Urwatul-Wusqaa - Saad : 39
هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ
ھٰذَا : یہ عَطَآؤُنَا : ہمارا عطیہ فَامْنُنْ : اب تو احسان کر اَوْ : یا اَمْسِكْ : روک رکھ بِغَيْرِ حِسَابٍ : حساب کے بغیر
یہ ہماری عطا ہے تو جسے چاہے دے دے اور جس سے چاہے روک لے تجھ پر کوئی محاسبہ نہیں ہو گا
ہماری عطا ہے کہ تو جس کو چاہے عطا کرے اور جس سے چاہے روک دے 39۔ سلیمان (علیہ السلام) کے نبی و رسول بھی تھے صرف بادشاہی نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جو احسانات آپ پر کیے وہ دنیا دار بادشاہوں کی طرح ان انعامات و احسانات کو حاصل کرنے میں اپنا کمال اور بہادری نہیں سمجھتے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہی سمجھتے تھے اور جس کو وہ عطا کرتے اس کو عطا کرتے جس کو عطا کرنا چاہتے اور جس سے روکتے اپنی مرضی سے نہیں بلکہ رضائے الٰہی حاصل کرنے کے لیے روکتے تھے بلاشبہ آپ حاکم وقت اور اقتدار اعلی کے مالک بنائے گئے لیکن آپ کا حکم اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے تابع تھا اس لیے اللہ تاعلیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے سلیمان ! ہم نے یہ سب کچھ آپ کو عطا کیا ہے اور آپ کو طاقت و قوت دی ہے کہ ان قوی ہیکل دیو صفت لوگوں کو پکڑ کر ان کو کام میں لگائو اور جو ان میں آپ کے حکم کی نافرمانی کرے اس کو بیڑیوں میں جکڑ کر قید خانہ میں ڈال دے اب تیری مرضی ہے جس کو چاہے تو چھوڑ دے اور جس کو چاہے قید میں رکھے جس کو چاہے دے اور جس سے چاہے روک لے کیونکہ ہم نے آزما لیا ، دیکھ لیا اور ہم جانتے ہیں کہ تیرا کوئی کام بھی ہماری مرضی اور رضا کے خلاف نہیں ہے۔ ہماری طرف سے بھی آپ کو اجازت عام ہے آپ پر کوئی مواخذہ نہیں ہوگا گویا وہ دعا ہے جو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مانگی تھی وہ آپ کی زندگی تک تو یقینا منظور کرلی گئی کہ جس طرح کی پہلے سازشیں ہوتی رہیں ہیں اب آئندہ آپ کی زندگی میں کوئی ایسی سازش نہیں کرسکے گا آپ اس بات سے بالکل مطمئن ہو کر اپنا کیے چلے جائیں جب تک اللہ نے آپ کو مہلت دے رکھی ہے اور جتنی عمر آپ کو عطا کی گئی ہے۔
Top