Urwatul-Wusqaa - Maryam : 53
وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا
وَوَهَبْنَا : اور ہم نے عطا کیا لَهٗ : اسے مِنْ رَّحْمَتِنَآ : اپنی رحمت سے اَخَاهُ : اس کا بھائی هٰرُوْنَ : ہارون نَبِيًّا : نبی
نیز اپنی رحمت سے ہارون (علیہ السلام) عطا فرمایا کہ اس کا بھائی اور نبی تھا
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو ہارون (علیہ السلام) عطا فرمانے سے مراد کیا ہے ؟ : 53۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر سے گئے ہوئے ایک لمبا عرصہ گزر چکا تھا لیکن اس کے باوجود وہ مصر کے حالات سے پوری طرح باخبر تھے کیونکہ دوسری جگہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنا راز نبوت بتایا اور مصر میں فرعون کے پاس جانے کی ہدایت فرمائی تو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے اس وقت دعا فرمائی کہ اے میرے پروردگار مصر میں میرا ایک بھائی ہارون بھی ہے آپ اس کو بھی میرے ساتھ کام میں شریک کر دیجئے کہ وہ میرے سے زیادہ فصیح اللسان ہے اور میرے سے زیادہ نرم مزاج بھی ۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کو شرف قبولیت بخشا اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا کہ تجھ کو تیرا سوال ہم نے عطا کردیا یعنی تیرا بھائی تجھے عطا کردیا کہ وہ آپ کا شریک کار ہوگا اور اس کو ہم یہ اطلاع کردیں گے ، یہ وہ احسان تھا جو اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر کیا اور اپنی خاص رحمت سے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی کو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا شریک کار بنا دیا اور یہ کوئی ضمنی نبوت یا کوئی ظلی وبروزی نبوت نہیں تھی جیسا کہ بعض نے اس کی توجیہات کی ہیں بلکہ اس طرح کی نبوت تھی جیسی کچھ دوسرے انبیاء کی تھی ہاں ! آپ نے ہارون (علیہ السلام) کے نبی ہونے اور اپنے کام اور رسالت میں شریک کرنے کے لئے التجا کی تھی جو منظور کی گئی اور یہ اسی طرح کی بات ہے جس طرح کی بات زکریا (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) نے کی تھی فرق ہے تو صرف یہ کہ انہوں نے اپنے بعد پیغام رسالت پہنچانے کے لئے اولاد طلب کی تھی اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے بھائی طلب کیا تھا پہلے نبیوں کی دعائیں قبول ہوئیں تو ان کو ان کی چاہت کے مطابق اولاد مل گئی موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی کو اللہ سے طلب کیا تو اللہ نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو بھائی عطا کردیا ہاں ! سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ دعا بھی بلا شبہ منفرد تھی اور اس کا جواب جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا وہ بھی یقینا منفرد حیثیت کا تھا شاید اسی وجہ سے آپ کو (مخلص) بھی فرمایا گیا ہے کہ آپ کا یہ اخلاص امتیازی تھا کہ آپ نے اپنے بھائی کو ساتھ ملا دینے کی طلب کی جو کسی دوسری جگہ پہ نہیں ملتی اور یہ چیز سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو دوسرے نبیوں سے ممتاز کرتی ہے اور اس دعا میں آپ کو یقینا امیتاز حاصل ہے یہود نے بھی ہارون (علیہ السلام) کو نبی تو ضرور تسلیم کیا لیکن آپ کو بدنام کرنے کے لئے آپ کے ذمہ بڑے بڑے سنگین جرائم کی ذمہ داری ڈالی لیکن قرآن کریم نے ایسی کوئی بات ارشاد نہیں فرمائی جو ذرا برابر بھی ان کی نبوت و رسالت کی شان کے منافی ہو اور رہے یہود تو وہ ایسے بےلگام تھے کہ جس نبی کو نبی ورسول تسلیم بھی کرتے اس کے معاملہ میں بھی بدزبانیاں کرتے رہتے اور انکی سیرتوں کو داغدار کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتے اور جس کی چاہتے پکڑی اچھا دیتے ، قرآن کریم نے ان کی ان بےجا حرکتوں کا جگہ جگہ ذکر فرمایا ہے ۔ اور (یقتلون النبیین) کا جملہ تو عام استعمال کیا ہے اور اسی طرح (اذوا موسی) کے الفاظ استعمال فرما کر ان کی اذیتوں اور تکلیفوں کی نشاندہی بھی فرمائی ہے ۔ سورة مریم میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر جیسا کہ آپ نے دیکھا بہت مختصر انداز میں بیان کیا گیا اور تفصیل کے مقامات پیچھے گزر چکے اور مزید تفصیل انشاء اللہ العزیز سورة طہ اور القصص میں آئے گی نیز سورة طہ میں انشاء اللہ العزیزہم سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا ذرا تفصیل سے ذکر کریں گے ۔
Top