Urwatul-Wusqaa - Saad : 21
وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ
وَهَلْ : اور کیا اَتٰىكَ : آپ کے پاس آئی (پہنچی) نَبَؤُا الْخَصْمِ ۘ : خبر جھگڑنے والے اِذْ : جب تَسَوَّرُوا : وہ دیوار پھاند کر آئے الْمِحْرَابَ : محراب (مسجد)
اور کیا آپ ﷺ کو اہل مقدمہ کی خبر پہنچی جب وہ دیوار پھاند کر (اندر) پہنچ گئے
اہل مقدمہ میں سے ایک مقدمہ ایسا بھی تھا جو فریقین دیوار پھاند کر اندر آگئے 12۔ زیر نظر آیت کی تفسیر میں بہت لمبی داستان بیان کی گئی ہے اور اس داستان کی تمہید میں بھی بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ یہ دیوار پھاند کر اندر داخل ہونے والے کون تھے یہ جو قضیہ انہوں نے پیش کیا اس کی حقیقت کیا تھی ؟ دائودعلیہ السلام کا اس قضیہ کے فیصلہ دینے کے بعد استغفار کرنا کیسا اور کیوں ہے ؟ ان سوالوں کا جواب آپ کو آیت 25 کی تفسیر میں میں ملے گا۔ زیر نظر آیت کی تمہید میں بیان کیا گیا ہے کہ آپ کا معمول زندگی تھا کہ ایک روز حکومت کے کاروبار کو سرانجام دیتے ، مقدمات کا فیصلہ کرتے ، ایک روز اپنے گھر کے فرائض انجام دیتے اور تیسرا دن انہوں نے صرف عبادت کے لیے مخصوص کیا ہوا تھا اور اس روز اپنی عبادت گاہ پر پاسبان مقرر کردیتے تاکہ لوگ ان کی عبادت میں مخل نہ ہوں۔ اس روز کسی کی مجال نہ ہوتی کہ اندر آنے کی جرات کرسکے ایک روز آپ اپنی عبادت میں مشغول تھے ایسے وقت میں آپ نے دیکھا کہ دو آدمی بغیر اجازت طلب کیے اندر گھس آئے ہیں اور آپ کو یہ دیکھ کر بہت حیرت ہوئی اور آپ گھبرا گئے۔ آنے والے حضرات بھی آپ کی گھبراہٹ کو محسوس کر گئے اور فورا بولے کہ آپ گھبرائیں نہیں ہم دو فریق ہیں جو اپنے مقدمہ کا فیصلہ کرانے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں۔ بہر حال زیر نظر آی میں یہ تفصیل تو بیان نہیں کی گئی کہ داؤد (علیہ السلام) نے اس طرح دنوں کی کوئی تقسیم کی ہوئی تھی یا ایک ہی دن میں تین قسم کے اوقات مقرر کیے گئے تھے تا ہم یہ بات ضرور ہے کہ دو آدمی یا دو گروہ دیوار پھاند کر اندر داخل ہوگئے۔
Top