Urwatul-Wusqaa - Saad : 66
رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ
رَبُّ : پروردگار السَّمٰوٰتِ : آسمانوں وَالْاَرْضِ : اور زمین وَمَا : اور جو بَيْنَهُمَا : ان دونوں کے درمیان الْعَزِيْزُ : غالب الْغَفَّارُ : بڑا بخشنے والا
(وہی) رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ اس کے درمیان ہے وہ بڑا زبردست بہت بخشنے والا ہے
وہ آسمانوں اور زمین کا رب ہے عزت والا اور بخشنے والا ہے۔ 66۔ نبی اعظم وآخر محمد ﷺ سے کہا جا رہا ہے کہ ان لوگوں کے سامنے اپنی تعلیم کا خلاصہ کھول کر رکھ دو جو یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور جن کو تم نے معبود بنا رکھا ہے سب کے سب اللہ کے نیک بندے تھے ان میں سے ایک بھی نہیں جو اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں سے کسی چیز میں بھی اللہ تعالیٰ کا شریک ہو وہ اپنی ذات میں اور اپنی جملہ صفات میں یکتا ہے اور سب پر غالب ہے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب اس کا ہے کوئی اس کا شریک اور ساجھی نہیں اور کوئی اس سے زیادہ طافتور نہیں کوئی کتنا ہی برا اور کتنا ہی زیادہ گناہگار ہو جب سچے دل سے توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف کردیتا ہے جب کہ اس کا وہ گناہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ خاص ہو یعنی حقوق العباد سے تعلق رکھنے والا نہ ہو وہ نہایت ہی مہربان اور اپنے بندوں سے شفقت کرنے والا ہے اور اس کی مخلوق کے ساتھ شفقت ہی کا یہ تقاضہ ہے کہ وہ حقوق العباد کو معاف نہ کرے جب تک کہ اس کے بندوں میں سے جس کے حقوق ہیں ان کو ادا نہ کردیا جائے یا صاھب حق سے حق معاف نہ کرالیا جائے۔
Top