Tibyan-ul-Quran - Al-Faatiha : 2
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
الْحَمْدُ : تمام تعریفیں     لِلّٰہِ : اللہ کے لیے     رَبِّ : رب     الْعَالَمِينَ : تمام جہان
تمام تعریفیں اللہ ہی کے لائق ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے
بسم اللہ میں اسم کا الف حذف کرنے کی وجہ : مشہور نحوی فراء لکھتے ہیں : تمام مصاحف کے لکھنے والوں اور قراء کا اس پر اجماع ہے کہ بسم اللہ میں اسم کا الف محذوف ہے اور (آیت) ” فسبح باسم ربک العظیم “۔ (الواقعہ : ٧٤‘ الحاقہ : ٥٢) میں الف کو برقرار رکھا گیا ہے کیونکہ سورتوں اور دیگر کتابوں کی ابتداء میں بسم اللہ کی جگہ معروف ہے ‘ کیونکہ عرب کا طریقہ اختصار ‘ اور کثیر الاستعمال لفظ کے حروف کو کم کرنا ہے بہ شرطی کہ اس کا معنی معروف ہو ‘ اور (آیت) ” فسبح باسم ربک “ میں الف کو برقرار رکھا گیا ہے کیونکہ بسم اللہ کی بہ نسبت ” باسم ربک “ کا استعمال بہت کم ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ کھانے ‘ پینے ‘ ذبح کرنے بلکہ ہر نیک کام سے پہلے بسم اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ (معانی القرآن مطبوعہ بیروت) علامہ بیضاوی نے کہا ہے کہ اسم کا الف جو حذف کیا گیا ہے اس کے عوض بائے بسم اللہ کو لمباکر کے لکھا جاتا ہے۔ لفظ اللہ کا معنی اور اس کے وصف یا علم ہونے کی تحقیق : علامہ مکی بن ابی طالب لکھتے ہیں : لفظ اللہ اصل میں ” الاہ “ ہے پھر اس پر الف الام داخل کیا گیا تو ” الالاہ “ ہوگیا پھر تخفیفا الف کو حذف کیا اور اس کی حرکت پہلے لام پر داخل کردی اور پہلے لام کا دوسرے لام میں ادغام کردیا تو یہ لفظ ” اللہ “ ہوگیا ایک قول یہ ہے کہ یہ اصل میں ” لاہ “ ہے اس پر الف لام داخ کیا اور لام کا لام میں ادغام کیا تو یہ لفظ ” اللہ ہوگیا اور خلیل سے منقول ہے کہ اس کی اصل ” ولاہ “ ہے (مشکل اعراب القرآن ‘ مطبوعہ انتشارات نور ‘ ایران ‘ ١٣٦٢ ھ) علامہ ابن منظور افریقی لکھتے ہیں : ” الہ “ کا معنی ہے حیرت زدہ ہونا ‘ کیونکہ بندہ جب اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال میں غور کرتا ہے توحیرت زدہ ہوجاتا ہے ‘ اور ” لاہ “ سریانی زبان کا لفط ہے ‘ جو چیز بلند اور محجوب ہو اس کو ” لاہ “ کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انسانی آنکھوں سے محجوب ہے اور جو چیز اس کے لائق نہ ہو اس سے بلند ہے ‘ اور ” ولاہ “ کا معنی ہے بچہ کا خوف زدہ ہو کر ماں کی طرف لپکنا ‘ اور تمام مخلوق اپنے مصائب اور پریشانیوں میں گھبراکر اللہ کی طرف لپکتی ہے ‘ ان وجوہ سے کہا جاتا ہے کہ لفظ اللہ ” الہ “ سے ” لاہ “ سے یا ” ولاہ “ سے بنا ہے۔ ابن اثیر نے کہا : یہ ” الہ “ سے بنا ہے اور منذری نے کہا : یہ ” الالہ “ سے بنا ہے۔ (لسان العرب ج ١٣ ص ٤٦٩۔ ٤٦٧ مطبوعہ نشر ادب الحوذۃ ‘ قم ‘ ایران) اور علامہ فیروز آبادی لکھتے ہیں : سیبویہ نے کہا کہ لفظ اللہ کا ” لاہ “ سے بننا جائز ہے ‘ اس کا معنی بلندی اور ارتفاع ہے۔ (قاموس ج ٤ ص ٤١٦‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ) علامہ زبیدی حنفی لکھتے ہیں : زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ لفظ اللہ ذات واجب الوجود کے لیے علم (شخصی نام) ہے جو کہ تمام صفات کمال کی جمامع ہے اور یہ لفظ مشتق نہیں ہے، ابن العربی نے کہا : یہ علم ہے اور الہ حق پر دلالت کرتا ہے اور یہ تمام اسماء حسنی الہیہ احدیہ کا جامع ہے۔ (تاج العروس ج ١ ص ٣٧٤‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ) ہمارے نزدیک تحقیق یہی ہے کہ لفظ اللہ کسی لفظ سے نہیں بنا ‘ اور یہ اصل میں علم ہے وصف نہیں ہے کیونکہ لفظ اللہ موصوف ہوتا ہے اور کسی موصوف کی صفت نہیں بنتا ‘ نیز اللہ تعالیٰ کی متعدد صفات ہیں اور ان صفات کے عمل کے لیے کسی موصوف کی ضرورت ہے اور لفظ اللہ کے علاوہ اور کوئی لفظ اس کی صلاحیت نہیں رکھتا ‘ اور اگر لفظ اللہ مشتق اور صفت ہو تو پھر ” لا الہ الا اللہ “ سے توحید ثابت نہیں ہوگی کیونکہ صفت کلی ہوتی ہے اور شرکت کثیرین سے مانع نہیں ہوتی اور علامہ بیضاوی کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ یہ لفظ اصل میں وصف تھا اور غلبہ استعمال کی وجہ سے بہ منزلہ علم ہوگیا کیونکہ پھر مرتبہ وضع میں توحید ثابت نہیں ہوگی ‘ اور ” الہ “ اور ” لاہ “ کے ساتھ لفظی مناسبت سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ لفظ ان میں کسی ایک لفظ سے بنا ہو اور حق یہ ہے کہ جس طرح اللہ کی ذات کسی سے نہیں بنی اسی کی ذات پر دلالت کرنے والا بھی کسی لفظ سے نہیں بنا۔ علامہ شامی لکھتے ہیں : علامہ سعد الدین تفتازانی اور علامہ عصام الدین نے کہا ہے کہ لفظ اللہ اس ذات کے لیے علم (شخصی نام) ہے جو واجب الوجود ہے ‘ اور تمام صفات محمودہ کی جامع ہے ‘ اور علامہ میرسید شریف نے کہا : جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات کا ادراک کرنے سے انسان کی عقل حیران اور عاجز و درماندہ ہے اسی طرح اس کی ذات پر دلالت کرنے والے اسم کی حقیقت کو پانے سے بھی عقلیں حیران اور پریشان ہیں۔ کسی نے کہا : یہ لفظ سریانی ہے ‘ کسی نے کہا : یہ عربی ہے ‘ کسی نے کہا : یہ وصف اور مشتق ہے ‘ کسی نے کہا : علم ہے اور جمہور کا موقف یہ ہے کہ لفظ اللہ عربی ہے اور علم مرتجل ہے (کوئی اور لفظ اس کی اصل نہیں ہے) امام ابو حنفیہ ‘ (رح) امام محمد بن الحسن ‘ (رح) امام شافعی (رح) اور خلیل (رح) کا یہی نظریہ ہے ‘ امام اعظم ابوحنیفہ (رح) سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم یہی اسم ہے ‘ امام طحاوی اور دیگر کثیر علماء اور عار فین کا یہی قول ہے۔ (رد المختار ج ١ ص ٥‘ مبطوعہ مطبعہ عثمانیہ ‘ استنبول ‘ ١٣٢٧ ھ) رحمن اور رحیم کا معنی : علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں : رحمت اس رقت قلب کو کہتے ہیں جس کا تقاضایہ ہے کہ مرحوم پر احسان کیا جائے ‘ کبھی یہ لفظ رقت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی اور جب رحمت اللہ تعالیٰ کی صفت ہو تو پھر اس کا معنی صرف احسان اور افضال ہے نہ کہ رقت قلب ‘ اور جب رحمت آدمیوں کی صفت ہو تو پھر اس کا معنی رقت اور شفقت ہے۔ رحمان کا اطلاق اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ رحمان کا معنی ہے : وہ ذات جس کی رحمت ہر چیز کو محیط ہو اور اس معنی کا مصداق اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا ‘ اور رحیم کا اطلاق اللہ تعالیٰ کے غیر پر بھی ہوسکتا ہے کیونکہ رحیم کا معنی ہے : جو بہت رحم کرتا ہو ‘ قرآن مجید میں رحیم کا اطلاق اللہ پر بھی ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق فرمایا : (آیت) ” ان اللہ بالناس لرءوف رحیم “۔ (الحج : ٦٥) بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر نہایت مہربان اور بہت رحم فرمانے والا ہے۔ اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق فرمایا : لقد جآء کم رسول من انفسکم عزیز علیہ ما عنتم حریص علیکم بالمؤمنین رءوف رحیم “۔ (التوبہ : ١٢٨) بیشک تمہارے پاس تمہی میں سے ایک عظیم رسول آئے جن پر تمہارا مشقت میں مبتلا ہونا سخت دشوار ہے ‘ وہ تمہاری بھلائی پر بہت حریص ہیں اور مومنوں پر نہایت مہربان اور بہت رحم فرمانے والے ہیں “۔ ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں رحمن ہے کیونکہ دنیا میں اس کا احسان مومنوں اور کافروں دونوں پر ہے اور آخرت میں رحیم ہے کیونکہ آخرت میں اس کا احسان صرف مومنوں پر ہوگا کافروں پر نہیں ہوگا۔ (المفردات ص ١٩٢۔ ١٩١‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ) رحمن کو رحیم پر مقدم کرنے کی وجوہ : خلاصہ یہ ہے کہ رحمان اور رحیم دونوں مبالغہ کے صیغے ہیں اور رحمان میں رحیم کی بہ نسبت زیادہ مبالغہ ہے۔ اب یہاں ایک سوال یہ ہے کہ عرب کا طریقہ یہ ہے کہ صفات مدح میں ادنی سے اعلی کی طرف ترقی کرتے ہیں مثلا کہتے ہیں : ” فلان عالم نحریر “ (فلاں شخص عالم ‘ ماہر ہے) اس لیے بہ ظاہر پہلے رحیم اور پھر رحمان کا ذکر ہونا چاہیے تھا ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ وصف پر مقدم ہوتا ہے ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ رحمن کا لفظ تمام عظیم اور جلیل نعمتوں کو شامل ہے جو بہ منزلہ اصول ہیں اور رحیم اس کا تتمہ ہے جو فروعی اور دقیق نعمتوں کو شامل ہے اور جو لفظ جلیل ‘ عظیم اور اصل نعمتوں پر دلالت کرتا ہے وہ اس لفظ پر مقدم ہونا چاہیے جو دقیق اور فروعی نعمتوں پر دلالت کرتا ہےَ ‘ تیسرا جواب یہ ہے کہ رحمن کا تعلق دنیا سے ہے اور رحیم کا تعلق آخرت سے ہے اور دنیا آخرت سے پہلے ہے، اس لیے رحمن کا ذکر رحیم سے پہلے کیا ہے ‘ چوتھا جواب یہ ہے کہ رحمان عام ہے کیونکہ اس کا تعلق مومن اور کافر دونوں سے ہے اور رحیم خاص ہے کیونکہ اس کا تعلق صرف مومن سے ہے اور عام خاص پر مقدم ہوتا ہے اس لیے رحمان کو رحیم پر مقدم کیا ہے ‘ کیونکہ رحمن میں رحیم کی بہ نسبت زیادہ مبالغہ ہے ‘ اس لیے ہم نے رحمن کا معنی ” نہایت رحم فرمانے والا “ اور رحیم کا معنی ” بہت مہربان “ کیا ہے۔ بسم اللہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف رمز اور اشارہ : علامہ آلوسی (رح) لکھتے ہیں : الف بسیط اور مطلق ہے اور وہ اپنی بساطت اور اطلاق کی وجہ سے اللہ عزوجل کی ذات مطلقہ پر دلالت کرتا ہے اور الف کے بعد باء ہے اور تمام تعینات پر مقدم ہے سو باء اپنے تعین اول کے لحاظ سے حقیقت محمدی پر دلالت کرتی ہے ‘ اسی طرح بسم اللہ کی باء میں ذات محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف اشارہ ہے ‘ اور باء پر کسرہ (زیر) ہے اور اس سے آپ کی صفت رحمت کی طرف اشارہ ہے ‘ قرآن مجید ہے :۔ (آیت) ” وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین “۔ (الانبیاء : ١٠٧) اور ہم نے آپکو تمام جہانوں کے لیے صرف بہ طور رحمت بھیجا ہے۔ نیز فرمایا : (آیت) ” بالمؤمنین رء وف رحیم “۔ (التوبہ : ١٢٨) اور مومنوں پر نہایت مہربان اور بہت رحم فرمانے والے ہیں : اس میں یہ رمز ہے کہ جن پر یہ کتاب نازل ہوئی ہے اور جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں اگرچہ وہ صاحب خلق عظیم ہیں اور ان کا ہر وصف اعلی ہے لیکن ان پر صفت رحمت کا غلبہ ہے ‘ وہ ” رء وف رحیم “ ہیں اور جس کی طرف وہ دعوت دے رہے ہیں وہ (آیت) ” الرحمن الرحیم “۔ ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ قرآن کی ہر سورت سے پہلے بسم اللہ ہے اور اس میں آپ کی صفت رحمت کی طرف اشارہ ہے ‘ سورة توبہ کی ابتداء میں بسم اللہ نہیں لکھی گئی، وہ براءۃ سے شروع ہے اور باء سے آپ کی ذات اور باء کی فتح (زبر) سے آپ کی صفت جلال کی طرف اشارہ ہے ‘ قرآن مجید کی ایک سو چودہ سورتیں ہیں ‘ ایک سو تیرہ سورتون میں بسم اللہ کے ذکر سے آپ کی رحمت کی طرف اشارہ ہے اور ایک سورت میں براءۃ کی نصب سے آپ کے غضب کی طرف اشارہ ہے ‘ خلاصہ یہ ہے کہ ہر سورت کی لوح جبیں پر حقیقت محمدی کی طرف رمز ہے۔ ایک سوتیرہ سورتوں میں آپ کے جمال کی طرف اور ایک سورت میں آپ کے جلال کی طرف اشارہ ہے۔ (روح المعانی ج ١ ص ٥٢۔ ٥١‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت) بعض محققین نے بیان کیا کہ بسم اللہ میں باء کے بعد اسم اللہ ہے اور اسم اللہ میں بھی حقیقت محمدی کی طرف رمز ہے کیونکہ اسم وہ ہے جو مسمی پر دلالت کرے اور یوں تو ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ذات پر دلالت کرتی ہے لیکن کامل دلالت کرنے والا وہ ہوگا جس کی دلالت سب کے لیے ہو ‘ جو نبیوں اور رسولوں کے لیے بھی اللہ کی دلیل ہو ‘ انسانوں اور جنوں کے لیے بھی رہنما ہو ‘ شجر و حجر ‘ دشت وجبل ‘ بحر وبر اور کائنات کی ہر حقیقت کے لیے دلیل ہو اور ایسی کامل دلیل بہ جز ذات محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اور کوئی نہیں ہے تو وہی اسم اللہ ہیں اور یوں اسم اللہ میں بھی حقیقت محمدی کی طرف رمز ہے۔ آپ اللہ کا اسم ہیں اور اسم مسند اور مسندالیہ ہوتا ہے اور آپ اللہ کی طرف مسند ہیں اور ساری کائنات کے لیے مسند الیہ ہیں ‘ اسم کا خاصہ ہے حرف جر ‘ اور جر کا معنی ہے کھینچنا اور آپ لوگوں کو جہنم کے کنارے سے کھینچ کھینچ کر جنت کی طرف لائے اور حروف جارہ میں ” من “ اور ” الی “ ہیں ” من “ ابتدا کیلیے اور ” الی “ انتہاء کے لیے ہے اور نبوت کی ابتداء بھی آپ سے ہے اور نبوت کی انتہاء بھی آپ پر ہے اور حروف جارہ میں باء الصاق کے لیے آتی ہے یعنی ایک چیز کو دوسری چیز سے ملانے کے لیے ‘ اور آپ نے بندوں کو خدا سے ملایا ہے ‘ اور حروف جارہ میں ” علی “ ہے ‘ ” علی “ استعلاء اور بلندی کے لیے آتا ہے اور آپ ساری کائنات پر بلند ہیں ‘ خلاصہ یہ ہے کہ بسم اللہ کی باء ‘ باء کے کسرہ اور اسم الہ ان سب میں حقیقت محمدی کی طرف رمز ہے۔ ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ سے متعلق فقہی مباحث “۔ ایک بحث یہ ہے کہ سورة فاتحہ کے شروع میں جو ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ لکھی ہے وہ قرآن کریم کا جز ہے یا نہیں۔ دوسری بحث یہ ہے کہ آیا وہ سورة فاتحہ کا جز ہے یا نہیں ‘ تیسری بحث یہ ہے کہ سورتوں کے اوائل میں جو ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ لکھی ہے وہ ان سورتوں کا جز ہے یا نہیں، چوتھی بحث یہ ہے کہ نماز میں بسم اللہ پڑھی جائے یا نہیں ‘ چھٹی بحث یہ ہے کہ بسم اللہ کو جہرا یا آہستہ ‘ اور ساتویں بحث میں بسم اللہ کے احکام شرعیہ اور مسائل ہیں اور آٹھویں بحث میں بسم اللہ کے فوائد اور حکمتیں ہیں۔ ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کے آیت قرآن ہونے کی تحقیق : علامہ ابوبکر رازی لکھتے ہیں : مسلمانوں کا اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ سورة نمل کی یہ آیت ”۔ انہ من سلیمن وانہ بسم اللہ الرحمن الرحیم “ (النمل : ٣٠) قران کریم جز ہے اور اس پر بھی اتفاق ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سب سے پہلے جو آیت نازل ہوئی وہ (آیت) ” اقراباسم ربک الذی خلق “ ہے۔ مسعودی نے حارث کلبی سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے مکاتیب کی ابتداء میں باسمک اللہم لکھتے تھے حتی کہ یہ آیت نازل ہوئی : ” بسم اللہ مجرھا ومرسھا “۔ (ھود : ٤١) تو آپ بسم اللہ لکھنے لگے پھر یہ آیت نازل ہوئی : قل ادعواللہ اودعوالرحمن “۔ (الاسراء ١١٠) تو آپ ” بسم اللہ الرحمن “ لکھنے لگے۔ ” سنن ابوداؤد میں روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کو اس وقت تک نہیں لکھا جب تک کہ سورة نمل نازل ہوئی ‘ اور جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صلح نامہ حدیبیہ لکھوایا تو آپ نے حضرت علی (رض) سے فرمایا : لکھو ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ تو سہیل نے کہا : ” باسمک اللہم “ لکھو کیونکہ ہمارے نزدیک رحمن معروف نہیں ہے۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ پہلے قرآن مجید میں نہیں تھی حتی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو سورة نمل میں نازل کیا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٣٧٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ) ہر چند کہ سورة نمل مکی سورت ہے لیکن اس سے پہلے متعدد سورتیں نازل ہوچکی تھیں ‘ اگر ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ ہر سورت کے اوائل کا جز ہوتی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابتدا ہی سے ” باسمک اللہم “ کے بجائے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ لکھتے ‘ لہذا ” سنن ابوداؤد “ کی مذکور الصدر حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سورة نمل نازل ہونے سے پہلے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ قرآن مجید میں نہیں تھی اور نہ ہی اوائل سورة قرآن کا جز تھی۔ ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کے سورة فاتحہ کے جز نہ ہونے کی تحقیق اور مذاہب اربعہ : علامہ ابوبکر رازی حنفی لکھتے ہیں : اس میں اختلاف ہے کہ ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ سورة فاتحہ کا جز ہے یا نہیں ‘ قراء کو فیہ نے اس کو سورة فاتحہ کی ایک آیت قرار دیا ہے اور قراء بصریہ نے اس کو سورت فاتحہ کی آیات سے شمار نہیں کیا ‘ ہمارے اصحاب (فقہاء احناف) سے یہ تصریح منقول نہیں ہے کہ یہ سورة فاتحہ کی آیت ہے ‘ البتہ ہمارے شیخ ابو الحسن کرخی نے فقہاء احناف کا یہ مذہب نقل کیا ہے کہ بسم اللہ کو نماز میں جہرا نہیں پڑھا جائے گا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ فقہاء احناف کے نزدیک بسم اللہ سورة فاتحہ کی ایک آیت نہیں ہے ورنہ اس کو بھی جہرا پڑھا جاتا جیسے سورة فاتحہ کی باقی آیات کو جہرا پڑھا جاتا ہے۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک بسم اللہ سورة فاتحہ کیا ایک آیت ہے۔ فقہاء احناف کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میرے اور میرے بندے کے درمیان صلوۃ ( سورة فاتحہ) کو نصف ‘ نصف تقسیم کردیا گیا ہے ‘ نصف میرے لیے اور نصف میرے بندہ کے لیے ہے اور میرے بندہ کے لیے وہ ہے جس کا وہ سوال کرے ‘ پس جب بندہ کہتا ہے : ‘(آیت) ” الحمد للہ رب العالمین “۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، میرے بندہ نے میری حمد کی ‘ اور جب بندہ کہتا ہے :” الرحمن الرحیم “ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندہ نے میری تعظیم کی یا میری ثناء کی ‘ اور جب بندہ کہتا ہے، (آیت) ”۔ مالک یوم الدین “ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ‘ بندہ نے (خود) کو میرے سپرد کردیا ‘ اور جب بندہ کہتا ہے (آیت) ”۔ ایاک نعبد وایاک نستعین “۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، یہ میرے اور میرے بندہ کے درمیان ہے ‘ اور میرے بندہ کے لیے وہ ہے جس کا وہ سوال کرے، اور جب وہ کہتا ہے : (آیت) ”۔ اھدنا الصراط المستقیم “۔ اخیر سورت تک ‘۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ میرے بندہ کے لیے وہ ہے جس کا وہ سوال کرے۔ (احکام القرآن ج ١ ص ٩۔ ٨‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ) اس حدیث کو امام مسلم (رح) نے روایت کیا ہے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ١٧٠۔ ١٦٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ) اگر بسم اللہ سورة فاتحہ کا جز ہوتی تو سورة فاتحہ کی آیات میں اس کا بھی ذکر اس حدیث میں ہوتا ‘ اور جب آپ نے سورة فاتحہ کی آیات میں بسم اللہ کا ذکر نہیں کیا تو معلوم ہوا کہ بسم اللہ ‘ سورة فاتحہ کی آیت اور جز نہیں ہے۔ ” شرح صحیح مسلم “ جلد اول میں ہم نے اس کے مزید دلائل ذکر کئے ہیں اور علماء شافعیہ نے ان دلائل کے جو جوابات دیئے ہیں ان پر بحث کی ہے۔ امام ابوحنفیہ اور امام مالک کے نزدیک ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ سورة فاتحہ کی جز نہیں ہے، اور امام شافعی (رح) اور امام احمد کے نزدیک سورة فاتحہ کی جز ہے۔ اوائل سورة میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کے ان سورتوں کے جز نہ ہونے کی تحقیق اور مذاہب اربعہ : علامہ نووی شافعی (رح) لکھتے ہیں : اوائل سورة میں بسم اللہ قرآن کا جز ہے ‘ کیونکہ امام مسلم (رح) نے حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس ہوئے ہوئے تھے ‘ پھر آپ نے مسکراتے ہوئے سر اٹھایا ہم نے پوچھا : یا رسول اللہ ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : مجھ پر ابھی ایک سورت نازل ہوئی ہے ‘ پھر آپ نے تلاوت کی : (آیت) ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ انا اعطینک الکوثر فصل لربک وانحر ان شانئک ھو الابتر (الکوثر) (شرح مسلم ج ١ ص ١٧٢‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ) اس کا جواب یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة کوثر سے پہلے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کو تبرکا پڑھا ہے ‘ سورة کوثر کی آیت ہونے کے لحاظ سے نہیں پڑھا کیونکہ اگر ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ ہر سورت ابتداء میں اس کا جزہوتی تو آپ سب سے پہلے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ نازل ہوتی حالانکہ ” صحیح بخاری “ اور دیگر کتب صحاح میں یہ تصریح ہے کہ آپ پر سب سے پہلے (آیت) ” اقرا باسم ربک الذی خلق “۔ (العلق : ١) نازل ہوئی ہے اور اس پر سب کا اجماع ہے کہ آپ پر سب سے پہلے یہی آیت نازل ہوئی ہے۔ علامہ ابن العربی مالکی لکھتے ہیں : اس پر تمام لوگوں کا اتفاق ہے کہ سورة نمل میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کتاب اللہ کی آیت ہے اور ہر سورت کی ابتداء میں اس کے آیت ہونے میں اختلاف ہے ‘ امام مالک اور امام ابوحنفیہ یہ کہتے ہیں کہ ہر سورت کی ابتداء میں یہ آیت نہیں ہے ‘ اس کو اس لیے ذکر کیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ یہاں سے سورت شروع ہوئی ہے۔ (احکام القرآن ج ١ ص ٥‘ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت) علامہ ابوالحسن مرداوی حنبلی لکھتے ہیں : اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ سورة فاتحہ کے سوا ہر سورت کے اول میں بسم اللہ اس سورت کا جز نہیں ہے ‘ علامہ زرکشی نے بھی اسی طرح لکھا ہے۔ (انصاف ج ٢ س ٤٨‘ مطبوعہ دارا احیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٣٧٢ ھ) غالبا علامہ مرداوی کو اس مسئلہ میں امام شافعی کے اختلاف کا علم نہیں ہے۔ علامہ ابوبکر رازی حنفی لکھتے ہیں : اس میں اختلاف ہے کہ آیا اوائل سورة میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ ان سورتوں کی ایک آیت ہے یا نہیں ؟ ہمارے نزدیک ہر سورت کے اول میں جو ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ ہے وہ اس سورت کی آیت نہیں ہے ‘ کیونکہ اس سورت کے ساتھ بسم اللہ کو جہرا نہیں پڑھا جاتا ‘ نیز جب یہ سورة فاتحہ کی جز نہیں ہے تو اسی طرح باقی سورتوں کی بھی جز نہیں ہے ‘ کیونکہ یہ کسی کا قول نہیں ہے کہ یہ سورة فاتحہ کی جز نہیں ہے اور باقی سورتوں کی جز ہے ‘ اور امام شافعی (رح) کا یہ قول ہے کہ ہر سورت سے پہلے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ اس سورت کی ایک آیت ہے اور ان سے پہلے یہ قول کسی نے نہیں کیا۔ اس سے پہلے یہ اختلاف تھا کہ یہ سورة فاتحہ کی جز ہے یا نہیں۔ اوائل سورة سے پہلے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کے جز نہ ہونے کے یہ دلائل ہیں : حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عثمان بن عفان (رض) سے پوچھا : اس کا کیا سبب ہے کہ آپ نے سورة توبہ اور سورة انفال کو سات بڑی سورتوں میں رکھا ہے اور آپ نے ان دو سورتوں کے درمیان ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ نہیں لکھی ؟ حضرت عثمان (رض) نے کہا : جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کئی آیات نازل ہوتیں تو آپ کسی لکھنے والے کو بلاتے اور فرماتے : اس آیت کو فلاں سورت میں رکھو ‘ اور جب آپ پر ایک یا دو آیتیں نازل ہوتیں تب بھی آپ اسی طرح فرماتے ‘ سورة انفال کو مضمون سورة توبہ کے مضمون کے مشابہ تھا تو میں نے یہ گمان کیا کہ یہ اس کے ساتھ لاحق ہے ‘ اس لیے میں نے ان دونوں کو سات بڑی سورتوں میں رکھا ‘ اور ان کے درمیان ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کی سطر نہیں لکھی۔ اس حدیث میں حضرت عثمان (رض) نے یہ تصریح کی ہے کہ ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کسی سورت کا جز نہیں ہے اور وہ سورت سے پہلے بسم اللہ کو صرف دو سورتوں کے درمیان فصل کے لیے لکھتے تھے ‘ نیز اگر ہر سورت سے پہلے بسم اللہ اس سورت کا جز ہوتی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بتلانے سے ہر شخص کو اس کا علم ہوتا ‘ جیسا کہ دوسری آیات کا سب کو بغیر کسی نزاع کے علم ہے۔ دوسری دلیل یہ حدیث ہے : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قرآن میں ایک سورت کی تیس آیات ہیں جو اپنے پڑھنے والے کی شفاعت کرتی رہے گی حتی کہ اس کی مغفرت کردی جائے گی (وہ سورت ہے) (آیت) ” تبارک الذی بیدہ الملک “ اور تمام قراء وغیرہ کا اس پر اتفاق ہے کہ سورة (آیت) ” تبارک الذی “ میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کے علاوہ تین آیتیں ہیں ‘ اگر بسم اللہ اس سورت کا جز ہو تو اس سورت کی اکتیس آیتیں بن جائیں گی اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس حدیث کے خلاف ہے۔ تیسری دلیل یہ ہے کہ تمام قراء اور فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ سورة کوثر کی تین اور سورة اخلاص کی چار آیتیں ہیں ‘ اگر بسم اللہ کو ان سورتوں کا جز مانا جائے تو پھر ان کی آیتوں کی تعداد چار اور پانچ ہوجائے گی اور یہ ان کے اتفاق کے خلاف ہے۔ (احکام القرآن ج ١ ص ١١۔ ٩‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ) نماز میں بسم اللہ پڑھنے کے متعلق مذاہب اربعہ : علامہ ابوبکر رازی حنفی (رح) لکھتے ہیں : امام ابوحنفیہ (رح) ‘ امام محمد (رح) ‘ امام زفر (رح) ‘ اور امام شافعی (رح) ‘ یہ کہتے ہیں کہ نماز میں ” اعوذ باللہ “ کے بعد سورة فاتحہ سے پہلے بسم اللہ پڑھی جائے ‘ اور اس میں اختلاف ہے کہ آیا ہر رکعت میں بسم اللہ پڑھی جائے یا نہیں ‘ اسی طرح سورت سے پہلے بسم اللہ پڑھی جائے یا نہیں۔ امام ابویوسف (رح) نے امام ابوحنیفہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہر رکعت میں ایک مرتبہ سورة فاتحہ سے پہلے بسم اللہ پڑھے اور امام ابوحنفیہ (رح) اور امام یوسف (رح) کے نزدیک (ضم) سورت سے پہلے دوبارہ بسم اللہ نہ پڑھے ‘ اور امام محمد (رح) اور حسن بن زیاد نے امام ابوحنفیہ (رح) سے یہ روایت کیا ہے کہ جب پہلی رکعت میں قرات سے پہلے بسم اللہ پڑھ لی ہے تو اب اس نماز میں سلام پھرنے تک اس پر بسم اللہ پڑھنے کا حکم نہیں ہے ‘ اور اگر اس نے ہر سورت کے ساتھ بسم اللہ پڑھ لی تو مستحسن ہے۔ حسن بن زیاد نے کہا : اگر وہ مسبوق ہے تو اس کی پہلی رکعت میں اس پر بسم اللہ پڑھنا ضروری نہیں ہے ‘ کیونکہ امام پہلی رکعت میں بسم اللہ پڑھ چکا ہے اور امام کی قرات اس کی قرات ہے۔ امام مالک بن انس (رح) نے یہ کہا ہے کہ فرض نماز میں بسم اللہ کو آہستہ پڑھے نہ بلند آواز سے اور نفل میں اس کو اختیار ہے ‘ اگر چاہے تو پڑھے اور اگر چاہے تو ترک کر دے اور ہمارے نزدیک تمام نمازوں میں بسم اللہ پڑھے کیونکہ حضرت ام سلمہ (رض) اور حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں پڑھتے تھے : ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ الحمد للہ رب العلمین “۔ اور حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ حضرت ابوبکر (رض) ‘ حضرت عمر (رض) اور حضرت عثمان (رض) کی اقتداء میں نمازیں پڑھیں ‘ وہ پست آواز سے بسم اللہ پڑھتے تھے اور بعض روایات میں ہے کہ وہ جہرا بسم اللہ نہیں پڑھتے تھے۔ (احکام القرآن ج ١ ص ١٤۔ ١٣‘ ملخصا ‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ) امام شافعی (رح) کے نزدیک چونکہ ہر سورت کے اول میں بسم اللہ اس سورت کا جز ہے اس لیے ان کے نزدیک ہر رکعت میں سورة فاتحہ اور سورت سے پہلے بسم اللہ پڑھی جائے گی اور امام احمد کے نزدیک بسم اللہ صرف سورة فاتحہ کا جز ہے اس لیے ہر رکعت میں سورة فاتحہ سے پہلے بسم اللہ پڑھی جائے گی اور سورت سے پہلے نہیں پڑھی جائے گی۔ نماز میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کو آہستہ سے پڑھنے کی تحقیق اور مذاہب اربعہ : علامہ ابوبکر رازی حنفی (رح) لکھتے ہیں : ہمارے اصحاب (احناف) اور ثوری نے یہ کہا ہے کہ نماز میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کو آہستہ پڑھا جائے ‘ اور امام شافعی (رح) نے کہا ہے کہ بسم اللہ کو نماز میں جہرا پڑھے ‘ یہ اختلاف اس وقت ہے جب امام نماز میں جہرا قرات کرے ‘ اس مسئلہ میں صحابہ کرام (رض) کا بہت اختلاف ہے ‘ عمر بن ذر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) کے پیچھے نماز پڑھی تو انھوں نے انہوں نے بلند اواز سے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ پڑھی ‘ حماد نے ابراہیم سے روایت کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) اور ان کے اصحاب ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ آہستہ پڑھتے تھے ‘ جہر سے نہیں پڑھتے تھے ‘ اور حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ آہستہ پڑھتے تھے ‘ اسی طرح حضرت عبداللہ بن مغفل (رض) سے مروی ہے ‘ اور مغیرہ (رض) نے ابراہیم سے روایت کیا ہے کہ نماز میں بسم اللہ کو جہر سے پڑھنا بدعت ہے ‘ امام ابوحنیفہ (رح) ‘ حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نماز میں بسم اللہ کو جہر سے پڑھنا اعرابیوں (بدوؤں) کا طریقہ ہے ‘ اسی طرح حضرت عکرمہ (رض) نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ ابو وائل بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) اور حضرت علی (رض) نماز میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کو جہر سے پڑھتے تھے نہ ” اعوذ باللہ “ کو نہ آمین کو ‘ اور حضرت انس اور حضرت عبداللہ بن مغفل سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ حضرت ابوبکر (رض) ‘ حضرت عمر (رض) ‘ اور حضرت عثمان (رض) ‘ نماز میں بسم اللہ کو آہستہ سے پڑھتے تھے اور حضرت عبداللہ بن مغفل جہر سے بسم اللہ پڑھنے کو بدعت کہتے تھے۔ (جامع ترمذی ص ٦٢) حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کو ” اللہ اکبر “ اور (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین “ کی قرات سے شروع کرتے تھے اور سلام سے ختم کرتے تھے۔ ‘ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی فرض نماز میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کو جہرا نہیں پڑھا ‘ نہ حضرت ابوبکر (رض) نے نہ حضرت عمر (رض) نے۔ (احکام القرآن ج ١ ص ١٦۔ ١٧‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ) علامہ ابو الحسن مرداوی حنبلی لکھتے ہیں : بسم اللہ کو نماز میں جہرا نہ پڑھا جائے ‘ خواہ ہم اس کو سورة فاتحہ کا جز کہیں یا نہ کہیں ‘ یہی صحیح قول ہے ‘ مجد نے اپنی شرح میں اس کی تصیح کی ہے اور انھوں نے لکھا ہے کہ ترک جہر کی روایت میں کوئی اختلاف نہیں ہے ‘ خواہ ہمارے نزدیک یہ سورة فاتحہ کا جز ہے ‘ ابن حمدان ‘ ابن تمیم ‘ ابن جوزی اور زرکشی وغیرہ نے اس کی تصریح کی ہے اور اس قول کو مقدم رکھا ہے اور یہی جمہور کا موقف ہے۔ ابن حامد اور ابوالخطاب نے ایک روایت جہر کی بیان کی ہے ‘ بہ شرطی کہ بسم اللہ کو سورة فاتحہ کا جز کہا جائے ‘ ابن عقیل نے بھی اس کا ذکر کیا ‘ ایک قول یہ ہے کہ مدینہ میں جہر کیا جائے اور ایک قول یہ ہے کہ نفل میں جہر کیا جائے اور شیخ تقی الدین کا مختار یہ ہے کہ ” بسم اللہ ‘ اعوذ باللہ “ اور سورة فاتحہ کو نماز جنازہ وغیرہ میں کبھی کبھی جہر سے پڑھا جائے۔ (انصاف ج ٢ ص ٤٩۔ ٤٨‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٣٧٢ ھ) علامہ نووی شافعی (رح) لکھتے ہیں : سنت یہ ہے کہ جہری نماز میں سورة فاتحہ اور اس کے بعد کی سورت سے پہلے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کو جہرا پڑھا جائے۔ (شرح مسلم ج ١ ص ٣٤٨‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ) علامہ ابن رشد مالکی (رح) لکھتے ہیں : امام مالک (رح) نے فرض نماز میں بسم اللہ پڑھنے سے منع کیا ہے خواہ جہری نماز ہو یا سری ‘ سورة فاتحہ سے پہلے بسم اللہ پڑھے نہ اس کے بعد والی سورت سے پہلے اور نفل نماز میں جائز کہا ہے۔ (بدایۃ المجتہد ج ١ ص ٨٩‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) خلاصہ یہ ہے امام شافعی (رح) کے نزدیک جہری نماز میں سورة فاتحہ اور بعد کی سورت سے پہلے بسم اللہ کو جہرا پڑھے اور امام ابوحنفیہ (رح) اور امام احمد (رح) کے نزدیک جہری نماز میں سورة فاتحہ سے پہلے بسم اللہ کو آہستہ پڑھے اور امام مالک کے نزدیک فرض نماز میں مطلقا بسم اللہ نہ پڑھے۔ ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کے احکام شرعیہ اور مسائل : علامہ سید احمد طحطاوی ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کے احکام شرعیہ کے بیان میں لکھتے ہیں : (١) ذبح کرتے وقت شکار کی طرف تیر پھینکتے وقت اور شکاری کتا چھوڑتے وقت بسم اللہ پڑھنا واجب ہے۔ ” البحرالرائق “ میں لکھا ہے کہ بسم اللہ کہنا ضروری نہیں ہے صرف اللہ کا نام لینا شرط ہے ‘ اور بعض کتابوں میں ہے : ” الرحمن الرحیم “ نہ کہے (صرف بسم اللہ کہے) کیونکہ ذبح کے وقت رحمت کا ذکر مناسب نہیں ہے۔ (٢) ” قنیہ “ میں لکھا ہے کہ ہر رکعت میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ پڑھنا واجب ہے ‘ اور اس کے ترک سے سجدہ سہو کرنا لازم ہے ‘ لیکن زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ ہے کہ یہ سنت ہے۔ (٣) وضو کی ابتداء میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ پڑھنا سنت ہے ‘ استنجاء سے پہلے اور بعد میں ‘ لیکن حالت استنجاء اور محل نجاست میں نہ پڑھے۔ اگر وضو کے شروع میں ” بسم اللہ “ پڑھنا بھول گیا تو دوران وضو جب بھی یاد آئے بسم اللہ پڑھ لے ‘ وضو کے اول میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ پڑھنا سنت ہے اور درمیان میں پڑھنا مستحب ہے۔ (٤) کھانے کی ابتداء میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ پڑھنا سنت ہے ‘ اگر بھول گیا تو درمیان میں پڑھنا بھی سنت ہے اور درمیان میں یوں پڑھے : بسم اللہ اولہ واخرہ “۔ (٥) سورة فاتحہ کے بعد دوسری سورت سے پہلے بسم اللہ پڑھنا مستحب ہے خواہ نماز سری ہو یا جہری۔ (٦) کسی کتاب کے شروع میں اور ہر نیک اور اہم کام کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا مستحب ہے۔ (٧) قرآن مجید کی تلاوت سے پہلے ” اعوذ باللہ “ کے بعد ” بسم اللہ “ پڑھنا مستحب ہے۔ (٨) مشتبہ چیز کھاتے وقت ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ پڑھنا مکروہ ہے ‘ جمہور کے نزدیک تمباکو نوشی کے وقت بھی بسم اللہ پڑھنا مکروہ ہے۔ (٩) سورة انفال کے بعد سورة توبہ سے پہلے بسم اللہ پڑھنا مکروہ ہے ‘ اگر توبہ سے ہی پڑھنا شروع کیا ہے تو پھر بعض مشائخ کے نزدیک بسم اللہ مکروہ نہیں ہے۔ (١٠) اٹھنے ‘ بیٹھنے ‘ چلنے پھرنے اور دیگر کاموں کے وقت بسم اللہ پڑھنا مباح ہے۔ (١١) ” خلاصۃ الفتاوی “ میں مذکور ہے : اگر کسی شخص نے شراب پیتے وقت یا حرام کھاتے وقت یا زنا کرتے وقت بسم اللہ پڑھی تو وہ کافر ہوجائے گا ‘ یہاں حرام سے مراد حرام قطعی ہے ‘ کیونکہ کسی کام کے شروع میں اللہ تعالیٰ سے استعانت اور برکت حاصل کرنے کے لیے بسم اللہ پڑھی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ سے مدد اسی کام میں حاصل کی جائے گی جس کام کو اس نے جائز کیا ہو اور اس پر وہ راضی ہو ‘ اس لیے کسی حرام کام پر بسم اللہ پڑھنا اس کو حلال قرار دینے کے مترادف ہے اور حرام کو حلال قرار دینا کفر ہے۔ (١٢) جنبی اور حائض کے لیے بہ طور قرآن ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ پڑھنا حرام ہے ‘ البتہ بطور ذکر اور برکت حاصل کرنے کے لیے پڑھنا جائز ہے۔ (حاشیہ الطحطاوی علی اللدر المختار ج ١ ص ٦۔ ٥‘ مطبوعہ دارالمعرفۃ ‘ بیروت ‘ ١٣٩٥ ھ) اللہ تعالیٰ اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے اسماء لکھنے اور پڑھنے کے آداب : علامہ سید احمد طحطاوی لکھتے ہیں : ” فصول “ میں مذکور ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے کوئی نام سنے اس پر اللہ کی تعظیم کرنا واجب ہے مثلا ” عزوجل ‘ جل مجدہ “ تبارک وتعالیٰ “ کہے اور بعض کتابوں میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا نام لکھے تو اس کے ساتھ کوئی تعظیمی کلمہ مثلا عزوجل لکھے ‘ اسی طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر صلوۃ وسلام پڑھنے کی حفاظت کرے اور بار بار پڑھنے سے نہ اکتائے ‘ اگر اصل کتاب میں صلوۃ وسلام نہ ہو تو خود زبان سے پڑھے ‘ اسی طرح صحابہ کرام کے ناموں کے ساتھ (رض) اور علماء کے اسماء کے ساتھ (رح) لکھے اور پڑھے ‘ اور صرف صلوۃ یا سلام پر اختصار کرنا مکروہ ہے ‘ ملا مسکین نے لکھا ہے : یہ مکروہ نہیں ہے ‘ لیکن ان کی مراد یہ ہے کہ یہ مکروہ تحریمی نہیں ہے مکروہ تنزیہی بہرحال ہے ‘ اسی طرح لکھتے وقت رمز اور اشارہ سے صلوۃ وسلام اور (رض) لکھنا (مثلا ص یا صلعم یا (رض) لکھنا) مکروہ ہے مکمل ” (علیہ الصلوۃ والسلام) “ اور ” (رض) “ لکھے ‘ تا تارخانیہ کے بعض مقامات پر لکھا ہے کہ جس نے (علیہ السلام) کو ہمزہ اور میم کے ساتھ لکھا وہ کافر ہوجائے گا کیونکہ یہ تخفیف ہے اور انبیاء (علیہ السلام) کی تخفیف کفر ہے ‘ تاہم یہ کفر اس وقت ہوگا جب کوئی شخص تخفیف کے قصد سے ایسا کرے گا ‘ بہرحال اس سے احتیاط لازم ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار ج ١ ص ٦‘ مطبوعہ المعرفۃ ‘ بیروت ‘ ١٣٩٥ ھ) ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کے فوائد اور حکمتیں : (١) علامہ ابن جریر طبری نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اسماء حسنی کو مقدم کرکے ہمیں یہ ادب سکھایا ہے کہ ہمیں چاہیے کہ اپنے تمام اقوال ‘ افعال اور مہمات کو اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی سے شروع کیا کریں۔ (جامع البیان ج ١ ص ٣٨‘ مطبوعہ مطبعہ امیریہ کبری ‘ بولاق ‘ مصر ‘ ١٣٢٣ ھ) (٢) علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ کھانے ‘ پینے ‘ ذبح کرنے، جماع کرنے ‘ وضو کرنے ‘ کشتی میں سوار ہونے ‘ غرض ہر (صحیح) کام سے پہلے بسم اللہ پڑھنا مستحب ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” فکلوا مما ذکراسم اللہ علیہ “۔ (الانعام : ١١٨) تو اس (ذبیحہ) سے کھاؤ ‘ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ وقال ارکبوا فیھا بسم اللہ مجریھا ومرسھا “۔ (ھود : ٤١) اور نوح نے کہا : اس کشتی میں سوار ہوجاؤ ‘ اس کا چلنا اور رکنا اللہ کے نام سے ہے۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دروازہ بند کرتے ہوئے بسم اللہ پڑھو ‘ چراغ گل کرتے ہوئے بسم اللہ پڑھو ‘ برتن ڈھانکتے ہوئے بسم اللہ پڑھو ‘ اور مشک کا منہ بند کرتے ہوئے بسم اللہ پڑھو اور فرمایا : اگر تم میں سے کوئی شخص عمل تزویج کے وقت کہے : بسم اللہ ‘ اے اللہ ! ہم کو شیطان سے محفوظ رکھ اور جو (اولاد) ہم کو عطا کرے اس کو بھی شیطان سے محفوظ رکھ ‘ تو اگر اس عمل میں ان کے لیے اولاد مقدر کی جائے گی تو اس کو شیطان کبھی ضرر نہیں پہنچا سکے گا ‘ اور آپ نے عمر بن ابی سلمہ سے فرمایا : اے بیٹے ! بسم اللہ پڑھو ‘ اور اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ ‘ اور آپ نے فرمایا : شیطان ہر کھانے کو حلال کرلیتا ہے۔ ماسوا اس کھانے کے جس پر بسم اللہ پڑھی گئی ہو ‘ حضرت عثمان بن ابی العاص (رض) نے آپ سے شکایت کی کہ جب سے وہ اسلام لائے ہیں ان کے جسم میں درد رہتا ہے ‘ آپ نے فرمایا : تین بار بسم اللہ پڑھو ‘ اور سات بار یہ پڑھو ” اعوذ بعزۃ اللہ وقدرتہ من شرما اجد واحاذر “ یہ تمام احادیث صحیح ہیں ‘ اور امام ابن ماجہ اور امام ترمذی (رح) نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب بنو آدم بیت الخلاء میں داخل ہوں تو ان کی شرم گاہوں اور شیاطین کے درمیان بسم اللہ حجاب ہے ‘ اور امام دار قطنی نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وضو کرتے تو پہلے بسم اللہ پڑھتے ‘ پھر اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالتے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١ ص ٩٨۔ ٩٧‘ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران) (٣) ہر نیک اور صحیح کام سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کی انسان کو عادت پڑجائے تو پھر اس کا برے کاموں سے باز رہنا زیادہ متوقع ہوگا ‘ کیونکہ اگر وہ کسی وقت خواہش نفس سے مغلوب ہو کر برائی میں ہاتھ ڈالے گا تو عادۃ اس کے منہ سے بسم اللہ نکلے گی ‘ اور پھر اس کا ضمیر اس کو سرزنش کرے گا۔ (٤) انسان اسی کا نام بار بار لیتا ہے جس سے اس کو محبت ہوتی ہے ‘ اس لیے جو انسان ہر صحیح کام کے وقت بسم اللہ پڑھتا ہے یہ اس کی اللہ تعالیٰ سے محبت کی دلیل ہے۔ (٥) علامہ قرطبی (رح) لکھتے ہیں : سعید بن ابی سکینہ نے بیان کیا ہے کہ حضرت علی (رض) نے ایک شخص کو ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ لکھتے دیکھا تو فرمایا : اس کو خوبصورت لکھو ‘ کیونکہ ایک شخص نے بسم اللہ کو خوبصورت لکھا تو اس کو بخش دیا گیا۔ (٦) سعید بن ابی سکینہ نے بیان فرمایا کہ ایک شخص نے کاغذ کو دیکھا اس میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ لکھی ہوئی تھی ‘ اس نے اس کو اٹھا کر بوسہ دیا اور اس کو اپنی آنکھوں پر رکھا تو اس کو بخش دیا گیا۔ (٧) بشرحافی پہلے ایک ڈاکو تھے ‘ انہوں نے راستہ میں ایک کاغذ دیکھا جو لوگوں کے پیروں تلے آرہا تھا ‘ انھوں نے اس کاغذ کو اٹھایا تو اس میں اللہ تعالیٰ کا نام لکھا ہوا تھا ‘ انہوں نے بہت قیمتی خوشبو خریدی اور اس کاغذ پر وہ خوشبو لگائی اور اس کو حفاظت کے ساتھ رکھ دیا ‘ رات کو خواب میں انہوں نے سنا کوئی کہہ رہا تھا اے بشر ! تم نے میرے نام کو خوشبو میں رکھا ہے ‘ میں تم کو دنیا اور آخرت میں خوشبودار رکھوں گا۔ اس کے بعد انہوں نے توبہ کی اور ولی کامل بن گئے۔ (٨) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا : جو شخص چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو جہنم کے انیس فرشتوں سے نجات دے وہ ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ پڑھے تاکہ اللہ تعالیٰ بسم اللہ کے ہر حرف کے بدلہ اس کو جہنم کے ایک فرشتہ سے محفوظ رکھے کیونکہ بسم اللہ کے انیس حرف ہیں (الجامع الاحکام القرآن ج ١ ص ٩٢۔ ٩١‘ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران) (٩) امام رازی (رح) لکھتے ہیں : روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو اپنی انگوٹھی دی ‘ اور فرمایا : اس میں ” لا الہ الا اللہ “ لکھواؤ حضرت ابوبکر (رض) نے نقاش سے کہا : اس میں ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ لکھ دو ‘ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وہ انگوٹھی پیش کی تو اس میں لکھا ہوا تھا : ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ابوبکر صدیق “۔ آپ نے پوچھا : ابے ابوبکر ! یہ زائد (کیسے لکھا ہوا ہے ؟ ) حضرت ابوبکر (رض) نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے آپ کے نام کو اللہ تعالیٰ کے نام سے جدا کرنا پسند نہیں کیا اور باقی میں نہیں لکھوایا ‘ اور حضرت ابوبکر (رض) اس پر شرمندہ تھے ‘ تب جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور کہا : یا رسول اللہ ! ابوبکر کا نام میں نے لکھا ہے کیونکہ جب ابوبکر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نام کو اللہ عزوجل کے نام سے جدا کرنے پر راضی نہ تھے تو اللہ تعالیٰ ‘ ابوبکر کے نام کو آپ کے نام سے جدا کرنے پر راضی نہ تھا اور اس میں سے نکتہ یہ ہے کہ جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کی وجہ سے آپ کے فراق کو گوارا نہ کرے وہ اللہ تعالیٰ کی عنایات کا مرکز بن جاتا ہے تو جو اللہ تعالیٰ سے محبت کی وجہ سے اس کے نام سے فراق نہ گوارا کرے اور ہر کام کے ساتھ اللہ کا نام لے وہ کب اللہ تعالیٰ کی عنایات سے محروم ہوگا ! (١٠) حضرت نوح (علیہ السلام) نے ” بسم اللہ مجرھا ومرسھا “ کہا تو طوفان سے نجات پالی ‘ حالانکہ بسم اللہ “ ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کا نصف ہے تو جب ایک بارنصف بسم اللہ کے پڑھنے سے طوفان سے نجات مل گئی تو جو شخص ساری عمر بسم اللہ پڑھتا رہے ‘ وہ نجات سے کیسے محروم ہوگا ! (١١) قیصر روم نے حضرت عمر (رض) کی طرف لکھا کہ اس کے سر میں درد رہتا ہے جس سے افاقہ نہیں ہوتا ‘ میرے لیے کوئی دوا بھیج دیجیے حضرت عمر (رض) نے اس کے پاس ایک ٹوپی بھیجی ‘ وہ اس ٹوپی کو پہن لیتا تو آرام آجاتا اور اس ٹوپی کو اتار دیتا تو پھر سر میں درد شروع ہوجاتا۔ وہ حیران ہوا ‘ اور ایک دن اس نے ٹوپی کو کھول کر دیکھا تو اس میں ایک کاغذ تھا جس میں لکھا ہوا تھا ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “۔ (١٢) بعض کفار نے حضرت خالد بن ولید سے کہا : آپ ہمیں اسلام کی دعوت دیتے ہیں ‘ آپ ہمیں اسلام کی صداقت پر کوئی نشان دکھایئے تاکہ ہم بھی اسلام لے آئیں ‘ حضرت خالد نے زہر منگایا اور ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ پڑھ کر کھالیا اور اللہ تعالیٰ کے اذن سے صحیح سالم کھڑے رہے ‘ مجوس نے کہا : واقعی یہ دین حق ہے۔ (١٣) حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) ایک قبر کے پاس سے گزرے تو دیکھا کہ عذاب کے فرشتے ایک مردہ کو عذاب دے رہے ہیں ‘ جب اپنے کام سے واپس لوٹے تو اس قبر میں رحمت کے فرشتوں کو دیکھا جن کے پاس نور کے طباق تھے ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس سے تعجب ہوا ‘ انہوں نے نماز پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ اے عیسیٰ ! یہ شخص گنہ گار تھا اور جب یہ مرا تو عذاب میں مبتلا ہوگیا ‘ مرتے وقت اس کی بیوی حاملہ تھی ‘ اس کے بچہ ہوا ‘ اس نے اس کو پالا حتی کہ وہ بڑا ہوگیا ‘ اس کو مکتب میں داخل کیا ‘ وہاں اس کو معلم نے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ ( ان کی زبان میں) پڑھائی تو مجھے حیا آئی کہ جو بچہ زمین کے اوپر میرا نام لے رہا ہے ‘ اس کے باپ کو میں زمین کے نیچے عذاب میں مبتلا رکھوں ! (١٤) سورة توبہ میں قتال ذکر ہے ‘ لہذا اس سے پہلے بسم اللہ نہیں لکھی گئی ‘ اور ذبح سے پہلے ” بسم اللہ ‘ اللہ اکبر “ کہا جاتا ہے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ نہیں کہا جاتا کیونکہ ذبح کے وقت رحمت کا ذکر مناسب نہیں ہے ‘ تو جو شخص ہر روز سترہ مرتبہ فرض نمازوں میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ پڑھے گا وہ کب عذاب میں مبتلا ہوگا۔ (تفسیر کبیر ج ١ ص ٨٩۔ ٨٧‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تمام تعریفیں اللہ ہی کے لائق ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ (الفاتحہ : ١) حمد کے لغوی اور اصلاحی معانی : علامہ جوہری لکھتے ہیں : حمد ‘ ذم کی نقیض ہے ‘ تحمید ‘ حمد سے زیادہ بلیغ ہے اور حمد شکر سے زیادہ عام ہے ‘ جس شخص میں بہ کثرت خصال محمودہ ہوں اس کو محمد کہتے ہیں۔ (الصحاح ج ٢ ص ٤٦٦‘ مطبوعہ دارالعلم ‘ بیروت ‘ ١٤٠٤ ھ) علامہ فیروزآبادی (رح) لکھتے ہیں : حمد کا معنی ہے : شکر ‘ رضا ‘ جزاء اور حق کو ادا کرنا ‘ تحمید کے معنی ہیں : اللہ کی بار بار حمد کرنا ‘ اور محمد کے معنی ہیں : ’ جس کی بار بار حمد کی گئی ہو۔ (قاموس ج ١ ص ٥٦٣۔ ٥٦٢‘ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ) علامہ ابن منظور افریقی لکھتے ہیں : حمد مذمت کی نقیض ہے ‘ ثعلب نے کہا : حمد کا تعلق نعمت اور غیر نعمت دونوں سے ہے اور شکر کا تعلق صرف نعمت سے ہے۔ لحیانی نے کہا : حمد شکر ہے اور ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اخفش نے کہا : ” الحمد للہ “ کا معنی ہے : ” الشکر للہ “ اور کہا : ” الحمد للہ “ اللہ کی ثناء اور اس کی تعریف ہے ‘ ازہری نے کہا : شکر صرف اس ثناء کو کہتے ہیں جو نعمت پر کی جاتی ہے ‘ اور حمد بعض اوقات کسی کام کے شکر کو کہتے ہیں اور کبھی ابتداء نعمت کے بغیر کسی شخص کی ثناء کو حمد کہتے ہیں ‘ سو اللہ کی حمد اس کی ثناء ہے اور اس کی ان نعمتوں کا شکر ہے جو سب کی محیط ہیں ‘ اور حمد شکر سے عام ہے۔ (لسان العرب ج ٣ ص ١٥٥‘ مطبوعہ نشر ادب الحوذۃ ‘ قم ‘ ایران ‘ ١٤٠٥ ھ) علامہ ابن اثیر جزری لکھتے ہیں : حمد اور شکر متقارب ہیں اور ان میں حمد زیادہ عام ہے ‘ کیونکہ تم انسان کی صفات ذاتیہ اور اس کی عطاء پر اس کی حمد (تعریف) کرتے ہو اور اس کی صفات ذاتیہ پر اس کا شکر نہیں ادا کرتے (مثلا کسی کی سخاوت کی تعریف کرنا شکر ہے اور اس کے حسن کی تعریف کرنا شکر نہیں حمد ہے) حدیث میں ہے : حمد رئیس شکر ہے ‘ جس شخص نے اللہ کی حمد نہیں کی اس نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا ‘ حمد شکر کی رائیس اس لیے ہے کہ اس میں نعمت کا اظہار اور اس کی مشہور کرنا ہے اور حمد شکر سے عام ہے۔ (نہایہ ج ١ ص ٤٣٧۔ ٤٣٦‘ مطبوعہ مؤسسۃ مطبوعاتی ‘ ایران ‘ ١٣٦٤ ھ) علامہ میرسید شریف (رح) حمد پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں : حمد : کسی خوبی کی بطور تعظیم ثنا کرنا خواہ کسی نعمت کی وجہ سے ہو یا اس کے بغیر۔ حمد قولی : زبان سے اللہ تعالیٰ کی وہ تعریف کرنا جو اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کی زبانوں کے ذریعہ خود اپنی تعریف فرمائی ہے۔ حمد فعلی : اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے بدن سے نیک اعمال کرنا۔ حمد حالی : روح اور قلب کے اعتبار سے ثناء کرنا ‘ مثلا علمی اور عملی کمالات سے متصف ہونا ‘ اور اللہ تعالیٰ کے اخلاق سے متخلق ہونا۔ حمد عرفی : منعم کے انعام کی وجہ سے کوئی ایسا فعل کرنا جس سے اس کی تعظیم ظاہر ہو ‘ عام ازیں کہ زبان سے ہو یا دیگر اعضاء سے۔ (کتاب التعریفات ص ٤٢۔ ٤١‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ٦، ١٣ ھ) خلاصہ یہ ہے کہ کسی چیز کی غیر اختیاری خوبی پر اس کی تعریف کرنا مدح ہے ‘ مثلا یاقوت اور موتی کی خوبصورتی پر تعریف کرنا ‘ اور کسی شخص کے انعام اور احسان پر اس کی تعظیما ثنا کرنا شکر ہے اور کسی کی اختیاری خوبی پر اس کی تعظیما تعریف کرنا خواہ اس نے کوئی نعمت دی ہو یا نہ دی ہو ‘ یہ حمد ہے۔ کائنات کی کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے کہ جس کو اللہ نے کوئی نہ کوئی نعمت نہ دی ہو اس لیے اللہ تعالیٰ کی ہر ثناء اور ہر تعریف اس کا شکر ہے اور اس کی ہر حمد شکر کے ضمن میں ہے۔
Top