بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Urwatul-Wusqaa - Saad : 1
صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ
صٓ : صاد وَالْقُرْاٰنِ : قرآن کی قسم ذِي الذِّكْرِ : نصیحت دینے والے
صا ... د۔ قرآن (کریم کے رب کی قسم) جو نصیحت والا ہے
ص حروف مقطعات میں سے ہے اور وائو کو قسمیہ کہا گیا ہے : صاد۔۔۔ حروف مقطعات میں سے ہے اور حروف مقطعات کی بحث سورة البقرہ کے شروع میں کردی گئی ہے اور سورت کا نام بھی بیان کیا جاتا ہے ۔ (والقران) میں وائو قسمیہ کہی گئی ہے اور ظاہر ہے کہ قسم کسی بات کو پکا اور پختہ کرنے کے لیے اٹھائی جاتی ہے اور انسانوں کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ قسم اٹھائیں تو صرف اور صرف اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی اٹھائیں اور غیر اللہ کی قسم صحیح نہیں ہے اور عربوں کے رواج کے مطابق وائو کے آگے اللہ یا رب کا لفظ محذوف ہے اور مطلب یہ ہے کہ اس ذات کی قسم جس ذات نے قرآن کریم جیسی کتاب نازل کی گویا رب قرآن کی قسم جس نے قرآن کریم کو نازل کیا جو سراپا نصیحت ہے اور بلاشبہ اس کے نصیحت ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔
Top