Urwatul-Wusqaa - Saad : 73
فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ
فَسَجَدَ : پس سجدہ کیا الْمَلٰٓئِكَةُ : فرشتے (جمع) كُلُّهُمْ : سب اَجْمَعُوْنَ : اکٹھے
پس (جب اس بشر کو خلیفہ بنا دیا گیا تو) سب ہی فرشتوں نے سجدہ (شکر) ادا کیا
فرشتوں نے اللہ کے حکم کو سر آنکھوں پر قبول کیا اور ہدایت الہٰی پر عمل کیا 73۔ زیر نظر آیت نے دو باتوں کی وضاحت کردی ایک یہ کہ فرشتے ایسی طاقتیں اور قوتیں ہیں جن میں سرکشی اور خود سری سرے سے پائی ہی نہیں جاتی گویا وہ نہایت فرمانبردار قوتیں اور طاقتیں ہیں یہی وجہ ہے کہ ان سب نے حکم الہٰی کو سر آنکھوں پر رکھا اور حکم الہٰی پر عمل کیا اور بلاشبہ انسان کو یہی طاقت وقوت نیکی کی راہ پر گامزن کردیتی ہے لیکن انسان جن قوی کا مجموعہ ہے اس میں دوسری طاقت کو بھی ودیعت کیا گیا ہے جس کو ابلیس کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اور جو طاقت سراسر خود سر اور سرکش ہے اس لیے انسان کے اندر یہ کش مکش فطری طور پر جاری ہے اور اسی کش مکش کے باعث وہ اشرف المخلوقات قرار پایا ہے کہ برائی کی طاقت رکھنے کے باوجود نیکی کی طرف جب وہ رغبت کرتا ہے اور برائی سے اجتناب کرتا ہے تو اسی باعث اس کو یہ شرف عطا کیا گیا ہے اور اس جنس انسان سے جب وہ طاقت و قوت غلبہ پا جاتی ہے جو طاقت و قوت ابلیس کہلاتی ہے تو وہ انسانیت کی بلند منزل سے اٹھا کر اس کو قعرمذلت میں پھینک دیتی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دنیاوی زندگی تو اس کی جیسی ہو وہ ہوتی ہی ہے لیکن اخروی زندگی کی ذلت اس کو ضرور حاصل ہوتی ہے کیونکہ انانیت اور کفر کا یہی نتیجہ ہوتا ہے۔
Top