Ahsan-ut-Tafaseer - Al-A'raaf : 176
وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى یَبْلُغَ الْهَدْیُ مَحِلَّهٗ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ١ٙ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْ١ؕ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ یَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠   ۧ
وَاَتِمُّوا : اور پورا کرو الْحَجَّ : حج وَالْعُمْرَةَ : اور عمرہ لِلّٰهِ : اللہ کے لیے فَاِنْ : پھر اگر اُحْصِرْتُمْ : تم روک دئیے جاؤ فَمَا : تو جو اسْتَيْسَرَ : میسر آئے مِنَ : سے الْهَدْيِ : قربانی وَلَا : اور نہ تَحْلِقُوْا : منڈاؤ رُءُوْسَكُمْ : اپنے سر حَتّٰى : یہانتک کہ يَبْلُغَ : پہنچ جائے الْهَدْيُ : قربانی مَحِلَّهٗ : اپنی جگہ فَمَنْ : پس جو كَانَ : ہو مِنْكُمْ : تم میں سے مَّرِيْضًا : بیمار اَوْ : یا بِهٖٓ : اسکے اَذًى : تکلیف مِّنْ : سے رَّاْسِهٖ : اس کا سر فَفِدْيَةٌ : تو بدلہ مِّنْ : سے صِيَامٍ : روزہ اَوْ : یا صَدَقَةٍ : صدقہ اَوْ : یا نُسُكٍ : قربانی فَاِذَآ : پھر جب اَمِنْتُمْ : تم امن میں ہو فَمَنْ : تو جو تَمَتَّعَ : فائدہ اٹھائے بِالْعُمْرَةِ : ساتھ۔ عمرہ اِلَى : تک الْحَجِّ : حج فَمَا : تو جو اسْتَيْسَرَ : میسر آئے مِنَ الْهَدْيِ : سے۔ قربانی فَمَنْ : پھر جو لَّمْ يَجِدْ : نہ پائے فَصِيَامُ : تو روزہ رکھے ثَلٰثَةِ : تین اَيَّامٍ : دن فِي الْحَجِّ : حج میں وَسَبْعَةٍ : اور سات اِذَا رَجَعْتُمْ : جب تم واپس جاؤ تِلْكَ : یہ عَشَرَةٌ : دس كَامِلَةٌ : پورے ذٰلِكَ : یہ لِمَنْ : لیے۔ جو لَّمْ يَكُنْ : نہ ہوں اَھْلُهٗ : اس کے گھر والے حَاضِرِي : موجود الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ : مسجد حرام وَاتَّقُوا : اور تم ڈرو اللّٰهَ : اللہ وَ : اور اعْلَمُوْٓا : جان لو اَنَّ : کہ اللّٰهَ : اللہ شَدِيْدُ : سخت الْعِقَابِ : عذاب
اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں کے سبب سے اس کو بلند (مرتبہ) کردیتے و لیکن وہ خود پستی کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی خوہش پر چلا پس اس کا حال کتے کی طرح ہے اگر اس پر کوئی دوڑنے کی مشقت ڈالی جائے تو اس پر زبان باہر نکالے یا چھوڑ دے تو زبان باہر نکالے یہی حال اس گروہ کا ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا پس تم ان کو یہ نصیحت سنا دو تاکہ وہ غور کریں
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا : " بلعم کو اسم اعظم کا علم دیا تھا، دعائیں قبول ہوتی تھیں۔ اگر ہم چاہتے تو اس کو بہت بڑا مرتبہ دیتے مگر وہ دنیا حاصل کرنے کی طرف مائل ہوگیا۔ اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی کہ ہر وقت ہانپتا رہتا ہے۔ اسی طرح ان لوگوں کی بھی حالت ہے جو عقبی کے منکر اور دنیا کی حرص میں لگے رہتے ہیں اور ان کو نصیحت کام نہیں دتی۔ کتنی ہی نصیحت کی جاوے یہ لوگ راہ راست پر نہیں آسکتے۔ اسی کو فرمایا کہ یہی مثال ہے ان لوگوں کی جو عقبی کو جھٹلاتے ہیں کہ کبھی یہ ہدایت نہیں پا سکتے۔ پھر آنحضرت ﷺ کو خطاب فرمایا کہ اب لوگوں سے ان قصوں اور مثالوں کو بیان فرمادیں تاکہ شاید یہ لوگ غور و فکر کریں۔ پھر فرمایا کہ جو قوم احکام الہی کو جھٹلاتی ہے اس کی بہت ہی بری مثال ہے۔ یہ لوگ آپ اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ۔
Top