Urwatul-Wusqaa - Saad : 68
اَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُوْنَ
اَنْتُمْ : تم عَنْهُ : اس سے مُعْرِضُوْنَ : منہ پھیرنے والے (بےپرواہ ہو)
اور تم کسی طرف التفات نہیں کرتے
حالانکہ تم ہو کہ اس سے منہ پھیر رہے ہو کہ گویا ایسا ممکن نہیں 68۔ تم اس خبر عظیم سے منہ موڑتے ہو اور کہتے ہو کہ ایسا ممکن نہیں ہو سکتا لیکن تم جس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اس بات پر تمہارے پاس کوئی دلیل بھی نہیں ہے کہ اللہ وحد لا شریک لہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود بھی ہے اس لیے تم اس کو مانو یا نہ مانو بلاشبہ یہ ایک حقیقت ہے اور اگر کوئی شخص ایک حقیقت کو حقیقت تسلیم نہ کرے تو کیا اس سے وہ حقیقت حقیقت نہیں رہتی ؟ مشرکین کہتے تھے کہ معبود بہت ہٰن جن میں سے ایک اللہ بھی ہے پھر تم نے سارے معبودوں کو ختم کر کے صرف اور صرف ایک معبود کیسے بنا ڈالا ؟ ان سے کہا جا رہا ہے کہ معبود حقیقی صرف ایک ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے کیونکہ وہ سب پر غالب ہے۔ زمین و آسمان کا مالک ہے اور کائنات کی ہرچیز اس کی ملکیت میں ہے اور اس کے علاوہ اس کائنات میں جن جن ہستیوں کو تم نے معبود بنا رکھا ہے ان میں سے کوئی ہستی بھی ایسی نہین ہے جو اس سے مغلوب اور اس کی مملوک نہ ہو پھر یہ مغلوب اور مملوک ہستیاں اس غالب اور مالک کے ساتھ خدائی میں شریک کیسے ہو سکتی ہیں اور آخر کس وجہ سے ان کو معبود قرار دے دیا گیا ہے ؟ اس کا جواب نہ اس وقت کے مشرکوں کے پاس تھا اور نہ ہی آج کے مشرک اس کا کوئی جواب دے سکتے ہیں تا ہم اس حقیقت کو نہ انہوں نے تسلیم کیا اور نہ ہی آج کے مشرک تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں ، انہوں نے بھی اعراض کیا اور منہ پھیرا اور یہ بھی اعراض کرتے اور منہ پھیرتے ہیں۔
Top