Urwatul-Wusqaa - An-Noor : 20
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ
اَلَمْ تَرَ : کیا تونے نہیں دیکھا اَنَّ : کہ اللّٰهَ : اللہ يُزْجِيْ : چلاتا ہے سَحَابًا : بادل (جمع) ثُمَّ : پھر يُؤَلِّفُ : ملاتا ہے وہ بَيْنَهٗ : آپس میں ثُمَّ : پھر يَجْعَلُهٗ : وہ اس کو کرتا ہے رُكَامًا : تہہ بہ تہہ فَتَرَى : پھر تو دیکھے الْوَدْقَ : بارش يَخْرُجُ : نکلتی ہے مِنْ خِلٰلِهٖ : اس کے درمیان سے وَيُنَزِّلُ : اور وہ اتارتا ہے مِنَ السَّمَآءِ : آسمانوں سے مِنْ : سے جِبَالٍ : پہاڑ فِيْهَا : اس میں مِنْ : سے بَرَدٍ : اولے فَيُصِيْبُ : پھر وہ ڈالدیتا ہے بِهٖ : اسے مَنْ يَّشَآءُ : جس پر چاہے وَيَصْرِفُهٗ : اور اسے پھیر دیتا ہے عَنْ : سے مَّنْ يَّشَآءُ : جس سے چاہے يَكَادُ : قریب ہے سَنَا : چمک بَرْقِهٖ : اس کی بجلی يَذْهَبُ : لے جائے بِالْاَبْصَارِ : آنکھوں کو
اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور بلاشبہ اللہ شفقت کرنے والا ، پیار کرنے والا ہے
عذاب میں مبتلا نہیں تو یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے : 28۔ اس اور اس آیت جیسی دوسری آیات میں اللہ کے فضل اور رحمت سے مراد اس کا قانون امہال ہے جو ڈھیل پر ڈھیل دیئے چلا جا رہا ہے کوئی نہ سمجھے کہ اللہ کی رحمت اور اس کا فضل ان بدکاروں اور بےحیاؤں کے لئے ایسا ہے کہ ان پر کبھی گرفت ہی نہیں ہوگی یہ مضمون پیچھے آیت دس کے تحت حاشیہ 16 میں گزر چکا ہے اگر یہ ڈھیل نہ ہوتی تو توبہ کی توفیق ممکن نہ رہتی یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و رحمت کہ اس نے ڈھیل ومہلت دے کر انسان کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا تاکہ صبح کا بھولا اگر شام کو واپس آجائے تو اس کو اس بھولنے کی صعوبت سے دوچار نہ ہونا پڑے ‘ بھول کر جو اس نے صعوبت اٹھائی وہی اس کا بدلہ ہے اور بلاشبہ سچی توبہ کی توفیق بھی اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے فضل و رحمت ہی سے ممکن ہے جو انسان کی زندگی تک خاص کردی گئی ہے۔
Top