Urwatul-Wusqaa - Saad : 18
اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ
اِنَّا سَخَّرْنَا : بیشک ہم نے مسخر کردیے الْجِبَالَ : پہاڑ مَعَهٗ : اس کے ساتھ يُسَبِّحْنَ : وہ تسبیح کرتے تھے بِالْعَشِيِّ : شام کے وقت وَالْاِشْرَاقِ : اور صبح کے وقت
ہم نے پہاڑوں کو اس کے لیے مسخر کردیا جو صبح و شام اس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے
18۔ پہاڑوں کی تسبیح معروف ہے اور ( الجبال ) سے مراد بڑے بڑے انسان بھی لیے جاسکتے ہیں۔ ہماری زبان میں یہ لفظ انسانوں کے لیے عام طور پر بولا جاتا ہے کہ فلاں آدمی تو عزم و جزم کا پہاڑ ہے۔ بلاشبہ حسین عزم و ارادہ کے پہاڑ تھے۔ فلاں آدمی کا مقابلہ کرنا ہے تو پہاڑ سے ٹکر لینا ہے۔ چونکہ بڑے بڑے لوگ اکثر ادوار میں اور بہت سے انبیاء کرام اور رسل عظام کے مقابلہ میں مخالف ہی رہے ہیں اور بہت کم ایسا ہوا ہے کہ بڑے لوگوں میں سے کسی نے وقت کے نبی و رسول کی سچے دل سے اطاعت و فرمانبرداری کی ہو چونکہ دائود ععلیہ السلام کو اس میں خصوصیت حاصل تھی اور خصوصیت کے ساتے وہ بڑے لوگوں میں بھی ایک اہمیت و حیثیت رکھتے تھے اور صبح و شام آپ کے ساتھ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تہلیل میں شامل ہوتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے تصور سے خالی نہیں تھے اور یہ بھی کہ ان بڑے لوگوں کا ساتھ ہونا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرنا بھی دائود (علیہ السلام) کے کمالات میں سے ایک کمال تھا اس لیے اس کمال کے حاصل کرنے کی نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کو خصوصا ہدایت کی گئی اور آپ نے بھی اس ہدایت پر پوری دلجمعی کے ساتھ عمل کیا اور بلاشبہ کسی حکومت کو اسلامی قوانین کے مطابق چلانا بھی تسبیح و تہلیل کا یاک حصہ ہے اس لیے آپ کو حکومت دئیے جانے کی طرف بھی اس میں پورا پورا اشارہ موجود ہے اور دائود (علیہ السلام) کے نہج پر اس کو چلانا بھی ایک بہت بڑی صلاحیت و مہارت کا کام ہے اور اس کام میں دائود (علیہ السلام) نے بلاشبہ ایک خاص مقام پیدا کیا اور اس مقام کو حاصل کرنے کی رسول اللہ ﷺ کو ہدایت دی جا رہی ہے اور اس لحاظ سے گزشتہ پیش گوئی کی طرح یہ بھی ایک پیش گوئی ہے کہ دائود (علیہ السلام) کی طرح آپ کو بھی حکومت دی جائے گی لیکن اس وقت جب اس کا وقت آئے گا۔
Top