Urwatul-Wusqaa - Saad : 43
وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ
وَوَهَبْنَا : اور ہم نے عطا کیا لَهٗٓ : اس کو اَهْلَهٗ : اس کے اہل خانہ وَمِثْلَهُمْ : اور ان جیسے مَّعَهُمْ : ان کے ساتھ رَحْمَةً : ایک رحمت مِّنَّا : ہماری (طرف) سے وَذِكْرٰى : اور نصیحت لِاُولِي الْاَلْبَابِ : عقل والوں کے لیے
ہم نے اس کو اس کے اہل دیئے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی ، اپنی خاص رحمت سے اور (اس میں) اہل عقل کے لیے درس عبرت ہے
43۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ آپ جب اس علاقہ سے ہجرت کر گئے اور جہاں ہجرت کر کے گئے وہاں کے لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کیا ، آپ کی نبوت تسلیم کی اور آپ کی اطاعت و فرمانبرداری کا ذمہ لیا اور اس دوران آپ کے وہ لوگ جن کو مقام ہجرت ہی پر چھوڑ آئے تھے سب ہجرت کر کے آپ کے پاس پہنچ گئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ وہ سلوک کیا اور آپ کی دعا کو اس طرح قبولیت بخشی کہ گزشتہ تکلیف اور دکھ آپ کو یاد بھی نہ رہا اور آپ پر جو اللہ تعالیٰ نے رحمت و مہربانی فرمائی اس میں اہل عقل کے لیے بھی بہت سی نصیحتیں موجود ہیں بشرطیکہ ان نصائح کو کوئی حاسل کرنے والا بھی ہو لیکن افسوس کہ ہمارے مفسرین نے آپ کے حالات کو اسرائیلیات کے حوالے کردیا اور اسرائیلی خرافات آپ کے ذکر میں بھر دی گئیں۔ ہم نے اس کی تفصیل عروۃ الوثقی جلد ششم ص 212 میں ایوب (علیہ السلام) کی سر گزشت میں کردی ہے اس لیے بار بار بیان کرنے کی بجائے تفصیل کے لیے محولہ مقام دیکھ لیا جائے تو بات واضح ہوجائے گی۔
Top