Urwatul-Wusqaa - Saad : 57
هٰذَا١ۙ فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌۙ
ھٰذَا ۙ : یہ فَلْيَذُوْقُوْهُ : پس اس کو چکھو تم حَمِيْمٌ : کھولتا ہوا پانی وَّغَسَّاقٌ : اور پیپ
یہ کیا ہے ؟ کھولتا ہوا پانی اور پیپ (ہے) اس کا مزہ چکھو
یہ جگہ ہے اور کھولتا ہوا پانی پیپ ہے جو پینے کے لیے ان کو دی جائے گی 57۔ اب ان کی مہمانی کا زکر کیا جا رہا ہے کہ جو کچھ ان کو کھانے پینے کے لیے دیا جائے گا اس کو کھولتے ہوئے پانی اور زخمیوں کے پیپ سے تشبیہ دی جاسکتی ہے کیونکہ جس چیز کو (غساق) کہا گیا ہے اس کے متعلق مختلف بیان دیئے گئے ہیں جیسا کہ بدبودار پانی ( معجم القرآن و غریب القرآن ) دوزکیوں سے بہنے والا لہو اور پیپ (جلالین ، صاوی ، المفردات) روایات میں ہے کہ اگر غساق کا یک ڈول دنیا میں بہا دیا جائے تو دنیا والوں کے دماغ تعفن کی وجہ سے سڑ جائیں۔ (مجمع البحار) کہا گیا ہے کہ آنسو یا انتہائی ٹھنڈک یخ بنا دینے والی سردی۔ امام بخاری (رح) نے بھی اس کی تصریح کی ہے۔ کہا گیا ہے کہ غساق دراصل ترکی لفظ ہے جس کے اصل معنی بدبودار ٹھنڈا پانی کے ہیں (شرح ادب الکاتب للجوالیقی ، الاشتقاق والتعریب) قرآن کریم میں دوسری زبانوں کے جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ محض اس لیے کہ عربوں میں اس وقت استعمال ہوتے تھے اندریں وجہ ان کو عربی میں کہا جائے گا کیونکہ ہر زبان میں الفاظ دوسری زبانوں کے استعمال ہوئے ہیں مثالیں اس کی عام ہیں۔ جس چیز کو اس جگہ ” غساق “ کہا ہے دوسری جگہ اس کو (غسلین) کہا گیا ہے (الحاقہ : 26) اور (حمیم) کھولتے ہوئے پانی کو کہا جاتا ہے۔ اس لیے اس کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ اہل دوزخ کو خواہ وہ کون ہوں گے پینے کے لیے تو کھولتا ہوا پانی اور بدبودار پیپ ملے گی اور اس پر بس نہیں ہوگئی بلکہ اور بھی اذیب ناک عذاب دیئے جائیں گے جن کا نام سن کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور کلیجے منہ کو آتے ہیں۔
Top