Urwatul-Wusqaa - Saad : 5
اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ
اَجَعَلَ : کیا اس نے بنادیا الْاٰلِهَةَ : (جمع) معبود اِلٰهًا : معبود وَّاحِدًا ښ : ایک اِنَّ ھٰذَا : بیشک یہ لَشَيْءٌ : ایک شے (بات) عُجَابٌ : بڑی عجیب
کیا اس نے تمام معبودوں کی جگہ ایک معبود بنا دیا یقینا یہ بڑی تعجب کی بات ہے
سارے معبودوں کی بجائے صرف ایک معبود بھی تعجب کی بات ہے 5۔ مکہ والوں نے تقریبا 360 بت تو صرف بیت اللہ کے اندر لا رکھے تھے جن میں سے بعض وہ بھی تھے جو سارے گروہوں کے ساجھی تھے اور بعض ایسے بھی تھے جو قبائل اور گروہوں سے تعلق رکھتے تھے اور بعض محض اشخاص کے پھر ان کی تاریخ بڑی لمبی ہے خصوصا پانچ تن کا ذکر نوح (علیہ السلام) سے چلا آرہا تھا اور یہ قریش مکہ کے ہاں بھی اسی طرح مبارک سمجھے جاتے تھے جس طرح نوح (علیہ السلام) کے زمانہ یعنی ود ، سواع ، یغوث ، یعقوق اور نسر علاوہ ازیں لات ، مناۃ اور عزیٰ بھی بڑے معبودانِ خاص میں سے تھے۔ پہلے پانچ کی تفصیل تو سورة نوح ہی میں آئے گی اور یہ آخری تین کی وضاحت اس طرح ہے کہ لات کا استھان طائف میں تھا اور بنی ثقیف اس کے اس حد تک معتقد تھے کہ جب ابرہا ہاتھیوں کی فوج لے کر بیت اللہ کو توڑنے کے لیے مکہ پر چڑھائی کرنے جا رہا تھا اس وقت ان لوگوں نے محض اپنے اسی معبود کے آستانے کو بچانے کی خاطر اس ظالم کو مکہ کا راستہ بتانے کے لیے بدرقے فراہم کیے تاکہ وہ لات کو ہاتھ نہ لگائے حالانکہ تمام اہل عرب کی طرح ثقیف کے لوگ بھی یہ جانتے تھے کہ کعبہ اللہ کا گھر ہے۔ لات کے معنوں میں بلاشبہ اہل علم کے درمیان اختلاف ہے بعض کا خیال ہے کہ اللہ کی تانیث ہے گو یجا اصل لفظ اللہ تھا جس اللات کردیا گیا اور بعض کے نزدیک یہ لوی یلوی سے مشتق ہے جس کے معنی مڑنے اور کسی کی طرف جھکنے کے ہیں۔ چونکہ مشرکین عبادت کے لیے اس کی طرف رجوع کرتے اور اس کے آگے جھکتے اور اس کا طواف کرتے تھے اس لیے اس کو اللات کہا جانے لگا۔ ابن عباس ؓ اس کا الات بتشدید تاء پڑھتے ہیں اور اسے لت یلت سے مشتق قرار دیتے ہیں جس کے معنی متھنے اور لتھیڑنے کے ہیں ان کا اور مجاہد کا بیان ہے کہ یہ دراصل ایک شخص تھا جو طائف کے قریب ایک چٹان پر رہتا تھا اور حج کے لیے جانے والوں کو ستو پلاتا تھا اور کھانا کھلاتا تھا جب وہ مر گیا تو لوگوں نے اسی چٹان پر استھان بنا لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔ لیکن یہ عین ممکن ہے کہ جس کو ایک شخص کہا گیا اور اصل میں وہ امراۃ یعنی عورت ہو کیونکہ قرآن کریم میں اس کو تین دیوی کے طور پر بیان کیا گیا ہے نہ کہ دیوتائوں کے طور پر تا ہم یہ تو تسلیم ہے کہ بت آخر انسانوں ، حیوانوں اور جانوروں ہی کہ شکل کے بنائے گئے تھے اور اب بھی جو لوگ بناتے ہیں انہیں چیزوں کے بناتے ہیں ان میں زیادہ تر انسانوں ہی کے بت بنائے جاتے ہیں اگرچہ یہ سب کچھ تخیل ہی تخیل ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ عزیٰ عزت سے ہے اور اس کے معنی عزت والی کے ہیں۔ یہ قریش کی خاص دیوی تھی اور اس کا استھان مکہ اور طائف کے درمیان وادی نخلہ میں حراض کے مقام پر واقع تھا۔ اور اس وقت بنی ہاشم کے حلیف قبیلہ بنی شیبان کے لوگ اس کے مجاور تھے اور دوسرے قبائل کے لوگ اس کی زیارت کرتے اور اس پر نذریں چڑھاتے اور اس کے لیے قربانیاں کرتے تھے کعبہ کی طرح اس کی طرف بھی ھدی کے جانور لے جائے جاتے اور تمام بتوں سے بڑھ کر اس کی عزت کی جاتی تھی۔ ابن ہشام کی روایت ہے کہ ابو احیمہ جب مرنے لگا تو ابو لہب اس کی عیادت کے لیے گیا ، دیکھا کہ وہ رو رہا ہے۔ ابو لہب نے کہا کیوں روتے ہو ابو احیمہ ؟ کیا تم کو موت سے ڈر آرہا ہے ؟ حالانکہ موت تو سب کو آئے گی۔ اس نے کہا کہ خدا کی قسم میں موت سے ڈر کر نہیں روتا بلکہ مجھے یہ غم کھائے جا رہا ہے کہ میرے بعد عزی کی پوجا کیسے ہوگی ؟ ابو لہب بولا اس کی پوجا نہ تمہاری زندگی میں تمہاری خاطر ہوتی تھی اور نہ تمہارے بعد اسے چھوڑا جائے گا۔ ابو احیمہ نے کہا اب مجھے اطمینان ہوگیا کہ میرے بعد میری جگہ کوئی سنبھالنے والا ہے۔ مناۃ کا استھان مکہ اور مدینہ کے درمیان بحر احمر کے کنارے قدید کے مقام پر تھا اور خاص طور پر خزاعہ اور اوی اور خزرج کے لوگ اس کے بہت معتقد تھے۔ اس کا حج اور طواف کیا جاتا اور اس پر نذر کی قربانیاں چڑھائی جاتی تھیں۔ زمانہ حج میں جب حجاج طواف بیت اللہ اور عرفات اور منی سے فارغ ہوجاتے تو وہیں سے مناۃ کی زیارت کے لیے لبیک لبیک کی صدائیں بلند کردی جاتیں اور جو لوگ اس دوسرے حج کی نیت کرلیتے وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کرتے تھے۔ اسلام نے آکر ان میں سے ایک ایک کی تردید کی لیکن بدقسمتی سے آج کوئی گائوں ، قصبہ ، شہر ایسا نہیں جہاں یہ کام نہ ہو رہے ہوں۔ فرق ہے تو فقط یہ ہے کہ ان مقامات پر روضے اور گنبد بنا لیے گئے ہیں گویا بتوں کی جگہ ان مٹی کے ڈھیروں نے لے لی ہے جن کو پتھر اور اور چونے سے پکا کردیا گیا اور ان کے اوپر ایک گنبد نما عمارت بنا دی گئی ان جگہوں پر ساری جاہلی رسومات ادا کی جاتی ہیں اور بڑے بڑے جاہل جیسے وزیراعظم ، وزیر اعلیٰ ، اسمبلیوں کے اسپیکر ، اور اس ملک عزیز کے صدر اور ان کے اعوان و انصار سب ان رسومات میں شریک ہوتے ہیں اور اس ملک عزیز کے کئی ایک قبروں کو عطر گلاب سے غسل دیا جاتا ہے اور ان پر غلاف چڑھائے جاتے ہیں اور اب تو بعض روضوں اور خانقاہوں کا باقاعدہ حج اور طواف بھی ادا کیا جاتا ہے۔ ملک عرب کی اقوام کے ان معبودوں کی تعداد دگئی گئی تھی لیکن اس ملک پاکستان میں ان گنت معبود بنائے جا چکے ہیں اگرچہ لات ، مناۃ ، عزیٰ ، ود ، سواع ، یغوث ، یعوق اور نسر کے مقابلہ میں اتنے ہیں یا اس سے زیادہ چند ایک اور ہوں گے۔ اسی طرح مشرکیں مکہ کو تعجب تھا کہ ” کیا اس نے سارے معبودوں کی جگہ بس ایک ہی معبود بنا ڈالا ؟ یہ تو بڑی تعجب کی بات ہے “ لیکن بحمد اللہ ہمارے ان سارے مشرکوں کو اس بات پر کوئی تعجب نہیں ہے کیونکہ یہ اللہ کو ایک مانتے اور لا الٰہ الا اللہ کی صدائیں بلند کرتے ہیں اور ان ساری شخصیتوں کو معبود بھی بنائے جاتے ہیں ۔ ایسا کیوں ہے ؟ اس لیے کہ ان کی مادری زبان عربی تھی وہ لوگ لا الٰہ الا اللہ کے معنی بھی سمجھتے اور قرآن کریم کی زبان کو سمجھتے تھے کہ وہ ہم کو کیا کہتا ہے اور ہمارے ہاں لا الٰہ الا اللہ محض رسما پڑھا جاتا ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور اس کے معنی و مفہوم نہیں جانتے اور وہ مخصوص لوگ جو جانتے ہیں وہ دوسروں کو بتانے کے لیے اس لیے تیار نہیں کہ ان کی دکانداری خراب ہوتی ہے اگر لوگ اس کے معنی سمجھ جائیں تو پھر ان کی کوئی وقعت نہیں رہتی اس لیے وہ اس طرف سے بالکل آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ اللہ ہمیں توفیق دے اور ہم خود اس مسئلے پر براہ راست غور کریں اور ان اجارہ داریوں سے اسی وقت ہم نجات پا سکتے ہیں۔
Top