Urwatul-Wusqaa - Saad : 4
وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ
وَعَجِبُوْٓا : اور انہوں نے تعجب کیا اَنْ : کہ جَآءَهُمْ : ان کے پاس آیا مُّنْذِرٌ : ایک ڈرانے والا مِّنْهُمْ ۡ : ان میں سے وَقَالَ : اور کہا الْكٰفِرُوْنَ : (جمع) کافر ھٰذَا سٰحِرٌ : یہ جادوگر كَذَّابٌ : جھوٹا
اور (یہ لوگ) اس بات پر حیرت کرنے لگے کہ ان کے پاس ان ہی میں سے ایک ڈرانے والا آیا اور کفار کہنے لگے کہ یہ شخص جادوگر ہے
ان کو بہت حیرت ہوئی کہ ان میں سے ایک ڈرانے والا آگیا ، کافروں نے جادو گر قرار دیا 4۔ جو تعجب قریش مکہ کو ہوا وہ تقریبا دنیا کی ساری قوموں کو ہوا یہی وجہ ہے کہ بعض نے اس وقت جب انبیاء و رسل آئے ان کو انسان دیکھ کر بنی ورسول ماننے سے انکار کردیا اور برملا کہا کہ بھلا انسان بھی کبھی نبی ورسول ہو سکتا ہے اور آج کل کے لوگوں کو چونکہ رسول ونبی سامنے نظر نہیں آتے اس لیے وہ ان کو نبی ورسول تو مانتے ہیں لیکن ان کی بشریت سے وہ بھی انکاری ہیں۔ قریش مکہ کو بھی اسی بات نے تعجب میں ڈالا کہ عجیب بات ہے کہ ہم ہی میں سے ایک آدمی کو نبی ورسول بنا دیا گیا ہے حالانکہ یہ بات صحیح نہیں بلکہ حقیقت فقط یہ ہے کہ نہ تو وہ نبی ہے اور نہ رسول صرف اور صرف ایک جادوگر ہے جو جھوٹ گھڑتا ہے اور بیان کرتا ہے۔ غور کرو کہ قریش مکہ کے کفار بھی جادو کو جھوٹ مانتے اور تصور کرتے ہیں لیکن آج ہمارے بڑے بڑے علامہ حضرات اور مفتیانِ شرع بھی جادو کو ایک حقیقت تصور کرتے ہیں گویا ان ساری ڈگریوں کے باوجود پھر جاہل کے جاہل ہی ہیں یا یہ کہ اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے جاہلوں کو جاہل رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ان کا الو سیدھا رہے اور جادو کرتے اور کراتے رہیں پھر اس پر مزید تعجب کی بات یہ ہے کہ سارے مکاتب فکر کیا اہل توحید اور کیا شرک پسند سب کے سب اس بیماری میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دست بدعا ہوں کہ اللہ ان فراڈیوں کے فراڈ سے قوم کو بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
Top