Urwatul-Wusqaa - Saad : 6
وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ
وَانْطَلَقَ : اور چل پڑے الْمَلَاُ : سردار مِنْهُمْ : ان کے اَنِ : کہ امْشُوْا : چلو وَاصْبِرُوْا : اور جمے رہو عَلٰٓي اٰلِهَتِكُمْ ښ : اپنے معبودوں پر اِنَّ ھٰذَا : بیشک یہ لَشَيْءٌ : کوئی شے (بات) يُّرَادُ : ارادہ کی ہوئی (مطلب کی)
اور ان کے سردار یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے کہ چلتے رہو اور اپنے معبودوں پر قائم رہو ، یہ بات ضرور کسی غرض کے لیے کہی جا رہی ہے
قریش کے سرداروں نے کہا کہ اپنے معبودوں پر قائم رہو ، کہنے والے کی کوئی خاص غرض ہے 6 : قریش کے سرداروں نے نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کی بعثت کے پہلے دو تین سال تو شغل بنائے رکھا اور ان کے مختلف نام رکھے اور یہی کہتے رہے کہ وہ محمد تھا لیکن مذمم۔ اس کو کسی کی مار لگ گئی۔ بیچارے پر کسی نے جادو کر دا ہے لیکن جب آہستہ آہستہ آپ کی تحریک چل نکلی اور معدودے چند آدمی ایمان لے آئے تو ان کو فکر لاحق ہوئی اور کبھی جب آپس میں مل بیٹھتے تو مجلس میں آپ کا ذکر مختلف پیرایوں میں ہوتا اور اپنی اپنی رائے دے کر بات ختم ہوجاتی اور کوئی اہم قدم انہوں نے نہ اٹھایا کبھی کبھار آپ کے چچا ابو طالب سے آپ کی شکایت کرتے لیکن سرے را ہے لیکن جب حضرت عمر فاروق ؓ باسلام ہوئے تو کفار کے گھر صف ماتم بچھ گئی اور ان کی پریشانی اور اضطراب کی حد نہ رہی۔ ولید بن مغیرہ نے سردارانِ قریش کو مشورہ کے لیے طلب کیا۔ اکابر قوم اکٹھے ہوئے اور اب حالات کی سنگییم پر تبادلہ خیال کرنے لگا۔ ولید عمر میں سب سے بڑا اتھا اس نے مشورہ دیا کہ چلو ابو طالب کے پس چلیں خصوصا اب اس کے پاس جانا لازم ہوچکا ہے کہ وہ اپنے بھتیجے کو سمجھائے کہ وہ ہمارے معبدوں کو جو برملا برا بھلا کہتا ہے وہ اس سے باز آجائے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ان کی ذات گرامی اور وہ قریش کے معبودوں کو برا بھلا کہیں یہ بات کہاں تک صحیح ہو سکتی ہے ؟ بات سو فی صدی غلط ہے لیکن کیوں اور کیسے ؟ آپ نے کبھی کسی کے معبود کو برا بھلا نہیں کہا بلکہ کسی کے معبود کو برا بھلا کہنے سے اسلام نے شروع سے منع کردیا تھا بات دراصل یہ تھی کہ آپ جب یہ ارشاد فرماتے کہ یہ تمہارے معبود حاجت روا اور مشکل کشا نہیں ہیں۔ تمہاری بگڑی یہ نہیں بنا سکتے ، تمہارے نفع و نقصان کے مالک یہ نہیں ہیں ، تمہیں اولاد یہ نہیں دے سکتے ، بارش ان کے کنٹرول میں نہیں ہے ، دھوپ یہ نہیں لاسکتے ، ہوا پر ان کا کنٹرول نہیں اور ساتھ ہی یہ ارشاد فرماتے کہ تمہارے یہ سارے کام صرف اور صرف رب العالمین کے قبصہ میں ہیں تو انہیں باتوں کو وہ گالیاں سمجھتے تھے اور یہی نہیں کہ وہ سمجھتے تھے بلکہ آج بھی مسلمانوں میں سے مشرک فرقے وہابیوں کو گستاخ اولیاء کرام اور نبیوں ، رسولوں کے منکر خیال کرتے ہیں جس کی اصل وجہ یہی ہے کہ وہ ایک اللہ کو حاضر و ناضر ، عالم الغیب اور نفع و نقصان پہنچانے والا تصور کرتے ہیں پھر جب ان وہابیوں کو ان حقائق کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے جن حقائق کو ماننے سے وہ انکار کرتے ہیں مثلا جب ان کو کہا جاتا ہے کہ خالق صرف اللہ ہے کوئی دوسرا خالق نہیں ہو سکتا اس لیے عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق جو قرآن کریم میں (اخلق) کا لفظ آیا ہے تو اس کے معنی پیدا کرنا نہیں بلکہ انہیں نام کے زندوں کو جو فی الحقیقت دلوں کے مردہ ہیں زندہ کرنا مراد ہے تو وہ وہی کچھ ان لوگوں کو کہتے ہیں جو ان کو حال کے مشرکوں نے کہا تھا گویا جو روڑا ان پر پھینکا گیا تھا وہی روڑا اٹھا کر آگے پھینک دیتے ہیں اور جو زیادتی ان کے ساتھ روا رکھی گئی تھی وہی زیادتی وہ دوسروں سے جائز اور روا رکھتے ہیں۔ مختصر یہ کہ اکابر قریش ابو طالب کے پاس جمع ہوئے اور اپنی آمد کی غرض وغایت اس سے بیان کی۔ ابو طالب نے بھی اپنے بھتیجے یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کو بلوا بھیجا کہ یہ سردارانِ قریش آپ کی یہ شکایت لے کر آئے ہیں اور قبل ازیں بھی یہ مجھے کہہ چکے ہیں آپ ان کے معبودوں کو برا بھلا نہ کہیں۔ آپ نے جواب دیا اے چچا جان ! میں اپنی قوم کو اس بات کی دعوت نہ دوں جس میں ان کی خیرو فلاح ہے۔ ابو طالب نے پوچھا وہ کونسی دعوت ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ میں انہیں ایک کلمہ کی طرف دعوت دیتا ہوں کہ اگر وہ اس کو قبول کرلیں تو عرب وعجم میں ان کی فرمانروائی ہوگئی۔ ابو جہل نے جب آپ کی یہ بات سنی تو بولا کہ تیرے باپ کی قسم وہ کونسا ایسا کلمہ ہے جس کے متعلق آپ ایسی بات کہتے ہیں ، ایسا ایک کلمہ کیا ہم دس کلمے پڑھنے کے لیے تیار ہیں۔ تو نبی اعظم وآخر محمد ﷺ نے فرمایا ” اتقولون لا الٰہ الا اللہ “ کیا تم لا الٰہ الا اللہ کہتے ہو۔ یہ سنتے ہی قریش کے سردار بڑے غضبناک ہو کر وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے اجعل الا لھۃ الھا واحدا کیا اس نے بہت سے معبودوں کی جگہ صرف ایک کو معبود بنا لیا ہے۔ اتنی ساری ضرورتوں کے لیے کیا ایک ہی اللہ کافی و وافی ہے بلاشبہ یہ تو بڑی عجیب و غریب بات ہے۔ عجاب للبیغ فیا لعجب بہت ہی تعجب میں ڈالنے والی بات ہے بھلا کوئی شخص ایسی بات کو کیسے قبول کرسکتا ہے ؟ ایسی بات جو سارے عرب کے آباء و اجداد کے کہنے کے خلاف ہے یہ کہتے ہوئے وہ اٹھے اور چل دیئے اور آپس میں ایک دوسرے کو مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ اس جگہ سے نکلو اور اپنے معبودوں پر جمے رہو۔ ہو نہ ہو اس میں کوئی اس کا ذاتی مدعا ہے۔ وہ ان کی بات سن کر گویا صرف متعجب ہی نہ ہوئے بلکہ گھبرا بھی گئے ایسا لگتا ہے کہ انہیں اپنے معبودوں کے جھوٹ کا تخت ڈولتا ہوا نظر آنے لگا اور فورا خود ہی اس مجلس سے اٹھ بھاگے اور اپنے عوام کو بھی انہوں نے بڑے مشفقانہ اور تحکمانہ انداز میں ہدایت کی کہ یہاں سے نکلو ان کی چکنی چپڑی باتیں مت سنو اور اپنے عقیدہ پر سختی سے قائم رہو۔ یہ دعوت خواہ مخواہ کی دعوت ہے ، یہ ہاتھی کے دانت ہیں کھانے کے اور دکھانے کے اور اوپر سے کچھ دعوت دی جا رہی ہے اور اندر سے اس کا مقصد کچھ اور ہے۔ محمد ﷺ کے سیاسی عزائم ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح حکومت مجھ کو مل جائے اور میرا تسلط قائم ہوجائے ، اس کا صداقت و حقانیت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ ایک گہری سازش ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ کوئی دوسرا میرا شریک نہ ہو بلکہ میں اکیلا ہی حکومت کروں اور علاوہ ازیں اس کا کوئی مقصد نہیں ہے۔
Top