار مِنْهُمْ : ان کے اَنِ : کہ امْشُوْا : چلو وَاصْبِرُوْا : اور جمے رہو عَلٰٓي اٰلِهَتِكُمْ ښ : اپنے معبودوں پر اِنَّ ھٰذَا : بیشک یہ لَشَيْءٌ : کوئی شے (بات) يُّرَادُ : ارادہ کی ہوئی (مطلب کی)
اور ان لوگوں کے سردار یہ کہتے ہوئے چل کھڑے ہوئے کہ چلو جی، (اس کی ایک نہ سنو) اور جمے رہو اپنے معبودوں (کی عبادت) پر، ضرور اس بات میں (اس شخص کی) کوئی (ذاتی) غرض ہے۔
[3] روایات میں ہے کہ سرداران قریش نے رسول اکرم ﷺ کے چچا ابو طالب سے شکایت کی کہ تمہارا بھتیجا ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہتا ہے تم اسے سمجھاؤ کہ اپنی روش سے باز آجائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ یہ لوگ صرف ایک کلمہ قبول کرلیں تو تمام عرب و عجم ان کا مطیع ہوجائے۔ وہ خوش ہو کر بولے کہ بتلاؤ وہ کلمہ کیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا '' لا الہ الا اللہ ''۔ یہ سنتے ہی وہ طیش میں آ کر کھڑے ہوگئے اور بولے کیا اتنے الہٰوں کو ہٹا کر صرف ایک اِلٰہ ؟ چلو جی، یہ تو اپنے منصوبے سے بازنہ آئیں گے پس تم بھی اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہو۔ [4] یعنی یہ شخص چاہتا ہے کہ ایک اللہ کا نام لے کر ہم سب کو اپنا محکوم بنا لے اور حکومت حاصل کرلے۔
Top