تیسیر القرآن
Taiseer-ul-Quran · 4. An-Nisaa · Ayah 38
وَ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا﴿38﴾
- وَالَّذِيْنَاور جو لوگ
- يُنْفِقُوْنَخرچ کرتے ہیں
- اَمْوَالَھُمْاپنے مال
- رِئَآءَدکھاوے کو
- النَّاسِلوگ
- وَاور
- لَا يُؤْمِنُوْنَنہیں ایمان لاتے
- بِاللّٰهِاللہ پر
- وَلَااور نہ
- بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِآخرت کے دن پر
- وَمَنْاور جو۔ جس
- يَّكُنِہو
- الشَّيْطٰنُشیطان
- لَهٗاس کا
- قَرِيْنًاساتھی
- فَسَآءَتو برا
- قَرِيْنًاساتھی
Translation · Taiseer-ul-Quran
اور ان لوگوں کے لئے بھی 71 ، جو خرچ تو کرتے ہیں مگر لوگوں کو دکھانے کے لئے، وہ نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ آخرت کے دن پر۔ اور (ایسی صفات رکھنے والے) جس شخص کا شیطان ساتھی بن گیا تو وہ بہت برا ساتھی ہے
Tafseer · Taiseer-ul-Quran
71 ریاکاری کی وجہ :۔ اس آیت کا تعلق سابقہ مضمون سے بھی ہوسکتا ہے۔ تب اس کا معنیٰ یہ ہوگا کہ ان متکبر اور بڑ مارنے والوں کی دوسری صفت یہ ہے کہ اگر وہ خرچ کرتے بھی ہیں تو محض لوگوں کو دکھاوے کے لیے کرتے ہیں اللہ کی رضامندی کے لیے کرنا پڑے تو بخل کرتے ہیں اور اسے الگ بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ پہلی صورت میں اس کا خطاب سب کے لیے عام ہے۔ گویا یہ دو الگ الگ گناہ ہوئے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہو تو بخل سے کام لینا اور کھلے دل سے صرف اس وقت خرچ کرنا جبکہ نمود و نمائش ہی مقصود ہو اور ان دونوں گناہوں کا سبب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا یا تو اللہ پر اور آخرت پر ایمان ہی نہیں ہوتا اور اگر ہوتا ہے تو بہت ہی کمزور ہوتا ہے۔