Urwatul-Wusqaa - Saad : 31
اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ
اِذْ : جب عُرِضَ : پیش کیے گئے عَلَيْهِ : اس پر۔ سامنے بِالْعَشِيِّ : شام کے وقت الصّٰفِنٰتُ : اصلی گھوڑے الْجِيَادُ : عمدہ
جب اس کے سامنے شام کے وقت نہایت (تیز رو) عمدہ گھوڑے پیش کیے گئے
جب سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے شام کے وقت نہایت عمدہ گھوڑے پیش کیے گئے 31۔ سلیمان (علیہ السلام) جب نبی و رسول بھی بنا دیئے گئے اور وقت کے بادشاہ بھی تو آپ نے جنگی گھوڑوں کو پالنے اور ان کو جنگ کے لیے تیار کرنے اور جنگی کرتب سکھانے اور سرپٹ دوڑنے کی کوشش کرانے کا ذکر بھی کیا گیا ہے ایک روز آپ نے پچھلے پہر ان دوڑانے والے جنگی گھوڑوں کی دوڑ دیکھنے کے لیے گھوڑ دوڑ میں طلب کیا زیر نظر آیت میں اسی طلب کا ذکر کیا گیا ہے۔ (صافنات) صفن سے ہے جس کے معنی لغت میں تین ٹانگوں پر برابر بوجھ ڈال کر تیسرے پیر کی کھری موڑ کر زمین کے ساتھ لگانے کے کیے گئے ہیں یعنی نہایت آرام و سکون کے ساتھ کھڑے ہونے والے اور بہت ہی تیز دوڑنے والے گھوڑے۔ (الجیاد) جواد کی جمع ہے اور خود سخاوت یعنی مال اور علم کے خرچ کرنے کو کہتے ہیں یعنی جو مال اس نے نہایت محنت سے کمایا اور سنبھال کر رکھا اور جب اللہ کے راستے میں ضرورت پیش آئی تو اس کو خرچ کردیا ، ان گھوڑوں کو بھی اسی وجہ سے ( الجیاد) کہا گیا ہے کہ یہ اپنی جمع شدہ طاقت ضرورت کے وقت خرچ کرتے ہیں جیسا مالک ان سے خرچ کرنے کو کہتا ہے۔ اسی مادہ سے لفظ (جید) بھی ہے جو روی کی نقیض ہے۔ یعنی آپ نے ایک روز دن کے پچھلے حصے میں اصیل گھوڑوں کی دوڑ دیکھنے کے لیے ان کو گھوڑ دوڑ میں لانے کا حکم دیا اور گھوڑے آپ کے سامنے پیش کیے گئے۔
Top