Urwatul-Wusqaa - Saad : 45
وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ
وَاذْكُرْ : اور یاد کریں عِبٰدَنَآ : ہمارا بندوں اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم وَاِسْحٰقَ : اور اسحاق وَيَعْقُوْبَ : اور یعقوب اُولِي الْاَيْدِيْ : ہاتھوں والے وَالْاَبْصَارِ : اور آنکھوں والے
اور وہ بہترین بندہ تھا ، بلاشبہ وہ (اللہ کی طرف) رجوع رہنے والا تھا
ہمارے بندوں میں ابراہیم ، اسحٰق اور یعقوب کا ذکر کیجیے جو صاحب عمل تھے 45۔ زیر نظر آیت میں تین رسولوں کا ذکر کیا گیا ہے یہ تینوں باپ ، بیٹا اور پوتا ہیں اور تینوں کے بارے میں ایک ہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں کہ وہ ہاتھوں والے اور صاحب بصیرت تھے۔ ہاتھ سے مراد ہماری زبان میں قوت وقدرت لی جاتی ہے اور ہاتھوں والا ہونے کا مطلب سب جانتے ہیں کہ صاحب قوت وقدرت ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو نبی و رسول بھی بنایا اور صاحب طاقت و قوت اور قدرت بھی کہ وہ اپنے دور میں صاحب جاہ و جلال تھے اور صاحب اولاد بھی۔ یہ تو ان کی دنیوی طاقت وقدرت تھی اور دینی لحاظ سے نبی و رسول ہونا خود اس بات کی دلل ہے کہ گناہوں سے بچنے کی طاقت و قوت بھی رکھتے تھے اور دنیا میں اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے بھی جس طاقت و قوت کا انہوں نے مظاہرہ کیا وہ بھی بلاشبہ انہیں کا حصہ تھا۔ یوں تو سارے بنی اور رسول معصوم ہوتے ہیں اور سب کے سب صاحب بصیرت اور عمل کرنے والے لیکن ان کی صفات کو واضح کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ان صفات میں دوسرے بہت سے نبیوں اور رسولوں سے ممتاز تھے کیونکہ صفات میں بعض کو بعض پر فوقیت اور افضلیت حاصل ہونا خود قرآن ِ کریم کی تعلیم کے مطابق ہے۔ ذی الایدی کہہ کر ہمارے نکمے مذہبی پیشوائوں کو کام کرنے کا اشارہ دیا لیکن انہوں نے اس کے معنی ہی بدل دیئے تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔
Top