Urwatul-Wusqaa - Saad : 71
اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ
اِذْ قَالَ : جب کہا رَبُّكَ : تمہارا رب لِلْمَلٰٓئِكَةِ : فرشتوں کو اِنِّىْ : کہ میں خَالِقٌۢ : پیدا کرنے والا بَشَرًا : ایک بشر مِّنْ طِيْنٍ : مٹی سے
(وہ وقت یاد کرو) جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے انسان کو پیدا کرنے والا ہوں
جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے بشر کو مٹی سے پیدا کرنے کا ذکر کیا 71۔ اس جگہ انسان کی پیدائش کا ذکر کرنے کے باعث لوگوں نے فرشتوں اور اللہ کے درمیان اس بحث کر جھگڑا قرار دے دیا حالانکہ یہ ذکر قرآن کریم میں بیسیوں بار کیا جا چکا ہے اور اس کی تفاصیل بھی پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکی ہیں لیکن ان میں سے کسی بات کو جھگڑا اور مخاصمت قرار نہیں دیا جاسکتا ہم قبل ازیں اس کی وضاحت کرچکے ہیں کہ یہ صرف انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کو بیان کرنا مقصود ہے اور انسان کو اس کی اصلیت سمجھانا مقصود ہے اس کے لیے انسان کے اندر ودیعت کی گئی قوتوں کو الگ الگ مشخص قرار دیا ہے تاکہ اس کی حقیقت کو انسان جز بز کر کے سمجھ لے کیونکہ یہ اس کی اپنی ذات ہی کی تھیوری ہے جس کو اکثر و بیشتر بھول جاتا ہے اور تفہیم کے اس طریقہ کی وضاحت قبل ازیں ہم نے عروۃ الوثقی ، جلد اول کی سورة البقرہ کی آیات 29 سے 39 تک ، جلد سوم میں سورة الاعراف کی آیت 11 سے 25 تک ، جلد چہارم میں سورة الحجر کی آیت 26 سے 44 تک ، جلد پنجم میں سورة بنی اسرائیل کی آیت 61 تا 65 ، سورة الکہف کی آیت 50 سے 53 تک ، سورة طہ کی آیت 116 سے 122 تک کردی ہے۔ اس واقعہ کو سمجھنے کے لیے ان مقامات کا مطالعہ کریں۔
Top