Tibyan-ul-Quran - Al-Faatiha : 1
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بِ : سے     اسْمِ : نام     اللّٰهِ : اللہ     ال : جو     رَحْمٰنِ : بہت مہربان     الرَّحِيمِ : جو رحم کرنے والا
اللہ ہی کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو نہایت رحم فرمانے والا بہت مہربان ہے
سورة فاتحہ کے اسماء : سورة فاتحہ کے بہت اسماء ہیں، اور کسی چیز کے زیادہ اسماء اس چیز کی زیادہ فضیلت اور شرف پر دلالت کرتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ سورة فاتحہ بہت شرف اور مرتبہ والی سورت ہے، ان اسماء کی تفصیل حسب ذیل ہے : (١) فاتحۃ الکتاب : فاتحۃ الکتاب کے ساتھ اس سورت کو اس لیے موسوم کیا گیا ہے کہ مصحف کا افتتاح اس سورت سے ہوتا ہے، تعلیم کی ابتداء بھی اس سورت سے ہوتی ہے اور نماز میں قرأت کا افتتاح بھی اس سورت سے ہوتا ہے اور ایک قول کے مطابق کتاب اللہ کی سب سے پہلے یہی سورت نازل ہوئی تھی اور بہ کثرت احادیث میں تصریح ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سورت کو فاتحۃ الکتاب فرمایا۔ امام ترمذی روایت کرتے ہیں :۔ حضرت عبادہ بن صامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے فاتحۃ الکتاب کو نہیں پڑھا اس کو نماز (کامل) نہیں ہوئی۔ (جامع ترمذی ص ٦٣، مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب، کراچی) اس حدیث کو امام ابن ماجہ (امام ابو عبداللہ محمد بن یزید بن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ، سنن ابن ماجہ ص ٦٠ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب، کراچی) اور امام احمد، ٢ (امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ، مسنداحمد ج ٢ ص ٤٢٨، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٣٩٨ ھ) نے بھی روایت کیا ہے۔ (٢) ام القرآن : کسی چیز کی اصل اور اس کے مقصود کو ام کہتے ہیں اور پورے قرآن کا مقصود چار چیزوں کو ثابت کرنا ہے، الوہیت (اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات) معاد (مر کر دوبارہ اٹھنا ) ، نبوت اور قضاء وقدر، سورة فاتحہ میں ” الحمد للہ رب العالمین الرحمان الرحیم “۔ کی الوہیت پر دلالت ہے اور ” مالک یوم الدین “۔ کی معاد پر دلالت ہے، ” ایاک نعبد وایاک نستعین “۔ کی اس پر دلالت ہے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضاء اور قدر سے ہے اور انسان مجبور محض ہے نہ اپنے افعال کا خالق ہے اور ” اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم و لا الضالین “۔ کی نبوت پر دلالت ہے، کیونکہ اس آیت میں اس راستہ کی ہدایت کی دعا کی گئی ہے جو انعام یافتہ لوگوں کا راستہ ہے اور انعام یافتہ لوگ انبیاء (علیہ السلام) ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سورت کو ” ام القرآن “ فرمایا ہے امام داری روایت کرتے ہیں حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : الحمد للہ ” ام القرآن “ ہے اور ” ام الکتاب “ ہے اور ” سبع مثانی “ ہے۔ (سنن دارمی ج ٢ ص ٣٢١، مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان) اور امام مسلم (رح) نے حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے روایت کیا ہے کہ ” لا صلوۃ لمن لم یقرء بام القرآن “ جو ام القرآن نہ پڑھے اس کی نماز کامل نہیں ہے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ١٦٩ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع، کراچی، ١٣٧٥ ھ) (٣) سورة الحمد : اس سورت کا نام ” سورة الحمد “ بھی ہے کیونکہ اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی حمد ہے، جیسے سورة بقرہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس سورت میں بقرہ کا ذکر ہے، اسی طرح سورة اعراف، سورة انفال اور سورة توبہ کے اسماء ہیں، نیز مذکور الصدر ” سنن دارمی “ کی حدیث میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سورت کو الحمد للہ سے تعبیر فرمایا ہے۔ (٤) السبع المثانی : قرآن مجید میں ہے : (آیت) ولقد اتینک سبعا من المثانی، (الحجر : ٨٧) ہم نے آپ کو سات آیتیں دیں جو دہرائی جاتی ہیں۔ امام بخاری (رح) نے روایت کیا ہے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین “۔ السبع المثانی ہے اور وہ قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٧٤٩، مطبوعہ نور محمداصح المطابع، کراچی، ١٣٨١ ھ) سنن دارمی کی مذکور الصدر حدیث میں بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سورت کو السبع المثانی فرمایا ہے۔ اس سورت کو السبع اس لیے فرمایا ہے کیونکہ اس میں سات آیتیں ہیں اور مثانی فرمانے کی حسب ذیل وجوہ ہیں : (اول) اس سورت کے نصف میں اللہ تعالیٰ کی ثناء ہے اور نصف میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے (ثانی) ہر دو رکعت نماز میں اس کو دو مرتبہ پڑھا جاتا۔ (ثالث) یہ سورت دو بار نازل کی گئی ہے۔ (رابع) اس سورت کو پڑھنے کے بعد نماز میں دوسری سورت کو پڑھا جاتا ہے۔ (٥) ام الکتاب : سنن دارمی کی مذکور الصدر حدیث میں اس سورت کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ” ام الکتاب “ فرمایا ہے اور ” صحیح بخاری “ میں ہے : حضرت ابوسعید خدری (رض) نے ایک شخص پر سورة فاتحہ پڑھ کر دم کیا جس کو بچھونے کاٹا ہوا تھا اور کہا : میں نے صرف ام الکتاب پڑھ کر دم کیا ہے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٧٤٩، مطبوعہ نور محمداصح المطابع، کراچی، ١٣٨١ ھ) (٦) الوافیہ : سفیان بن عینیہ نے اس کا نام سورة وافیہ رکھا، کیونکہ صرف اس سورت کو نماز میں آدھا آدھا کرکے نہیں پڑھا جاسکتا لیکن یہ توجیہ صحیح نہیں ہے کیونکہ سورة الکوثر کو بھی ایک رکعت میں آدھا آدھا کرکے نہیں پڑھا جاسکتا لہذا یوں کہنا چاہیے کہ اس سورت کے مضامین جامع اور وافی ہیں اس لیے اس کو وافیہ کہا جاتا ہے۔ (٧) الکافیہ : اس سورت کا کافیہ اس لیے کہتے ہیں کہ دوسری سورتوں کے بدلہ میں اس سورت کو پڑھا جاسکتا ہے اور اس سورت کے بدلہ میں کسی سورت کو نہیں پڑھا جاسکتا۔ حضرت عبادہ بن الصامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ام القرآن “ دوسری سورتوں کا عوض ہے اور دوسری کوئی سورت اس کا عوض نہیں۔ (تفسیر کبیر ج ١ ص۔ ٩ الجامع الاحکام القرآن ج ١ ص ١١٣) (٨) الشفاء : امام دارمی روایت کرتے ہیں : حضرت عبد الملک بن عمیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فاتحۃ الکتاب ‘ ہر بیماری کی شفاء ہے۔ (سنن دارمی ج ٢ ص ٣٢٠‘ مطبوعہ نشر السنۃ ‘ ملتان ) امراض جسمانی بھی ہیں اور روحانی بھی ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے منافقین کے متعلق فرمایا ہے : (آیت) ” فی قلوبہم مرض “۔ (البقرہ : ١٠) ان کے دلوں میں بیمار ہے ‘ اور اس سورت میں اصول اور فروع کا ذکر ہے ‘ جن کے تقاضوں پر عمل کرنے سے روحانی امراض میں شفاء حاصل ہوتی ہے اور اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی ثناء اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے جس سے جسمانی اور دیگر ہر قسم کی بیماریوں سے شفاء حاصل ہوتی ہے۔ (٩) سورة الصلوۃ : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اس سورت پر صلوۃ کا اطلاق کیا ہے ‘ امام مسلم (رح) نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے : میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نماز ( سورة فاتحہ) کو میرے اور میرے بندہ کے درمیان آدھا ‘ آدھا تقسیم کیا گیا ہے اور میرے بندہ کے لیے وہ ہے جس کا وہ سوال کرے ‘ پس جب بندہ کہتا ہے : (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین “۔ تو میں کہتا ہوں : بندہ نے میری حمد کی۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ١٧٠۔ ١٦٩‘ مطبوعہ نور محمداصح المطابع ‘ کراچی ١٣٧٥ ھ) (١٠) سورة الدعا : یہ سورت اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا سے شروع ہوتی ہے ‘ پھر بندہ کی عبادت کا ذکر ہے ‘ پھر اللہ تعالیٰ سے صراط مستقیم پر ثابت قدم رہنے کی دعا ہے اور دعا اور سوال کا یہی اسلوب ہے کہ پہلے داتا کی حمد وثناء کی جائے ‘ پھر دست طلب بڑھایا جائے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کی ہے ‘ پھر اپنے لیے دعا کی ہے : (آیت) ” الذی خلقنی فھو یھدین والذی ھو یطعمنی ویسقین واذا مرضت فھو یشفین والذی یمیتنی ثم یحیین والذی اطمع ان یغفرلی خطیئتی یوم الدین رب ھب لی حکما والحقنی بالصلحین واجعل لی لسان صدق فیی الاخرین واجعلنی من ورثۃ جنۃ النعیم (الشعراء : ٨٥۔ ٨٧) ترجمہ (وہ جس نے مجھے پیدا کیا تو وہی مجھے ہدایت دیتا ہے اور وہی مجھے کھلاتا ہے اور وہی مجھے وفات دے گا اور پھر زندہ فرمائے گا اور اسی سے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن وہی میری (ظاہری یا اجتہادی) خطائیں معاف فرمائے گا اے میرے رب ! مجھے حکم عطا فرما اور مجھے نیکوں کے ساتھ لاحق کر دے اور میرے بعد آنے والی نسلوں میں میرا ذکر خیر جاری رکھ اور مجھے جنۃ النعیم کے وارثوں میں شامل کر دے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دعا کی : (آیت) ” فاطر السموت والارض انت ولی فی الدنیا والاخرۃ، توفنی مسلما والحقنی بالصلحین۔ (یوسف : ١٠١) ترجمہ : اے آسمانوں اور زمینوں کو ابتداء پیدا کرنے والے ‘ تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کار ساز ہے ‘ میری وفات اسلام پر کر اور مجھے نیکوں کے ساتھ لاحق کر دے سو دعا کا یہی طریقہ ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی جائے، پھر اس سے سوال کی جائے ‘ اور سورة فاتحہ میں اسی طریقہ سے دعا کرنے کی تعلیم دی ہے ‘ اس لیے اس کو سورة دعا کہتے ہیں۔ علامہ بقاعی نے ان اسماء کے علاوہ سورة فاتحہ کے اسماء میں اساس ‘ کنز ‘ واقعہ ‘ رقیہ ‘ اور شکر کا بھی ذکر ہے۔ علامہ بقاعی نے ان اسماء میں نظم اور ربط کو بیان کیا ہے ‘ وہ لکھتے ہیں (١) فاتحہ کے اعتبار سے ہر نیک چیز کا افتتاح اس سورت سے ہونا چاہیے۔ (٢) اور ام کے لحاظ سے یہ ہر خیر کی اصل ہے۔ (٣) اور ہر نیکی کی اساس ہے۔ (٤) اور مثنی کے لحاظ سے دو بار پڑھے بغیر یہ لائق شمار نہیں۔ (٥) اور کنز کی حیثیت سے یہ ہر چیز کا خزانہ ہے۔ (٦) ہر بیماری کے لیے شفا ہے۔ (٧) ہر مہم کے لیے کافی ہے۔ (٨) ہر مقصود کے لیے دافی ہے۔ (٩) واقیہ کے لحاظ سے ہر برائی سے بچانے والی ہے۔ (١٠) رقیہ کے اعتبار سے۔ (١١) ہر آفت ناگہانی کے لیے دم ہے۔ (١٢) اس میں حمد کا اثبات ہے صفات کمال کا احاطہ ہے۔ (١٣) اور شکر کا بیان ہے جو منعم کی تعظیم ہے۔ (١٤) اور یہ بعینہ دعا ہے ‘ جو مطلوب کی طرف توجہ ہے ‘ ان تمام امور کی جامع صلوۃ ہے۔ (نظم الدرر ج ١ ص ٢٠۔ ١٩‘ مطبوعہ دارالکتاب الاسلامی ‘ قاہرہ ‘ ١٤١٣ ھ) علامہ آلوسی نے سورة فاتحہ کے بائیس اسماء کا ذکر کیا ہے ‘ ان میں فاتحہ القرآن ‘ تعلیم القرآن ‘ تعلیم المسئلہ ‘ سورة السوال ‘ سورة المناجاۃ ‘ سورة التفویض شافعیہ ‘ اور سورة النور بھی ہیں۔ سورة فاتحہ کے فضائل : امام بخاری روایت کرتے ہیں : حضرت ابوسعید بن معلی (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نماز پڑھ رہا تھا ‘ (دوران نماز) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بلایا ‘ میں حاضر نہ ہوا ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں اس وقت نماز پڑھ رہا تھا ‘ آپ نے فرمایا : کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا : (آیت) ” استجیبوا للہ وللرسول اذا دعا کم “۔ (الانفال : ٢٤) اللہ اور رسول کے بلانے پر (فورا) حاضر ہوجاؤ “۔ پھر فرمایا : سنو ! میں تم کو مسجد سے باہر نکلنے سے پہلے قرآن کی سب سے عظیم سورت کی تعلیم دوں گا ‘ پھر میرا ہاتھ پکڑ لیا ‘ جب ہم نے باہر نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا تھا : میں تم کو قرآن کی سب سے عظیم سورت کی تعلیم دوں گا ‘ آپ نے فرمایا : (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین “۔ یہ سبع مثانی ہے اور قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٧٤٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی سب سے عظیم سورت ‘ سورت فاتحہ ہے ‘ اور اس کا نام ” السبع المثانی “ بھی ہے اور یہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر نماز کے دوران بلائیں ‘ تب بھی آنا واجب ہے ‘ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں حاضر ہونے سے نماز نہیں ٹوٹتی۔ نیز امام بخاری روایت کرتے ہیں : حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر ہیں تھے ‘ ہم نے ایک جگہ قیام کیا ‘ ایک لڑکی نے آکر کہا کہ قبیلہ کے سردار کو ایک بچھو نے ڈس لیا ہے اور ہمارے لوگ حاضر نہیں ہیں ‘ کیا تم میں سے کوئی شخص دم کرسکتا ہے ؟ ہم میں سے ایک شخص اس کے ساتھ گیا جس کو اس سے پہلے ہم دم کرنے کی تہمت نہیں لگاتے تھے ‘ اس نے اس شخص پر دم کیا جس سے وہ تندرست ہوگیا ‘ اور اس سردار نے اس کو تیس بکریاں دینے کا حکم دیا ‘ اور ہم کو دودھ پلایا ‘ جب وہ واپس آیا تو ہم نے اس سے پوچھا : کیا تم پہلے دم کرتے تھے ؟ اس نے کہا : نہیں ‘ میں نے تو صرف ام الکتاب ( سورة فاتحہ) پڑھ کر دم کیا ہے ‘ ہم نے کہا : اب اس کے متعلق کوئی بحث نہ کرو ‘ حتی کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کے متعلق پوچھ لیں ‘ ہم مدینہ پہنچے تو ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق پوچھا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو کیا معلوم کہ یہ دم ہے ‘ (ان بکریوں کو) تقسیم کرو ‘ اور ان میں سے میرا حصہ بھی نکالو۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٧٤٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سورة فاتحہ پڑھ شخص پر دم کرنا جائز ہے ‘ اس لیے سورت کو ” سورة الرقیہ “ اور ” سورة الشفاء “ بھی کہتے ہیں ‘ اور اس حدیث میں یہ تصریح بھی ہے کہ اس سورت کو ” ام الکتاب “ بھی کہتے ہیں ‘ اور یہ کہ قرآن پڑھ کر دم کرنے کی اجرت لینا جائز ہے اور اس قرآن مجید اور کتب دینیہ پر اجرت لینے کا بھی جواز ہے ‘ اور اس میں مصحف کو قیمۃ فروخت کرنے اور مصحف کی کتابت پر اجرت لینے کا بھی جواز ہے اور یہ کہ استاد کی تعلیم سے تلمیذ کو جو آمدنی ہو اس میں استاذکا بھی حصہ ہوتا ہے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ اب کسی بیمارکو سورة فاتحہ پڑھ کر دم کیا جائے اور وہ شفاء نہ پائے تو اس کی کیا وجہ ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دم کرنے والے میں روحانیت کی کمی ہے ‘ سورة فاتحہ کے شفاء ہونے میں کوئی کمی نہیں ہے۔ امام ترمذی روایت کرتے ہیں :۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابی بن کعب (رض) کے پاس تشریف لے گئے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابی ! اور وہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے ‘ حضرت ابی (رض) نے مڑ کر دیکھا اور حاضر نہیں ہوئے ‘ حضرت ابی (رض) نے جلدی جلدی نماز پڑھی ‘ پھر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کہا : ” اسلام علیک یا رسول اللہ ! “ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” وعلیک “ اے ابی ! جب میں نے جو میری طرف وحی فرمائی ہے کیا تمہیں اس میں یہ حکم نہیں ملا ‘ (آیت) ” استجیبوا للہ وللرسول اذا دعا کم لما یحییکم “۔ (الانفال : ٢٤) جب اللہ اور رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائیں جو تمہیں زندہ کر دے گی تو (فورا) حاضر ہوجاؤ۔ “ حضرت ابی نے کہا : کہوں نہیں ؟ اور میں انشاء اللہ دوبارہ ایسا نہیں کروں گا ‘ آپ نے فرمایا : کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ میں تم کو ایسی سورت کی تعلیم دوں ‘ جس کی مثل تورات میں نازل ہوئی نہ انجیل میں ‘ نہ زبور میں نہ قرآن میں ؟ میں نے کہا : جی ! یا رسول اللہ ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نماز میں کس طرح پڑھتے ہو ؟ تو انہوں نے ام القرآن ( سورة فاتحہ) پڑھی ‘ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ! اس کی مثل تورات میں نازل ہوئی ہے نہ انجیل میں ‘ نہ زبور میں نہ فرقان میں ‘ یہ ” السبع من المثانی “ (دودوبار پڑھی جانے والی سات آیتیں) ہے اور وہ قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے ‘ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی ص ٤٠٨‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی ) اس حدیث کو امام بغوی نے بھی اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے ‘ نیز وہ اس حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں : ” السبع من المثانی “ میں ” من “ زائدہ ہے ‘ اس سے مراد سورة فاتحہ ہے جس کی سات آیتیں ہیں ‘ اور اس کو مثانی اس لیے کہتے ہیں کہ ہر نماز میں سورة فاتحہ کو دو بار پڑھا جاتا ہے، ایک قول یہ ہے کہ مثانی استثناء سے ماخوذ ہے ‘ کیونکہ اس سورت کے ساتھ یہ امت مستثنی ہے، اس امت سے پہلی امتوں پر یہ سورت نازل نہیں کی گئی، ایک قول یہ ہے کہ یہ ثنا سے ماخوذ ہے ‘ کیونکہ اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا ہے ‘ اور ایک قول یہ ہے کہ مثانی سے مراد قرآن مجید ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے : (آیت) ” اللہ نزل احسن الحدیث کتبا متشابھا مثانی “۔ (الزمر : ٢٣) اللہ نے بہترین کلام نازل فرمایا ‘ ایسی کتاب جس کی آیتیں آپس میں متشابہ ہیں بار بار دہرائی ہوئی ہیں۔ تمام قرآن کو مثانی اس لیے کہا گیا ہے کہ اس میں قصص اور امثال کو دہرایا گیا ہے اس تقدیر پر ” السبع من المثانی “ کا معنی ہے : قرآن کریم کی سات آیتیں اور ایک قول یہ ہے کہ مثانی سے مراد قرآن مجید کی وہ سورتیں ہیں جن میں سو سے کم آیتیں ہوں۔ اور اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہونے سے نماز باطل نہیں ہوتی ‘ کیونکہ تم ” السلام علیک ایھا النبی “ کہہ کر نماز میں حضور سے خطاب کرتے ہو ‘ جب کہ کسی اور کے ساتھ نماز میں خطاب کرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے۔ (شرح السنۃ ج ٣ ص ١٥۔ ١٤) امام مسلم (رح) روایت کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا، میرے اور میرے بندے کے درمیان صلوۃ (سورۃ فاتحہ) کو آدھا آدھا تقسیم کردیا گیا ہے ‘ اور میرے بندہ کے لیے وہ چیز ہے جس کا وہ سوال کرے ‘ اور جب بندہ کہتا ہے ‘(آیت) ” الحمد للہ رب العالمین “۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، میرے بندہ نے میری حمد کی ‘ اور جب وہ کہتا ہے :” الرحمن الرحیم “ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندہ نے میری ثناء کی ‘ اور جب وہ کہتا ہے، (آیت) ”۔ مالک یوم الدین “ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ‘ میرے بندہ نے میری تعظیم کی، اور ایک بار فرمایا، میرے بندہ نے (خود) کو میرے سپرد کردیا ‘ اور جب وہ کہتا ہے (آیت) ”۔ ایاک نعبد وایاک نستعین “۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، یہ میرے اور میرے بندہ کے درمیان ہے ‘ اور میرے بندہ کے لیے وہ ہے جس کا وہ سوال کرے، اور جب وہ کہتا ہے : (آیت) ”۔ اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم غیرالمغضوب علیھم ولا الضالین “۔ تو اللہ تعالیٰ فرمایا ہے، یہ میرے بندہ کے لیے ہے اور میرے بندہ کے لیے وہ چیز ہے جس کا وہ سوال کرے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ١٧٠۔ ١٦٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ) اس حدیث میں سورة فاتحہ کا ذکر ہے اور اس کے شروع میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کا ذکر نہیں ہے ‘ اس سے علماء احناف اور مالکیہ نے یہ استدلال کیا ہے کہ ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ سورة فاتحہ کا جز نہیں ہے اور یہ ان کی بہت قوی دلیل ہے ‘ فقہاء شافعیہ نے اس کے جواب میں جو تاویلات کی ہیں وہ بہت ضعیف ہیں ‘ ہم نے ” شرح صحح مسلم “ جلد اول میں ان کا ذکر کرکے ان کا رد کیا ہے۔ امام نسائی (رح) روایت کرتے ہیں : حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس وقت جبرائیل (علیہ السلام) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے اوپر کی جانب سے ایک چرچراہٹ کی آواز سنی ‘ حضرت جبرائیل نے کہا : یہ آسمان کا ایک دروازہ ہے جو آج کھولا گیا ہے اور آج سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا۔ اس دروازہ سے ایک فرشتہ نازل ہوا ‘ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا : یہ فرشتہ جو زمین کی طرف نازل ہوا ہے یہ آج سے پہلے کبھی نازل نہیں ہوا تھا ‘ اس فرشتہ نے آکر سلام کیا اور کہا : آپ کو دو نوروں کی بشارت ہو جو آپ دیئے گئے ہیں اور آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیئے گئے (ایک نور) فاتحۃ الکتاب ہے اور (دوسرا) سورة بقرہ کی آخری آیتیں ہیں ‘ ان میں سے جس حرف کو بھی آپ پڑھیں گے وہ آپکو دے دیا جائے گا۔ (سنن نسائی ج ٥ ص ١٣۔ ١٢‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی) امام دارمی (رح) روایت کرتے ہیں : عبدالملک بن عمیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فاتحۃ الکتاب سے ہر بیماری کی شفاء ہے۔ (سنن دارمی ج ٢ ص ٣٢٠‘ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان ) حافظ نور الدین الہیثمی (رح) بیان کرتے ہیں : حضرت ابو زید (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مدینہ کے کسی راستہ میں جارہا تھا ‘ آپ نے ایک شخص کی آواز سنی جو تہجد کی نماز میں ام القرآن ( سورة فاتحہ) ُ پڑھ رہا تھا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہو کر اس سورت کو سنتے رہے حتی کہ اس نے وہ سورت ختم کرلی، آپ نے فرمایا : قرآن میں اس کی مثل (اور کوئی سورت) نہیں ہے ‘ امام طبرانی (رح) نے اس حدیث کو ” معجم اوسط “ میں روایت کیا ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن دینار ضعیف ہے۔ (مجمع الزوائد ج ٦ ص ٣١٠‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس دن فاتحۃ الکتاب ( سورة فاتحہ) نازل ہوئی اس دن ابلیس بہت رویا تھا اور یہ سورت مدینہ میں نازل ہوئی تھی اس حدیث کو امام طبرانی (رح) نے ” معجم اوسط “ میں روایت کیا ہے اور اسکی سند صحیح ہے (مجمع الزوائد ج ٦ ص ٣١١‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ) سورة فاتحہ کا مقام نزول : سورة فاتحہ کے نزول کے متعلق متعدد روایات ہیں ‘ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سورة فاتحہ مکہ میں نازل ہوئی ہے اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مدینہ میں نازل ہوئی ہے ‘ اس لیے محققین کا یہ موقف ہے کہ یہ سورت دو بار نازل ہوئی ایک بار مکہ میں اور ایک بار مدینہ میں۔ علامہ سیوطی نے ان تمام روایات کو جمع کردیا ہے۔ علامہ سیوطی (رح) لکھتے ہیں : واحدی نے ” اسباب النزول “ میں اور ثعلبی نے اپنی تفسیر میں حضرت علی (رض) سے روایت کیا ہے کہ سورة فاتحہ مکہ میں ایک خزانہ سے نازل ہوئی ہے جو عرش کے نیچے ہے۔ امام ابن ابی شیبہ نے ” مصنف “ میں اور ابو نعیم اور بیہقی دونوں نے اپنی اپنی ” دلائل النبوۃ “ اور واحدی اور ثعلبی نے ازابی میسرہ از عمرو بن شرجیل روایت کیا ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خدیجہ (رض) سے فرمایا : جب میں خلوت میں ہوتا ہوں تو ایک آواز سنتا ہوں ‘ بہ خدا ! آپ امانت کو ادا کرتے ہیں ‘ صلہ رحمی کرتے ہیں اور سچ بولتے ہیں ‘ اسی اثناء میں حضرت ابوبکر (رض) آئے، اس وقت گھر میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیں تھے ‘ حضرت خدیجہ (رض) نے انکو بتایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا تھا ‘ اور کہا : آپ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ورقہ کے پاس جائیں، جب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو حضرت ابوبکر (رض) نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ ورقہ کے پاچلیں ‘ آپ نے پوچھا : تم کو کس نے بتایا ؟ انہوں نے کہا : حضرت خدیجہ (رض) نے پھر دونوں ورقہ کے پاس گئے ‘ اور اس کو واقعہ سنایا ‘ آپ نے فرمایا : جب میں خلوت میں تھے تو آپ کو آواز آئی : یا محمد ! کہیے : ” بسم اللہ الرحمن الرحیم، الحمد للہ رب العلمین “ اور اس کو ” ولا الضالین “۔ تک پڑھا ‘ اور کہا : کہیے : ” لا الہ الا اللہ “ پھر آپ ورقہ کے پاس گئے اور اس کو یہ واقعہ سنایا ‘ ورقہ نے کہا : آپکو بشارت ہو ‘ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ وہی ہیں جس کے آنے کی ابن مریم (علیہ السلام) کو بشارت دی گئی تھی اور آپ کے پاس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ناموس کی مثل ہے ‘ اور آپ نبی مرسل ہیں۔ امام ابونعیم نے دلائل النبوۃ میں اپنی سند کے سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ جب بنو سلمہ کے جوان مسلمان ہوئے اور عمرو بن جموع کا بیٹا مسلمان ہوا تو عمرو کی بیوی نے عمرو کی بیوی نے عمرو سے کہا : تم اپنے بیٹے سے پوچھو وہ اس شخص سے کیا روایت کرتے ہیں ؟ عمرو نے اپنے بیٹے سے کہا : مجھے اس شخص کا کلام سناؤ تو اس کے بیٹے نے پڑھا : (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین “ اور ” الصراط المستقیم “۔ تک پڑھا اس نے کہا : یہ کتنا حسین اور جمیل کلام ہے کیا اس کا سارا کلام اسی طرح ہے ؟ اس کے بیٹے نے کہا : اے ابا اس سے بھی زیادہ حسین ہے، اور یہ ہجرت سے پہلے واقعہ ہے ‘ ان تینوں روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سورة فاتحہ مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ امام ابن ابی شیبہ (رح) نے ” مصنف “ میں ابو سعید بن اعرابی نے ” معجم “ میں اور طرانی (رح) نے ” اوسط “ میں مجاہد (رح) کی سند سے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب فاتحۃ الکتاب نازل ہوئی تو ابلیس خوب رویا اور یہ مدینہ میں نازل ہوئی تھی۔ وکیع اور فریابی نے اپنی تفسیروں میں ابوبکر بن انباری نے ” فضائل قرآن “ میں امام ابن ابی شیبہ (رح) نے ” مصنف “ میں عبد بن حمید اور ابن منذر (رح) نے اپنی تفسیر میں ابوبکر بن انباری نے ” کتاب المصاحف “ میں ‘ ابوالشیخ نے ” العظمۃ “ میں اور ابونعیم نے ” حلیہ “ میں مجاہد سے روایت کیا ہے کہ فاتحۃ الکتاب مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔ وکیع (رح) نے اپنی تفسیر میں مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ فاتحۃ الکتاب مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٣‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران ) اب تینوں روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سورة فاتحہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے۔ سورة فاتحہ کی آیات کی تعداد : ہم اس سے پہلے مقدمہ میں بیان کرچکے ہیں کہ سب سے پہلے سورة علق اور سورة مدثر کی چند آیات نازل ہوئیں اور جو سب سے پہلے مکمل سورت نازل ہوئی وہ سورت فاتحہ ہے ‘ یہ سورت دو بار نازل ہوئی ‘ ایک بار مکہ میں اور ایک بار مدینہ میں اور اس میں بااتفاق سات آیتیں ہیں ‘ اس لیے اس کو ” السبع المثانی “ کہا جاتی ہے، فقہاء شافعیہ اور فقہاء حنبلیہ کے نزدیک ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ سورة فاتحہ کا جز ہے اور اس سمیت سورة فاتحہ کی سات آیتیں ہیں اور علماء احناف اور علماء مالکیہ کے نزدیک ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “۔ سورة فاتحہ کا جز نہیں ہے۔ ١ (علامہ موفق الدین عبداللہ بن احمد بن قدامہ حنبلی متوفی ٦٢٠ ھ المغنی ج ١ ص ٢٨٤‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ) ان کے نزدیک (آیت) ” صراط الذین انعمت علیہم “ ایک آیت ہے اور اول الذکر کے نزدیک (آیت) ” صراط الذین انعمت علیھم غیر المغضوب علیھم ولا الضالین “ ملکر ایک آیت ہے۔ ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ سورة فاتحہ کا جز ہے یا نہیں اس پر مفصل گفتگو عنقریب آئے گی۔ سورة فاتحہ کے مضامین : قرآن مجید کے حسب ذیل مضامین ہیں : (١) توحید : نزول قرآن کے وقت دنیا میں بالعموم بت پرستی کا دور دورہ تھا ‘ اور کفار عرب کے دعوی دار ہونے کے باوجود اپنے زعم میں اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے بتوں کی عبادت کرتے تھے ‘ اس لیے قرآن کا مطالبہ یہ ہے کہ صرف خالق اور رب ہونے کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ کو واحد ماننا کافی نہیں ہے بلکہ استحقاق عبادت کے اعتبار سے بھی اس کو واحد ماننا ضروری ہے ‘ یعنی اس کے سوا اور کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے۔ (٢) نبوت : عام انسان کی عقل اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی وحدانیت کو جاننے کے لیے ناکافی ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکام حاصل کرنے سے عاجز ہے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہ نمائی کے لیے انبیاء (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور نبی چونکہ اللہ کا نمائندہ ہوتا ہے ‘ اس کو ماننا اللہ کو ماننا اور اس کا انکار کرنا اللہ کا انکار کرنا ہوتا ہے ‘ اس لیے قرآن نے نبی کے ماننے کو ضروری قرار دیا ہے۔ (٣) عبادت : بدن ‘ مال اور ان دونوں کو اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق صرف کرنا عبادت ہے ‘ قرآن نے یہ بتایا ہے کہ انسان خود اور اس کا مال اس کی ملکیت نہیں ہے ‘ اللہ کی ملکیت ہے ‘ اب وہ کسی طرح اپنی جان اور مال کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق صرف کرے، یہ قرآن نے تفصیل سے بتایا ہے۔ (٤) وعدہ کیا ہے اور بندہ کی نافرمانی کرنے اللہ تعالیٰ نے اس کو عذاب سے ڈرایا ہے ‘ اس وعد اور وعید کو اللہ تعالیٰ نے تفصیل سے قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے۔ (٥) قصص اور امثال : گزشتہ امتوں کے صالحین کے واقعات اور نافرمانوں پر عذاب کی عبرت انگیز مثالیں۔ (٦) معاد : مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے اور مومنین کے لیے جزاء اور کفار کے لیے سزا کا بیان۔ (٧) دعا : تمام عبادات کا خلاصہ اور حاصل اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں انسان کو ہدایت عطا فرمائے اور اس پر تاحیات برقرار رکھے اور آخرت میں عذاب سے نجات ‘ جنت نعیم ‘ اپنی خوشنودی ‘ رضا اور دیدار عطا فرمائے، سورة فاتحہ میں ان تمام مضامین کو اجمال ‘ اختصار اور اشارات سے بیان کردیا گیا ہے۔ (١) سورة فاتحہ کے شروع میں فرمایا : (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین “۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لائق ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے “ یعنی حمد کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہے ‘ کیونکہ ‘ زمین ‘ پہاڑ ‘ سمندر ‘ جمادات ‘ نباتات ‘ حیوانات ‘ انسان اور جن یہ سب اپنے وجود میں کسی موجد کے اور اپنی بقا میں کسی رب کے محتاج ہیں ‘ اور یہ سب ممکنات ہیں ‘ اس لیے ان کو پیدا کرنے والا اور ان کو باقی رکھنے والا ممکن نہیں ہوسکتا کیونکہ ممکن تو پھر انہی کی طرح اپنے وجود اور بقاء میں محتاج ہوگا ‘ اس لیے ضروری ہے کہ ان کا موجد اور ان کا رب واجب بالذات ہو ‘ اس کا کائنات رنگ وبو میں جو حسن اور کمال ہے وہ اسی کا دیا ہوا ہے ‘ اور حمد ‘ حسن اور کمال پر ہوتی ہے تو تمام محامد کا وہی مستحق ہے اور تمام تعریفیں اسی کے لائق ہیں ‘ اس آیت میں جہاں یہ بتایا ہے کہ تعریف کا مستحق صاحب کمال نہیں ہے خالق کمال ہے ‘ وہاں یہ بھی بتادیا ہے کہ تمام کائنات کا خالق اور مربی اللہ تعالیٰ ہے اور یہ قرآن کا وہ پہلا مضمون ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ (٢) سورة فاتحہ کی چھٹی آیت میں ہے : (آیت) ”۔ صراط الذین انعمت علیہم “۔ ان لوگوں راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا : اور جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ان کا بیان اس آیت میں ہے : (آیت) ” انعم اللہ علیہم من النبین والصدیقین والشھدآء والصلحین “۔ (النساء ٤٩) جن پر اللہ نے انعام کیا وہ انبیاء ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین ہیں۔ نیز فرمایا : (آیت) اولٓئک الذین انعم اللہ علیہم من النبین من ذریۃ ادم، (مریم : ٥٨) جن پر اللہ نے انعام کیا وہ نسل آدم سے انبیاء ہیں۔ قرآن مجید کا دوسرا اہم مضمون نبوت ہے اور اس کی طرف اشارہ (آیت) ” صراط الذین انعمت علیہم “ میں ہے۔ (٣) قرآن مجید کا تیسرا اہم مضمون عبادت ہے ‘ اور اس کا ذکر (آیت) ” ایاک نعبد “ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں “ میں ہے۔ (٤) وعد اور وعید کی طرف اشارہ (آیت) ” ملک یوم الدین “ میں ہے۔ (٥) گزشتہ امتوں کے واقعات اور مثالیں ‘ نیکوں پر انعام اور بدکاروں پر غضب اور عذاب ‘ اس کی طرف اشارہ چھٹی اور ساتویں (آیت) ” صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین “ میں ہے۔ (٦) مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے اور مومنین کے لیے جزاء اور کفار کے لیے سزا کی طرف اشارہ بھی (آیت) مالک یوم الدین “ میں ہے۔ (٧) قرآن مجید کا بہت اہم مضمون اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا ہے اور اس سورت میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے کس طرح دعا کی جائے ‘ اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کی جائے، جس کا ذکر (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین الرحمن الرحیم “ میں ہے پھر خضوع اور خشوع کا اظہار کیا جائے جس کا ذکر (آیت) ” ایاک نعبد وایاک نستعین “ میں ہے ‘ پھر اپنے عجز اور احتیاج کو بیان کیا جائے جس کا بیان (آیت) ”۔ ایاک نعبد وایاک نستعین “ میں ہے ‘ پھر حرف مدعا زبان پر لایا جائے اور اس سے مانگا جائے ‘ نیز یہ بھی بتایا کہ اللہ تعالیٰ سے کیا مانگا جائے اور کیا نہ مانگا جائے تو بتلایا اس سے صراط مستقیم پر برقرار رہنے کی ہدایت مانگو ‘ وہ راستہ جو اللہ تعالیٰ کے انعام یافتگان کا راستہ ہے نہ ان کا راستہ جن پر اللہ تعالیٰ نے غضب فرمایا اور نہ گمراہوں کا ‘ پھر جیسے ہی ہدایت کی دعا ختم ہوتی ہے تو اس کے جواب میں فورا ہدایت آجاتی ہے۔ (آیت) ” الم ذلک الکتاب لا ریب فیہ ھدی للمتقین “ یعنی تم نے ہم سے ہدایت مانگی تھی تو یہ پوری کتاب تمہارے لیے ہدایت ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقہ سے دعا کرو گے تو اس دعا کی استجابت یقینی ہے۔ اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم : میں شیطان مردود (کے وسوسوں) سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں : اعوذ باللہ کے مفردات کے معانی : قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” فاذا قرات القران فاستعذ باللہ من الشیطن الرجیم “۔ (النحل : ٩٨) پس جب آپ قرآن پڑھنے لگیں تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کریں۔ استعاذہ کا معنی ہے : کسی ناپسندہ چیز سے بچنے کے لیے کسی چیز کی پناہ میں آنا ‘ شیطان کا لفظ ” شطن “ سے ماخوذ ہے ‘ اس کا معنی ہے خیر سے دور ہونا ‘ شیطان کا شیطان اس لیے کہتے ہیں کہ وہ اللہ کی رحمت سے دور ہوگیا ‘ ایک قول یہ ہے کہ شیطان ” شیط “ سے ماخوذ ہے ‘ اس کا معنی ہے : ہلاک ہونا ‘ اس بناء پر شیطان کو شیطان اس لیے کہتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قہر و غضب میں ہلاک ہوگیا ‘ رجیم کا لفظ ” رجم “ سے ماخوذ ہے اس کا معنی ہے سنگسار کرنا ‘ قتل کرنا ‘ لعنت کرنا اور دھتکارنا ‘ چونکہ اللہ نے شیطان پر لعنت کی ہے ‘ اس کو دھتکار کر راندہ بارگاہ کردیا ہے اس وجہ سے اس کو رجیم کہتے ہیں۔ اعوذ باللہ کے صرف اور اعراب کا بیان : شیطان صفت مشبہ کا صیغہ ہے ‘ اگر یہ ” شیط “ سے بنا ہے تو اس کا وزن فعلان ہے اور اگر یہ ” شطن “ سے بنا ہے تو اس کا وزن فیعال ہے ‘ رجیم فعیل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے اور مفعول کے معنی میں ہے ‘ اس کا معنی ہے : راندہ ہوا ‘ دھتکارا ہوا۔ ” من “ ابتداء کے لیے ہے اور جار مجرور ” اعوذ “ کے متعلق ہے ‘ اس کا معنی ہے : میں شیطان رجیم سے پناہ مانگنے کی ابتداء اللہ سے کرتا ہوں ‘ اور یہ من سببیہ بھی ہوسکتا ہے ‘ اور اس کا معنی ہوگا : شیطان رجیم کے سبب سے میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ نماز اور غیر نماز میں اعوذ باللہ پڑھنے کے متعلق احادیث : امام ابو داؤد روایت کرتے ہیں : حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رات کو نماز میں قیام کرتے تو اللہ اکبر کہتے ‘ پھر پڑھتے : ” سبحانک اللہم وبحمدک و تبارک اسمک وتعالی جدل ولا الہ غیرک “ پھر تین مرتبہ ” لا الہ الا اللہ “ پڑھتے پھر تین مرتبہ پڑھتے : ” اللہ اکبر اکبیرا اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطن الرجیم من ھمزہ ونفخہ ونفثہ “ (میں اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں جو بہت سننے والا ‘ بہت جاننے والا ہے ‘ شیطان رجیم کے مجنون کرنے ‘ اس کے تکبر اور اس کے شر سے) اس کے بعد آپ قراءت کرتے۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ١١٣‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ) اس حدیث کو امام عبدالرزاق۔ ١ (امام عبدالرزاق بن ہمام متوفی ٢١١ ھ ‘ المصنف ج ١ ص ١٨٣‘ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٠ ھ) اور امام بیہقی (رح) (امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨ ھ ٗسنن کبری ج ١ ص ٣٦۔ ٣٥‘ مطبوعہ نشرالسنۃ ٗملتان) نے بھی روایت کیا ہے۔ امام ابن ابی شیبہ روایت کرتے ہیں :۔ حضرت جبیر بن مطعم (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز شروع کرتے تو فرماتے : ” اللہم انی اعوذ بک من الشیطان الرجیم من ھمزہ ونفخہ ونفثہ “۔ (المصنف ج ١ ص ٢٣٨ مطبوعہ ادارۃ القرآن ٗکراچی ٗ ١٤٠٦ ھ) امام عبدالرزاق روایت کرتے ہیں : عطانے کہا : اعوذ باللہ پڑھنا ہر قراءت میں واجب ہے خواہ وہ قراءت نماز میں ہو یا غیر نماز میں ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : پس جب آپ قرآن پڑھنے لگیں تو شیطان مردود سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کریں۔ (النحل : ٩٨) ابن جریج نے کہا : ہاں ! میں پڑھتا ہوں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم اعوذ باللہ السمیع العلیم الرحمن الرحیم ٗ من الشیطان الرجیم واعوذ بک رب ان یحضرون اوید بیتی الذی یووینی “ عطا نے کہا : یہ پڑھنا بھی تمہیں کفایت کرے گا ‘ لیکن تم ” اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم “۔ سے زیادہ نہ پڑھا کرو۔ (المصنف ج ١ ص ٨٣‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ٗبیروت ٗ ١٣٩٠ ھ) عثمان بن ابی العاص بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرے اور میری تلاوت قرآن کے درمیان شیطان حائل ہوجاتا ہے، بنی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس شیطان کا نام خنزب ہے ٗ تم جب اس کو محسوس کرو تو ” اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم “۔ پڑھو ٗ اور بائیں جانب تین بار تھوکو۔ (المصنف ج ١ ص ٨٥‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ٗبیروت ٗ ١٣٩٠ ھ) حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن مجید پڑھنے سے پہلے ” اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم “ پڑھتے تھے (المصنف ج ١ ص ٨٦‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ٗبیروت ٗ ١٣٩٠ ھ) ابراہیم نے کہا : ہر چیز سے پہلے ” اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم “۔ پڑھنا کافی ہے (المصنف ج ١ ص ٨٥‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ٗبیروت ٗ ١٣٩٠ ھ) نماز میں اعوذ باللہ پڑھنے کے متعلق فقہاء مالکیہ کا مذہب : علامہ قرطبی مالکی لکھتے ہیں : امام مالک فرض نماز میں اعوذ باللہ پڑھنے کے قائل نہیں ہیں ‘ اور تراویح میں پڑھنے کے قائل ہیں۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١ ص ٨٦ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ) علامہ دردیر مالکی لکھتے ہیں : نفل نماز میں سورة فاتحہ سے پہلے اعوذ باللہ اور بسم اللہ پڑھنا (بلاکراہت) جائز ہے اور فرض نماز میں مکروہ ہے۔ (الشرح الکبیر علی ھامش الدموتی ج ١ ص ٢٥١‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ) نماز میں اعوذ باللہ پڑھنے کے متعلق فقہاء حنبلیہ کا مذہب : علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں۔ نماز میں قرات سے پہلے اعوذ باللہ پڑھنا سنت ہے ٗحسن ابن سیرین ‘ عطا ‘ ثوری ‘ اوزاعی ‘ شافعی اور اصحاب رائے کا یہی نظریہ ہے ‘ امام مالک (رح) نے کہا : نماز میں قرات سے پہلے اعوذ باللہ نہ پڑھے کیونکہ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) نماز کو (آیت) الحمد للہ رب العلمین “ سے شروع کرتے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم ) ّ (المغنی ج ١ ص ٣٤٦‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ٥۔ ١٤ ھ) حضرت انس (رض) کی حدیث کا محمل یہ ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں اعوذ باللہ اور بسم اللہ کو جہرا نہیں پڑھتے تھے ‘ سرا پڑھتے تھے اور جہرا قرات (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین “ سے شروع کرتے تھے تاکہ اس روایت کا ان احادیث سے تعارض نہ ہو جس میں قرات قرآن سے پہلے ”۔ اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم “ پڑھنے کی تصریح ہے۔ نماز میں اعوذ باللہ پڑھنے کے متعلق فقہاء شافعیہ کا مذہب : علامہ نووی شافعی لکھتے ہیں : دعاء استفتاح (سبحانک اللہم) کے بعد ” اعوذ باللہ میں الشیطن الرجیم “ پڑھنا مستحب ہے ‘ ہمارے بعض اصحاب نے کہا ہے کہ ” اعوذ باللہ السمیع من الشیطن الرجیم “ پڑھنے اور ہر اس لفظ کا پڑھنا جائز ہے جس سے یہ معنی حاصل ہو ‘ اور زیادہ یہ ہے کہ نماز سری ہو یا جہری اس کو سرا پڑھے ‘ ایک قول یہ ہے کہ جہری نماز میں جہرا پڑھے ‘ ایک قول یہ ہے کہ پڑھنے والے کو اختیار ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ مستحب یہ ہے کہ قطعا آہستہ پڑھے ‘ نیز مذہب یہ ہے کہ ہر رکعت میں اعوذ باللہ پڑھے اور پہلے رکعت میں پڑھنا زیادہ موکد ہے ‘ امام شافعی نے اس کی تصریح کی ہے۔ (روضۃ الطالبین ج ١ ص ٣٤٦‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ) نماز میں اعوذ باللہ پڑھنے کے متعلق فقہاء احناف کا مذہب : علامہ علاء الدین حصکفی حنفی لکھتے ہیں : جب نماز میں قرات شروع کرے تو اعوذ باللہ پڑھے ٗ اگر سورة فاتحہ مکمل پڑھنے کے بعد اس کو اعوذ باللہ پڑھنا یاد آیا تو اب اس کو چھوڑ دے اور اگر سورة فاتحہ کے دوران اس کو یاد آیا تو اعوذ باللہ پڑھے اور از سر نو سورة فاتحہ پڑھے اور از سر نو سورة فاتحہ پڑھے ‘ اور جب شاگرد استاد کو قرآن مجید سنائے تو اس وقت اعوذ باللہ نہ پڑھے ‘ یعنی اس وقت پڑھنا سنت نہیں ہے ‘ جب مسبوق اپنی بقیہ نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہو تو قرات سے پہلے اعوذ باللہ پڑھے ٗ امام عید کی نماز میں تکبیرات عید کے بعد اعوذ باللہ پڑھے کیونکہ تکبیرات عید کے بعد قرات شروع ہوتی ہے (درمختار علی ھامش رد المختار ج ١ ص ٣٢٩۔ ٣٢٨‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ٗ ١٤٠٧ ھ) علامہ ابن عابدین شامی حنفی لکھتے ہیں : اگر سورة فاتحہ کے دوران اس کو اعوذ باللہ پڑھنا یاد آیا تو اب سورة فاتحہ کو دوبارہ اعوذ باللہ کے ساتھ پڑھنا درست نہیں ہے ‘ کیونکہ اس سے لازم آئے گا کہ سنت کی وجہ سے فرض (قرات) کو چھوڑ دیا جائے ‘ نیز اس سے واجب کا ترک کرنا بھی لازم آئے گا کیونکہ سورة فاتحہ یا اس کے اکثر حصہ کو دوبارہ پڑھنا سجدہ سہو کا موجب ہے ‘ اور فقیہ ابوجعفر نے ” نوادر “ میں ذکر کیا ہے کہ نماز نے اللہ اکبر پڑھنے کے بعد اعوذ باللہ اور ” بسم اللہ “ پڑھی اور ثناء پڑھنا بھول گیا تو اب ثنا نہ پڑھے ‘ اسی طرح اگر اس نے اللہ اکبر کے بعد قرات شروع کردی اور ثناء ‘ اعوذ باللہ اور ” بسم اللہ “ پڑھنا بھول گیا تو اب ان کو دوبارہ نہ پڑھنے کیونکہ ان کا محل فوت ہوگیا اور اس پر سجدہ سہو نہیں ہے، اس کو زاہدی نے ذکر کیا ہے (خلاصہ یہ ہے کہ علامہ حصکفی کا یہ کہنا درست نہیں کہ اگر اعوذ پڑھنا بھول گیا اور سورة فاتحہ پڑھنا شروع کردی تو اعوذ پڑھ کر از سر نو سورة فاتحہ پڑھنا شروع کرے ) ” ذخیرہ “ میں یہ مذکورہ ہے کہ اگر کوئی شخص ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ پڑھے اور اس سے اس کا مقصد قرآن مجید کی تلاوت ہو تو اس سے پہلے اعوذ باللہ پڑھے اور اگر حصول برکت کے لیے بسم اللہ پڑھتا ہے تو پھر اس سے پہلے اعوذ باللہ نہ پڑھے ‘ کیا تم نہیں دیکھتے کہ جب کوئی شخص شکر ادا کرنے کی نیت سے (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین “ پڑھتا ہے تو پھر اس سے پہلے اعوذ باللہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے ‘ اور اگر قرآن مجید کا قصد کرتا ہے تو پھر اس سے پہلے اعوذ باللہ پڑھنا ضروری ہے، یہ قاعدہ پڑھنے کے اعتبار سے ہے افعال کے لیے یہ قاعدہ نہیں ہے ‘ اس لیے بیت الخلاء جانے سے پہلے ” اعوذ باللہ من الخبث والخبائث “ پڑھنا اس قاعدے کے منافی نہیں ہے۔ (ردالمختار ج ١ ص ٣٢٩‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) علامہ حلبی حنفی لکھتے ہیں : نماز میں ثناء کے بعد اعوذ باللہ پڑھنا جمہور علماء کے نزدیک سنت ہے۔ ثوری اور عطا نے یہ کہا ہے کہ یہ واجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید پڑھنے سے پہلے ” اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم “ پڑھنے کا حکم دیا ہے اور امر وجوب کے لیے ہوتا ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ ان کا یہ قول اجماع کے خلاف ہے۔ اعوذ باللہ پڑھنے کے محل میں اختلاف ہے ‘ امام ابو یوسف کے نزدیک اس کا محل ثناء کے بعد ہے اور یہ قرات کے تابع نہیں ہے ‘ لہذا جو شخص بھی ثناء پڑھے گا وہ اعوذ باللہ پڑھے گا ‘ کیونکہ اعوذ باللہ پڑھنا دفع وسوسہ کے سب محتاج ہیں ‘ لہذا مام اور منفرد جس طرح ثناء کے بعد اعوذ باللہ پڑھیں اس طرح مقتدی بھی پڑھے اور عید کی نماز میں بھی امام اس کو ثناء کے بعد پڑھے نہ کہ تکبیرات کے بعد ‘ اور امام ابوحنیفہ اور امام محمد کے نزدیک اعوذ باللہ پڑھنا قرات کے تابع ہے، لہذا جو شخص تلاوت قرآن کرے گا وہی اعوذ باللہ پڑھے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان رجیم سے اللہ کی پناہ طلب کرو ‘ اور مقتدی چونکہ قرات نہیں اس لیے وہ اعوذ باللہ نہیں پڑھے گا اور امام اور مفرد چونکہ قرات کرتے ہیں اس لیے وہ اعوذ باللہ پڑھیں گے۔ اسی طرح عید کی نماز میں چونکہ قرات تکبیرات کے بعد شروع ہوتی ہے اس لیے تکبیرات کے بعد اعوذ باللہ پڑھی جائے گی۔ فتاوی قاضی خاں ‘ ہدایہ ‘ اس کی شروع ‘ کافی ‘ اختیار اور اکثر کتابوں میں امام ابوحنیفہ اور امام محمد کے قول کو ترجیح دی گئی ہے کہ اعوذ باللہ پڑھنا قرات کے تابع ہے اور ہمارا بھی یہی مختار ہے۔ (غنیۃ المستملی ص ٣٠٤‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤١٢ ھ) نیز علامہ حلبی حنفی لکھتے ہیں : دوسری رکعت میں ثناء پڑھے گا نہ اعوذ باللہ پڑھے گا کیونکہ ان کا محل اول صلوۃ اور اول قرات ہے ‘ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ دوسری رکعت میں قرات سے پہلے اعوذ باللہ نہ پڑھنے سے امام ابویوسف کی تائید ہوتی ہے کہ اعوذ باللہ پڑھنا ثنا کے تابع ہے اور جب دوسری رکعت میں ثناء نہیں پڑھی جائے گی تو اعوذ باللہ بھی نہیں پڑھی جائے گی ‘ اگر یہ قرات کے تابع ہوتی جیسا کہ امام ابوحنیفہ کا قول ہے تو دوسری رکعت میں قرات سے پہلے اعوذ باللہ کو بھی پڑھا جاتا ‘ سو اس طریقہ میں امام ابو یوسف کے قول پر عمل ہے حالانکہ تمہارے نزدیک امام ابوحنیفہ (رح) اور امام محمد (رح) کا قول مختار ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جب نمازی نے ایک مرتبہ قرات سے پہلے اعوذ باللہ کو پڑھ لیا اور قرات کے درمیان میں کسی اجنبی فعل کو داخل نہیں کیا تو اس کے لیے دوبارہ اعوذ باللہ پڑھنا سنت نہیں ہے اور افعال نماز ‘ قرات کے حق میں اجنبی نہیں ہیں کیونکہ نماز کے اعتبار سے تمام افعال واحد ہیں ‘ لہذا اس کی قرات کے دوران کوئی اجنبی فعل خلل انداز نہیں ہوا ‘ اس لیے اب اعوذ باللہ کا تکرار مسنون نہیں ہے۔ (غنیۃ المستملی ص ٣٢٤‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤١٢ ھ) بسم اللہ الرحمن الرحیم : اللہ ہی کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو نہایت رحم فرمانے والا بہت مہربان ہے : بائے بسم اللہ کا معنی : عربی زبان میں باء متعدد معانی کے لیے آتی ہے اور اس میں تفصیل ہے کہ بسم اللہ میں باء کس معنی میں ہے ‘ علامہ زمخشری کی تحقیق یہ ہے کہ بسم اللہ میں بامصاحبت اور ملابست کے لیے ہے یعنی شروع کرنے کا فعل اللہ تعالیٰ کے نام سے ملا بس ہے اور اس کے نام کے ساتھ شروع ہے جیسے کہتے ہیں : ” کتبت بالقلم “ میں نے قلم کے ساتھ لکھا ‘ یا اس کا معنی ہے ‘: ” متبرکا بسم اللہ اقراء “ اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے میں پڑھتا ہوں ‘ یا شروع کرتا ہوں ‘ (علامہ جار اللہ محمود بن عمر زمخشری متوفی ٤٦٧ ھ ‘ کشاف ج ١ ص ٥۔ ٤‘ مطبوعہ مطبعہ بہیہ ‘ مصریہ ١٣٤٣ ھ) اور علامہ بیضاوی کی تحقیق یہ ہے کہ یہ باء استعانت کے لیے ہے ‘ یعنی اللہ کے نام سے ہی شروع کرو۔ فعل کو بسم اللہ کے بعد مقدر کرنے کی وجوہ : اس فعل کو بسم اللہ سے پہلے مقدر نہیں کیا بلکہ ” بسم اللہ “ کے بعد مقدر کیا ہے یعنی ” بسم اللہ اقرء یا اشرع “” اللہ کے نام سے ہی شروع کرتا ہوں یا پڑھتا ہوں ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ فعل کو بسم اللہ کے بعد مقدر ماننے سے عربی قواعد کے مطابق حصر ہوجائے گا اور معنی ہوگا : اللہ ہی کے نام سے شروع کرتا ہوں ‘ مشرکین کسی اہم کام کو بتوں کے نام سے شروع کرتے تھے اور جب ہم کہیں گے : اللہ ہی کے نام سے شروع کرتا ہوں تو اس سے ان مشرکین کا رد ہوگا جیسے قرآن مجید میں ہے : (آیت) ایاک نعبد “۔ اس میں بھی فعل کو موخر ذکر کیا ہے تاکہ حصر مستفاد ہو ‘ اس کا معنی ہے : ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں ‘ دوسری وجہ یہ ہے کہ مقدم اس کو کیا جاتا ہے جو اہم ہو اور اللہ تعالیٰ کے نام اور ہمارے فعل ان دونوں میں اہم اللہ تعالیٰ کا نام ہے ‘ اس لیے فعل کو موخر اور اللہ کے نام کو مقدم ماننا چاہیے ‘ تیسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور بندہ کے تذلل کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے اللہ کے نام کا ذکر ہو اور پھر ہمارے کام کا ذکر ہو۔ چوتھی وجہ یہ ہے کہ یہ ترتیب نفس الامر اور واقع کے بھی مطابق ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا نام پہلے ہیں ہم اور ہمارا فعل بعد میں ہے ‘ پانچویں وجہ یہ ہے کہ انبیاء سابقین نے بعض مواقع پر پہلے اپنا ذکر کیا اور پھر اللہ تعالیٰ کا اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر موقع پر پہلے اللہ تعالیٰ کا نام لیا پھر اپنا نام لیا ‘ مثلا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : (آیت) ” ان معنی ربی “۔ (الشعراء : ٦٢) ” بیشک میرے ساتھ میرا رب ہے اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (آیت) ” ان اللہ معناہ “ (التوبہ : ٤٠) بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے “ اسی طرح حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بلقیس کی طرف خط لکھا : (آیت) ” انہ من سلیمن وانہ بسم اللہ الرحمن الرحیم “۔ (النمل : ٣٠) بیشک یہ (خط) سلیمان کی طرف سے ہے اور بیشک یہ اللہ کے نام سے ہے جو نہایت رحم فرمانے والا بہت مہربان ہے “۔ اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ھرقل کی طرف خط لکھا : ” بسم اللہ الرحمن الرحیم (سیدنا) محمد عبداللہ ورسولہ کی جانب سے روم کے بادشاہ ھرقل کے نام “ (صحیح بخاری ١ ص ٥) اور صلح نامہ حدیبیہ میں لکھوایا : بسم اللہ الرحمن الرحیم “ یہ وہ ہے جس کا (سیدنا) محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ کیا ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٣٧٩) سو اگر فعل بسم اللہ پہلے مقدر مانا گیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی اتباع ہوگی اور اگر بسم اللہ کے بعد فعل کو مقدر مانا گیا تو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع ہوگی اور چھٹی وجہ یہ ہے کہ بسم اللہ کے بعد فعل کو مقدر ماننا کلام اللہ کے مطابق ہے کیونکہ قرآن مجید میں فعل کا ذکر بسم اللہ کے بعد ہے : (آیت) ” بسم اللہ مجرھا ومرسھا “۔ (ھود : ٤١) اللہ کے نام کی مدد سے ہے اس کشتی کا چلنا اور اس کاٹھہرنا۔ ہم نے بسم اللہ کا ترجمہ کیا ہے : اللہ ہی کے نام سے (شروع کرتا ہوں) اس میں لفظ اللہ کو پہلے ذکر کر کے ان وجوہ کی طرف اور ” ہی “ سے حصر کی طرف اشارہ کیا ہے :۔
Top