Urwatul-Wusqaa - Saad : 15
وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ
وَمَا يَنْظُرُ : اور وہ انتظار نہیں کرتے هٰٓؤُلَآءِ : یہ لوگ اِلَّا : مگر صَيْحَةً : چنگھاڑ وَّاحِدَةً : ایک مَّا لَهَا : جس کے لیے نہیں مِنْ : کوئی فَوَاقٍ : ڈھیل
اور یہ لوگ تو صرف ایک چیخ کے منتظر ہیں جس میں ذرا دم لینے کی گنجائش نہیں
یہ لوگ تو صرف ایک چیخ کے منتظر ہیں جس میں دم لینے کی ذرا بھی گنجائش نہیں 15۔ زیر نظر آیت کا مضمون ان گزشتہ جماعتوں کے ساتھ بھی مل سکتا ہے اور قریش مکہ کی جماعت کے ساتھ بھی اگر گزشتہ قوموں کے ساتھ اس کو ملایا جائے تو مطلب یہ ہے کہ ان جماعتوں اور گروہوں کے سارے لوگ اس بات کے منتظر رہے کہ وہ عذاب جس کا ان کے نبی نے ذکر کیا ہے کب آتا ہے ؟ گویا ان لوگوں کو موعود عذاب کے آنے کی کوئی امید نہ تھی اور اپنے نبی و رسول کی زبان کو اید آوارہ ہی سمجھے تھے لیکن جب موعود وقت آیا اور عذاب کے ایک دھماکے نے ان کو آلیا جس کے وہ منتظر تھے تو ان کو ایک معمولی وقفہ بھی نہ دیا گیا اور اس دھماکے یا چیخ نے ان کو تہس نہس کر کے رکھ دیا اور اگر اس مضمون کا تعلق اس جماعت کیس اتھ قائم کیا جائے جس جماعت کو نبی اعظم و آخر ﷺ نے مخاطب کیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ لوگ یعنی قریش مکہ اور مخالفین و معاندین محمد رسول اللہ ﷺ کس بات کا انتظار کرتے ہیں صرف اس بات کا کہ اچانک ایک دھماکہ یا ایک سخت چیخ اٹھے اور ان کو پل بھر بھی مہلت نہ دے کہ ان کو بھسم کر کے رکھ دے۔ (فواق) کا مادہو ق ہے اس سے افاقہ ہے جس کا استعمال بیماری کے بعد قوت رجوع کرنے پر ہوتا ہے کسی کے متوالا ہونے کے بعد انسان فہم و ادراک کی طرف رجوع کرے تو اس پر بھی یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے اور عرب اس کا استعمال دودھ دوہنے پر کرتے ہیں وہ اس طرح کہ دودھ کے تھن کو دوہنے سے جب ایک بار دودھ نکلتا ہے تو دوبارہ اس کو دوہنے کے لیے جو وقفہ آتا ہے وہ وقفہ بھی اس سے مراد ہے مطلب یہ ہے کہ اتنا کم وقت بھی ان کو مہلت نہیں دی جائے گئی جیسا کہ عربوں کے ہاں یہ محاورہ عام ہے کہ ما اقام عندی فواق ناقۃ جس سے مراد بہت تھوڑی دیر ٹھہرنا ہے۔ مفسرین نے اس پر بہت بحث کی ہے لیکن یہ بات کوئی بحث کی نہیں کیونکہ اس سے مراد فقط تھوڑی سے تھوڑی مدت ہے اور کچھ نہیں۔
Top