Urwatul-Wusqaa - Saad : 3
كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ
كَمْ : کتنی ہی اَهْلَكْنَا : ہم نے ہلاک کردیں مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے قبل مِّنْ قَرْنٍ : امتیں فَنَادَوْا : تو وہ فریاد کرنے لگے وَّلَاتَ : اور نہ تھا حِيْنَ : وقت مَنَاصٍ : چھٹکارا
ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی امتوں کو ہلاک کردیا پھر انہوں نے فریاد کی لیکن (اب) رہائی کا وقت کہاں ؟
کتنی ہی جماعتیں تھیں جن کو ہم ہلاک کرچکے حالانکہ وہ بےوقت فریاد کرتے رہے : 3 : آپ کے ذریعہ سے کفار مکہ کو سرزنش کی جارہی ہے کہ تم سے پہلے بھی کتنے لوگ تھے جو مے دو سالہ سے مست تھے اور ہمارے بندوں سے ناحق عداوت رکھتے تھے لیکن ان پر جب ہمارا عذاب آیا تو ان کے سارے نشے دھرے کے دھرے رہ گئے اور ان کو ساری دشمنیاں بھول گئیں اور عذاب کو دیکھ کر وہ چیخے اور چلائے اور فریادیں کیں یہاں تک کہ فرعون جیسا سرکش کہ جب پانی کے چند گھونٹ اندر گئے تو بنی اسرائیل کے رب پر ایمان لانے کا دعویٰ کرنے لگا لیکن ہماری سنت نہ تو آج تک بدلی اور نہ ہی بدلنے کا کوئی امکان ہے انہوں نے بھی مہلت اسی وقت طلب کی جب مہلت کا وقت گزر گیا اور اگر قریش مکہ نے بیو وہی کیا جو پہلے کرچکے تو ظاہر ہے کہ ان کا حال بھی یقینا وہی ہوگا جو گزشتہ قوموں کا ہوا الا یہ کہ گزشتہ قوموں اور بستیوں کی طرف انبیاء ورسل آئے تھے اس لیے اس علاقہ ، قوم اور بستی کو عذاب میں مبتلا کیا گیا اور اب کے امت پوری انسانیت قرار دے دی گئی ہے اس لیے جہاں جہاں زیادہ بداعتدالیاں ہوں گی وہاں وہاں چھوٹے چھوٹے عذاب بھیجے جائیں گے تاکہ وہ لوگ باز آجائیں اور پھر انجام کار ایک روز قیامت کبریٰ قائم ہوجائے گی اور ازیں بعد سارے کے سارے لوگ اپنے اپنے کیے کا جواب پیش کریں گے پھر وہ بھی ہیں جو پاس ہو کر باغات نعیم میں اور اللہ کی رضامندیوں میں ہوں گے اور وہ بھی ہوں گے جن کو جہنم رسید کردیا جائے گا اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کا عذاب چکھیں گے ۔ بہر حال توبہ گناہوں کو کھا جاتی ہے بشرطیکہ وہ وقت پر میسر آجائے وقت گزرنے کے بعد توبہ کرنے کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا بلکہ یہ وہی صورت ہوتی ہے جس کو لوگ پیاز کھانے اور جوتے بھی ساتھ ہی کھانے سے تعبیر کرتے ہیں اور قبل ازیں بھی بہت ایسے تھے جن کے ساتھ ایسا ہوا اور اب بھی ہیں اور ہوتے ہی رہیں گے۔ زیر نظر آیت کی ترکیب میں بھی بہت کچھ کلام کیا گیا ہے لیکن یہ خبط عام قارئین کرام کے بس کا نہیں ہے۔
Top