Urwatul-Wusqaa - Saad : 56
جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمِهَادُ
جَهَنَّمَ ۚ : جہنم يَصْلَوْنَهَا ۚ : وہ اس میں داخل ہوں گے فَبِئْسَ : سو برا الْمِهَادُ : بچھونا
(وہ) دوزخ ہے جس میں وہ ڈالے جائیں گے وہ تو بہت ہی بری جگہ ہے
اس مقام کی مزید تشریح جو سرکشوں کا ٹھکانا ہو گا 56۔ ان بدبختوں کے لیے ہر وہ چیز بیان کی گئی ہے جس کا نام سن کر ہی انسان کراہت کرنے لگتا ہے۔ بلاشبہ دوزخ میں جانے والوں میں اکثریت ان ہی لوگوں کی ہوگئی جو سیاسی طور پر و ڈیرے ہیں یا مذہبی رہنما کہلاتے ہیں اور دنیا میں انہوں نے بہت عیش و عشرت میں وقت گزارا ہے اور اسی باعث وہ قیامت کے منکر ٹھہرے ہیں اور بعض جو اقراری ہیں وہ بھی اس دنیوی عیش و عشرت میں اس قدر مگن رہے ہیں کہ آخرت کا اقرار کرنے کے باوجود اس سے غفلت میں رہے یہاں تک کہ آخرت سے انکار کرنے والوں اور ان کے درمیان کوئی فرق نہ رہا لہٰذا جب نتیجہ کا وقت آیا تو نتیجہ بھی ان کا ایک ہی جیسا ظاہر ہوا ان سب کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ ان کو جہاں پہنچنا تھا وہاں پہنچ گئے اور جہاں پہنچے اس مقام کا نام جہنم ہے جو نہایت بری جگہ ہے ٹھہرنے کی اور نہایت ہی برا بچھونا ہے جو ان کے لیے تیار کیا جا چکا ہے کہ اس سے بری نہ تو کوئی جگہ ہو سکتی ہے اور نہ ممکن ہے۔
Top