Urwatul-Wusqaa - Saad : 26
یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ۠   ۧ
يٰدَاوٗدُ : اے داؤد اِنَّا : بیشک ہم نے جَعَلْنٰكَ : ہم نے تجھے بنایا خَلِيْفَةً : نائب فِي الْاَرْضِ : زمین میں فَاحْكُمْ : سو تو فیصلہ کر بَيْنَ النَّاسِ : لوگوں کے درمیان بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ وَلَا تَتَّبِعِ : اور نہ پیروی کر الْهَوٰى : خواہش فَيُضِلَّكَ : کہ وہ تجھے بھٹکا دے عَنْ : سے سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ : اللہ کا راستہ اِنَّ : بیشک الَّذِيْنَ : جو لوگ يَضِلُّوْنَ : بھٹکتے ہیں عَنْ : سے سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللہ کا راستہ لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابٌ : عذاب شَدِيْدٌۢ : شدید بِمَا : اس پر کہ نَسُوْا : انہوں نے بھلا دیا يَوْمَ الْحِسَابِ : روز حساب
اے داؤد ! ہم نے تم کو زمین پر (اپنا) خلیفہ بنایا ہے پس تم لوگوں میں انصاف کے ساتھ حکومت کیا کرو اور اپنی خواہش نفس کی پیروی نہ کرو کہ کہیں وہ تم کو اللہ کی راہ سے بہکا نہ دیں بلاشبہ جو لوگ (خواہشات کی پیروی کر کے) اللہ کی راہ سے بہک جاتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اس لیے کہ انہوں نے روز حساب کو بھلا دیا ہے
دائود (علیہ السلام) کی حوصلہ افزائی اور آپ کے نام ہدایات خاص 26۔ زیر نظر آیت میں انسانی کے لیے بیشمار نصائح پنہاں ہیں غور کرو کہ دائود (علیہ السلام) نے دو جاہلوں کے درمیان نہایت فہم و فراست کیس تھ فیصلہ کیا اور ان کی جہالت پر ان کو کچھ نہیں کہا تاکہ معاملہ آگے نہ بڑھنے پائے اس فیصلہ کو اللہ تعالیٰ نے بہت پسند کیا اور اس پسندیدگی کے فیصلہ کا اعلان اس طرح فرمایا جا رہا ہے کہ اے دائود ! ہم نے آپ کو اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کریں اور اپنی ذاتی خواہشات کو اس میں ذرا بھی ملوث نہ ہونے دیں کیونکہ ہوائے نفس ہی وہ بلا ہے جو انسان کو راہ راست سے ہٹاکر بےراہ کردیتی ہے۔ اس طرح دائود (علیہ السلام) کو گویا بتایا جا رہا ہے کہ اے دائود (علیہ السلام) ! آپ کسی شاہی خاندان کے فرد نہیں تھے کہ آپ کو حکومت اور تخت ورثہ میں ملا ہو۔ تم کو معلوم ہے کہ تم ایک چرواہے تھے ہم نے اپنے خاص فضل و کرم سے آپکے لیے یہ راہ ہموار کی اور آپ کو طالوت لشکر میں شامل کر کے آپ کی نبوت کو چار چاند لگا دیئے اور اپنی خاص مہربانی سے تم کو بنی اسرائیل کے تاج و تخت کا مالک بنا دیا اور پھر آپ کی سلطنت کو اس قدر وسعت دی کہ بنی اسرائیل کو ختم کر کے رکھ دینے والوں کو تیرے ہاتھ سے ختم کرا دیا اور آپ کو مسند خلافت عطا کردی اور پھر اس احسان کا شکر ادا کرنے کا طریقہ بھی آپ کو بتا دیا اور تم ہمارے اسی طریقہ کے مطابق اپنی حکومت کو عدل و انصاف کے ساتھ چلائو اور اپنی پسند اور ناپسند کو اپنے فیصلوں پر اثر انداز نہ ہونے دو ۔ اگر تم نے خواہش نفس پر انصاف کو قربان کیا تو یاد رکھو کہ سیدھی راہ سے بہک جائو گے اور ہماری توفیق دامن تمہارے ہاتھ سے چھوٹ جائے گی اور جو شخص راہ حق سے بہک جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے سخت عذاب میں مبتلا کردیا جاتا ہے۔ غور کرو کہ قرآن کریم نے اس جگہ خلیفہ کی ذمہ داریوں کو بڑے موثر پیرائے میں بیان کردیا ہے کہ اس کا فرض اولین یہ ہے کہ وہ عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے ، فیصلہ کرتے وقت کوئی خارجی چیز ، سفارش ، رشوت ، کوئی طمع اور کوئی خوف یہاں تک کہ ذاتی مفاد کو بھی اس پر اثر انداز نہ ہونے دے اور بلاشبہ جو فیصلہ کرنے والا ایسا نہیں کرتا تو یقینا وہ روز جزاء کو فراموش کردیتا ہے اور قیامت کے روز پر اس کا ایمان نہ رہا خواہ وہ زبان سے ہزار وعدے کرے کہ ہو وقوع قیامت پر ایمان رکھتا ہے۔ اگر وہ فیصلہ کرتے وقت میزان عدل کو برابر نہیں رکھ سکتا تو یہ دعویٰ کرنے میں بہر حال وہ جھوٹا ہے اور جو شخص قیامت پر یقین نہیں رکھتا یا اسے فراموش کردیتا ہے اس کے لیے رسوائی ہے اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی عذاب سخت ہے۔ آج آپ اپنے ملکی فیصلوں پر بھی نظر کریں اور عدلیہ کے فیصلوں کو بھی دیکھیں ، اپنی معاشرتی زندگی میں دیہات ، قصبات اور شہروں میں بڑے لوگوں کے فیصلوں پر بھی نظر ڈالیں ، اپنے قاضیوں ، مفتیوں اور پیروں مرشدوں کے فتو وں اور فیصلوں پر بھی نگاہ دوڑائیں آپ کو کہیں بھی عدل و انصاف دکھائی نہیں دے گا اور اکثر جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا معاملہ نظر آئے گا۔ چھوٹی گواہیاں اور شہادتیں ہر جگہ نظر آئیں گی ، ملک کی کوئی عدالت اس کی زد سے بچی ہوئی نہیں نظر آئے گی اور حکومتی سطح کو کوئی ادارہ ایسا نہیں جس میں جوڑ توڑ ہوتا نظر نہیں آئے گا اور فیصلہ کرنے والے کے لیے چمک کا لفظ خود حکمران استعمال کرتے نظر آ رہے ہیں اور خصوصا فی زماننا جو احکام اسلام کے نام سے نافذ ہوئے ہیں اگرچہ وہ خود اندھے ، کانے لنگڑے اور لولے ہیں اور جس طرح ان کا مذاق ارایا جا رہا ہے اس کی مثال گزشتہ کسی زمانے میں نہیں ملتی۔ تھانوں میں تعزیرات اسلام کے تحت پرچہ درج کرانے کی قیمت انگریزی قانون کے مقابلہ میں دوگنی تگنی ہے اور غلط گواہیوں اور شہادتوں کا یہ عالم ہے کہ کسی تھا نے میں جو ایف آئی آر کاٹی جاتی ہے اس میں ایک سو میں سے ایک بھی سچ نہیں ہوتی۔ پھر قانون نافذ کرنے والے قانون کے مطابق فیصلہ کرنے والے خود اس حقیقت سے سو فی صد آگاہ ہیں کہ یہاں سچ موجود نہیں ہے۔ اس صورت حال نے پورے ملک کو ایک کرب ناک عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یہ قرآن کریم جس میں یہ ہدایات دی گئی ہیں اس قرآن کریم کی تلاوت کر کے اس کو سامنے رکھ کر اس کو دکھا دکھا کر جھوٹ بولے جاتے ہیں کہ خدایا تیری پناہ۔
Top