Urwatul-Wusqaa - Saad : 2
بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ
بَلِ : بلکہ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا : جن لوگوں نے کفر کیا (کافر) فِيْ عِزَّةٍ : گھمنڈ میں وَّشِقَاقٍ : اور مخالفت
بلکہ (واقعہ یہ ہے کہ) کافر غرور اور مخالفت میں مبتلا ہیں
بلکہ کافر اور مخالفت میں مبتلا ہیں : 2۔ نبی اعظم وآخر محمد ﷺ نے جب تعلیمات اسلام قوم کے سامنے پیش کیں تو انہوں نے ان کو ٹھکرا دیا اور ان کے ٹھکرانے کا اصل باعث ان کی عزت اور ان کا وقار تھا جو وہ محمد رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں سمجھتے تھے۔ بلاشبہ اعلان نبوت سے پہلے آپ نے تجارت کی اور تجارت میں اللہ نے برکت بھی بہت عطا فرمائی لیکن ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ آپ کی شادی سیدہ خدیجہ سے ہوگئی خدیجہ مکہ کی ایک مالدار خاتون تھیں شادی کے بعد اگر آپ تجارت کی طرف زیادہ رغبت دیتے تو دنیا کے مال سے مالا مال ہوجاتے لیکن جونہی شادی کی تو عائلی زندگی اختیار کرنے کے باوجود آپ نے دنیا اور دنیا کی چیزوں کی طرف رغبت نہیں کی بلکہ اس دنیا کی جتنی رغبت پہلے موجود تھی اس میں بھی کمی آگئی اور آپ غور و فکر میں لگ گئے۔ بلاشبہ آپ کے ہاں اولاد بھی ہوتی رہی لیکن آپ کا زیادہ وقت تفکر و تدبر میں گزرنے لگا اسی وجہ سے دولت میں اضافہ نہ کرسکے بلکہ اس میں روز بروز کمی ہی آئی اور جب آپ نے بعثت کا دعویٰ کیا تو بڑے مالدار لوگ اس خبط میں مبتلا ہوگئے کہ مال و دولت میں ہم زیادہ ، خاندان میں ہماری پوزیشن زیادہ بہتر ، دنیا والے لوگ پوچھنے بلانے والے ہم کو اور یہ اعزاز محمد بن عبداللہ کو آخر کیوں ؟ اسی چاہت عزو جاہ نے ان کو مخالفت پر کمر بستہ کردیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مکہ اور طائف کے جتنے و ڈیرے تھے وہ سارے کے سارے آپ کے مخالف ہوگئے اور اپنی دنیوی عزت ہی ان کو سب سے زیادہ آڑے آئی پھر جب تحریک اسلامی ان کے رسم و رواج کے بھی خلاف تھی تو ان کو ایک بلحاظ دنیا معقول بہانہ مل گیا اور اس طرح انہوں نے مخالفت کرنے کا پکا ارادہ کرلیا پھر جب کوئی شخص کسی دوسرے شخص کا بالارادہ مخالف ہوجائے تو اس کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا کیونکہ اس نے تو ہر حال میں مخالفت کرنا ہے حق و ناحق تو اس کے نزدیک کوئی چیز ہی نہیں رہتی پھر خصوصا جہالت کی اس مخالفت کا کوئی علاج نہیں ہے اور اس وقت اس بات کی تفہیم اس لیے کوئی مشکل امر نہیں کہ فی زماننا ہماری مذہبی مخالفتیں اور سیاسی مخالفتیں اسی جہالت کے باعث قائم ہیں جن میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے حالانکہ ہم سب مسلمان کہلاتے ہیں۔ ان کی مخالفت کفر اور اسلام کی مخالفت تھی لیکن ہماری مخالفت اسلام اور اسلام ہی کی چل رہی ہے ۔ اللہ ہمیں ان مخالفتوں کے بوجھ سے نکال دے اور سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔
Top