Urwatul-Wusqaa - Saad : 42
اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ
اُرْكُضْ : (زمین پر) مار بِرِجْلِكَ ۚ : اپنا پاؤں ھٰذَا : یہ مُغْتَسَلٌۢ : غسل کے لیے بَارِدٌ : ٹھنڈا وَّشَرَابٌ : اور پینے کے لیے
(ہم نے اس سے کہا) اپنے پاؤں سے ٹھوکر لگا (دیکھ) یہ ٹھنڈا پانی پینے اور نہانے کا ہے
ایڑی اپنی سواری کو لگائو اور ایسے مقام پر پہنچ جائو جہاں رہائش کی سہولت موجود ہے 42۔ الرکض ضرب الدابۃ بالرجل ( جامع البیان) سواری کے جانور کو ایڑی مار کر دوڑاتا ہے اور یہی ہم نے اس جگہ مراد لیا ہے۔ جب ایوب (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا کہ اے میرے رب ! مجھ کو شیطان یعنی مخالفت گروہ کے لیڈر و سرغنہ کی طرف سے بہت ہی تکلیف پہنچی ہے تو اللہ تعالیٰ نے ایوب (علیہ السلام) ہجرت کی اجازت دے کر فرمایا کہ فلاں جگہ کی طرف آپ اپنے سواری کے جانور کو ایڑی لگا کر نکل جائیے وہاں آپ کے رہنے سہنے کے سارے سامان موجود ہیں ، پینے کے ٹھنڈے اور میٹھے چشمے اور جانوروں کو چرانے کی کھلی چراگاہیں ہیں اور ہر طرح کا سامان زندگی اس جگہ بافراغت موجود ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی نبی ورسول بھی جس جگہ سے ہجرت کر جائے دوبارہ اس جگہ آکر آباد نہیں ہوتا تھا اس لیے آپ کے ہجرت کرنے کے بعد آپ کے لوگ بھی وہاں سے ہجرت کر کے آپ کے پاس پہنچ گئے اور وہاں اس علاقہ کے لوگوں نے بھی آپ کی نبوت کو تسلیم کیا اس طرح اپنے وقت پر آپ کا وہ علاقہ جہاں سے ہجرت کر کے آپ آئے تھے وہ بھی آپ کو واپس مل گیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کی بہت مدد فرمائی اور اس میں پیش گوئی کے طور پر نبی اعظم وآخر محمد ﷺ ہم نے اس کو اہل بھی دیئے اور اس سے زیادہ دوسرے لوگ بھی
Top